Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

             لیکن ان میں سے بہت کا انجامِ کار جہنم ہے۔اس آیت کے لفظ ’’لِجَهَنَّمَ‘‘ کی ابتداء میں مذکور لام’’ لامِ عاقبت‘‘ ہے۔ عربی سے واقف حضرات اسے آسانی سے سمجھ لیں گے۔       

{لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا: ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفارکے ہولناک انجام کی وجہ بیان فرمائی کہ یہ جہنم کا ایندھن اس لئے بنے کہ ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ حق سے اِعراض کرکے آیاتِ الہٰیہ میں تَدَبُّر کرنے سے محروم ہوگئے حالانکہ یہی دل کا خاص کام تھا۔ ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ جن کے ساتھ وہ حق و ہدایت کا راستہ، اللہتعالیٰ کی روشن نشانیاں اور توحید کے دلائل نہیں دیکھتے۔ ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ قرآن کی آیات اور اس کی نصیحتیں قبول کرنے کیلئے نہیں سنتے اور قلب و حواس رکھنے کے باوجود وہ اُمورِ ِدین میں اُن سے نفع نہیں اٹھاتے لہٰذا یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ۲ / ۱۶۲)

کافروں کو جانوروں سے بد تر فرمائے جانے کی وجوہات:

             کفار کو جانوروں سے بد تر فرمانے کی متعدد وُجوہات ہیں :

(1)…جانوروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات سمجھنے، دیکھنے اور سننے کی قوت ہی نہیں لہٰذا اگر وہ نہ سمجھیں تو معذور ہیں لیکن کفار کے اعضا میں یہ قوت ہے، پھر بھی وہ اس سے کام نہیں لیتے لہٰذا وہ جانوروں سے بد تر ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ۲ / ۱۶۲)

(2)…چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضَرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے لیکن کافر جہنم کی راہ پر چل کر اپنا ضرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ص۳۹۶)

(3)…جانور اپنے مالک کے کہنے پر چلتے ہیں جبکہ کافر نافرمان ہیں کہ اپنے مالک ِ حقیقی خداوند ِ قُدوس کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں ا س لئے جانوروں سے بد تر ہیں۔ امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’آدمی روحانی ، شَہوانی ،سَماوی، اَرضی ہے جب اس کی روح شہوت پر غالب ہوجاتی ہے تو ملائکہ سے فائق ہوجاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۹، ص۳۹۶)

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں وہ جلد اپنا کیا پائیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں ، عنقریب اُنہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

{وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى:اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں۔} شانِ نزول: ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) اور ان کے اصحاب (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ )کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن دو کو کیوں پکارتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۰، ۲ / ۱۶۲)

            اور اس جاہل بے خِرَد کو بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں۔

اسماءِ حُسْنٰی کے فضائل:

            اَحادیث میں اسماءِ حسنیٰ کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے دو احادیث درج ذیل ہیں :

(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط والثّنیا فی الاقرار۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۲۹، الحدیث: ۲۷۳۶)

            حضرت علامہ یحیٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہٰیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (نووی علی المسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ۔۔۔ الخ، باب فی اسماء اللہ تعالٰی وفضل من احصاہا، ۹ / ۵، الجزء السابع عشر)

(2)…ایک روایت میں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کوقبول فرمائے گا۔(جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۱۴۳، الحدیث: ۲۳۷۰)

اللہ تعالٰی کے ننانوے اَسماء :

            حدیثِ پاک میں اللہ تعالیٰ کے یہ ننانوے اسماء بیان کئے گئے ہیں : ’’ہُوَ اللہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِءُ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَہَّارُ الْوَہَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ الْحَکَمُ الْعَدْلُ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الْحَلِیْمُ الْعَظِیْمُ الْغَفُوْرُ الشَّکُورُ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ الْحَفِیظُ الْمُقِیتُ الْحَسِیبُ الْجَلِیلُ الْکَرِیمُ الرَّقِیْبُ الْمُجِیبُ الْوَاسِعُ الْحَکِیمُ الْوَدُودُ الْمَجِیدُ الْبَاعِثُ الشَّہِیدُ الْحَقُّ الْوَکِیلُ الْقَوِیُّ الْمَتِینُ الْوَلِیُّ الْحَمِیدُ الْمُحْصِی الْمُبْدِءُ الْمُعِیدُ الْمُحْیِیْ الْمُمِیتُ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْاَوَّلُ الآخِرُ الظَّاہِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِی الْمُتَعَالِی الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّءُوْفُ مَالِکُ الْمُلْکِ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِیُّ الْمُغْنِی الْمَانِعُ الضَّارُّ النَّافِعُ النُّورُ الْہَادِی الْبَدِیعُ الْبَاقِی الْوَارِثُ الرَّشِیدُ الصَّبُورُ‘‘(ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۲-باب، ۵ / ۳۰۳، الحدیث: ۳۵۱۸)

اسماءِ حسنٰی پڑھ کر دعا مانگنے کابہترین طریقہ:

            اس موقع پراسمائے باری تعالیٰ پڑھ کر دعا مانگنے کا ایک بہترین طریقہ حاضرِ خدمت ہے’’ بزرگ فرماتے ہیں : جو شخص اس طرح دعا مانگے کہ پہلے کہے ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ یَارَحْمٰنُ، یَارَحِیْمُ ‘‘ پھر ’’رحیم‘‘ کے بعد سے تمام اسمائے مبارکہ حرفِ ندا کے ساتھ پڑھے (یعنی یِامَلِکُ، یَاقُدُّوْسُ، یَاسَلَامیونہی آخر تک) جب اسماء مکمل ہو جائیں تو یوں کہے ’’اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَنْ تَرْزُقَنِیْ وَجَمِیْعَ مَنْ یَّتَعَلَّقُ بِیْ بِتَمَامِ نِعْمَتِکَ وَدَوَامِ عَافِیَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن‘‘پھر دعا مانگے، ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ مراد پوری ہوگی اور کبھی دعا رد نہ ہو گی۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۰، ۳ / ۲۸۲)

{اَلَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖ:جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں۔} اللہ تعالیٰ کے ناموں میں حق و اِستقامت سے دور ہونا کئی طرح سے ہے ایک تو یہ ہے کہ  اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر



Total Pages: 191

Go To