Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا:اوراگر ہم چاہتے تو  آیتوں کے سبب اسے بلند مرتبہ کردیتے۔} یعنی اگر ہم چاہتے تو نافرمانی کرنے سے پہلے ہی اسے روک دیتے پھران آیات پر عمل کی وجہ سے اسے بلند مرتبہ عطا فرما کر اَبرار کی منازل میں پہنچا دیتے ، لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اس نے دنیا اور اس کی لذتوں کو آخرت اور اس کی نعمتوں پر ترجیح دینے میں اپنی خواہش کی پیروی کی۔ (قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ۴ / ۲۳۰، الجزء السابع، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ص۳۹۵، ملتقطاً)

لالچی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے علماء کے لئے نصیحت:

            اس آیت میں بلعم بن باعوراء کا حال بیان ہوا ،یہ شخص فضل و کمال کی اس منزل پر فائز تھا کہ گزشتہ کتابوں کا عالم تھا، اللہ تعالیٰ کا اسمِ اعظم اسے معلوم تھا، جو دعا مانگتا وہ قبول ہوتی تھی، اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے عرش کو دیکھ لیتا تھا، بارہ ہزار طلباء اس کے درس میں شریک ہو کر اس کی باتیں لکھا کرتے تھے۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ۲ / ۷۲۷)

             فضل و کمال کاا تنا بڑا مرتبہ پانے والا شخص جب اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا، دنیا کے مال اور اس کی نعمتوں کی طرف راغب ہو گیا، آخرت اور اس کی نعمتوں کو پسِ پشت ڈال دیا تو انجامِ کار جو کچھ اسے عطا ہوا تھا سب چھین لیا گیا،اس کا ایمان برباد ہو گیا اور دنیا و آخرت میں خائب و خاسِر ہوا۔ اس واقعے میں ان علماء کے لئے بڑی نصیحت ہے کہ جو اپنے علم کے ذریعے (یا اپنے علم کے باوجود) اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے اور دنیا کا مال اور اس کی نعمتیں طلب کرتے ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ۲ / ۱۶۰)

            یاد رہے کہ مال اور مرتبے کی حرص دین کے لئے انتہائی نقصان دِہ ہے اور قلبی لالچ کی وجہ سے لئے گئے مال میں برکت نہیں دی جاتی ،چنانچہ حضرت کعب بن مالک انصاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: دو بھوکے بھیڑئے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کیلئے نقصان دہ ہے۔ (ترمذی، کتاب الزہد، ۴۳-باب، ۴ / ۱۶۶، الحدیث: ۲۳۸۳)

            اور حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’ اے حکیم! یہ مال تروتازہ اور میٹھا ہے، جو اسے اچھی نیت سے لے تو اس میں اسے برکت دی جاتی ہے اور جو اسے قلبی لالچ سے لے گا تو اس میں ا سے برکت نہیں دی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو کھائے اور شکم سیر نہ ہو اور (یاد رکھو) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔( بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ہذا المال خضرۃ حلوۃ،  ۴ / ۲۳۰، الحدیث: ۶۴۴۱)

{فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ:تو اس کا حال کتے کی طرح ہے۔} اس آیت میں دنیا کے مال و متاع کی وجہ سے دین کے احکام پسِ پشت ڈالنے والے عالم کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کتا ایک ذلیل جانور ہے اور ذلیل تر کتا وہ ہے جو تھکاوٹ، شدت کی گرمی اور پیاس ہونے یا نہ ہونے کے باوجود ہر وقت زبان باہر نکال کر ہانپتا رہتا ہو۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ علمِ دین کی عزت و کرامت سے سرفراز فرمائے اور اسے لوگوں کے مال سے بے نیاز کر دے ، پھر وہ کسی حاجت و ضرورت کے بغیر صرف اپنی قلبی خساست اور کمینہ پن کی وجہ سے دین کے واضح احکام سے اعراض کر کے دنیا کے مال دولت اور منصب ومرتبے کی طرف جھکے اور اس خبیث عمل پر قائم رہے تو وہ ہانپنے والے کتے کی طرح ہے کہ ہر وقت ہانپنے والا کتا کسی حاجت کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی فطرت کی وجہ سے ہانپتا رہتا ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۶، ۵ / ۴۰۵)

درباری علماء کے لئے عبرت:

             اس آیت میں ان درباری علماء کیلئے بڑی عبرت ہے جو منصب و مرتبے، مُراعات و وظائف کے حصول کی خاطر حکام کی طبیعت کے مطابق فتوے اور ان کے موافق بیان دیتے ہیں۔ اگر یہ فتوے قرآن و حدیث کی صریح نصوص سے ٹکراتے ہوں تو انہیں ڈر جانا چاہئے کہ کہیں ان کا انجام بھی بلعم کی طرح نہ ہو جائے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کا گستاخ عالم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتے کی طرح ہے کہ نہ دنیا میں عزت نصیب ہو اور نہ آخرت میں کیونکہ بلعم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا منکر نہ تھا ، وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مخالف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے کتے کی بدترین حالت سے تشبیہ دی ۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْۚ-وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۱۷۸)وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ ﳲ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا٘-وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۷۹)

ترجمۂ کنزالایمان:جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے۔ اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جسے اللہ ہدایت دے تو وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جنہیں اللہ گمراہ کردے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جنات اور انسان پیدا کئے ہیں ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی ایسی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ سنتے نہیں ، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ،یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

{مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ:جسے اللہ ہدایت دے ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی دونوں کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جبکہ ان میں سے کسی کو اختیار کرنا بندے کی طرف سے ہے ،لہٰذا بندہ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو اللہتعالیٰ اس میں ہدایت پیدا فرما دیتا ہے اور اگر وہ گمراہی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں گمراہی پیدا فرما دیتا ہے۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۸، ۳ / ۲۷۹)

{وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ:اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کئے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بہت سے جِنّات اور انسانوں کا انجام جہنم میں داخلہ ہوگا۔ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا اصل مقصد تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت ہے جیسا کہ اِس آیت میں ہے :

’’ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘(الذاریات:۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔

 



Total Pages: 191

Go To