Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ:اور یاد کرو، جب ہم نے پہاڑ ان کے اوپر بلند کردیا۔} جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے توریت کے احکام قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر تھی یعنی تین میل لمبا اور تین میل چوڑا پہاڑ اُٹھا کر سائبان کی طرح اُن کے سروں کے قریب کردیا اور اُن سے کہا گیا کہ توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں گر گئے۔مگر اس طرح کہ بایاں رخسارا ورابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور دائیں آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر ہی نہ پڑے، چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۱، ۲ / ۷۲۳)

قرآنِ کریم کا آہستہ آہستہ نزول اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا 23 سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ اتر نا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاص رحمت ہے کہ اس طرح مسلمانوں کو تمام احکامات پر عمل آسان ہو گیا۔ آزاد طبیعت ایک دم سارے احکام کی پابندی میں دِقت محسوس کرتی ہے ۔

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْؕ-قَالُوْا بَلٰىۚۛ-شَهِدْنَاۚۛ-اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ(۱۷۲) اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْۚ-اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ(۱۷۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبو ب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔ یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہلِ باطل نے کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا (اور فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ سب نے کہا: کیوں نہیں ، ہم نے گواہی دی۔ (یہ اس لئے ہوا)تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔یایہ کہنے لگو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد (ان کی) اولاد ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہلِ باطل نے کیا۔

{وَ اِذْ:اور اے محبوب! یاد کرو ۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ ’’ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی‘‘ جبکہ  حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت سے ان کی ذُرِّیَّت نکالی۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الاعراف ، ۵۱:۵ ، الحدیث : ۳۰۸۶)

آیت و حدیث دونوں پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذریت نکالنا اسی ترتیب کے ساتھ ہواجس طرح دنیا میں انہوں نے ایک دوسرے سے پیدا ہونا تھا یعنی حضرت  آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت سے ان کی اولاد اور اولاد کی پشت سے ان کی اولاد اسی طرح قیامت تک پیداہونے والے لوگ ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کیلئے رَبوبیت اور وحدانیت کے دلائل قائم فرما کر اور عقل دے کر اُن سے اپنی ربوبیت کی شہادت طلب فرمائی تو سب نے کہا:کیوں نہیں ، ہم نے اپنے اوپر گواہی دی اور تیری ربوبیت اور وحدانیت کا اقرار کیا۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۲ / ۱۵۶)

{اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ:کہ تم قیامت کے دن کہو۔} اس آیت اور بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے والو! یہ گواہ بنانا اس لئے تھا تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہم جو شرک و کفر میں مبتلا رہے ہیں اس میں ہمارا قصورنہیں ،کیونکہ ہمیں خبر تھی ہی نہیں کہ تو ہی ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اور تیرے سوا کوئی بھی رب نہیں اور اے ربِّ کریم !تو بے خبر کو نہیں پکڑتا ،لہٰذا ہمیں چھوڑ دے اور عذاب نہ دے اور نہ ہی یہ کہہ سکو کہ ’’ہم کفر و شرک میں اس لئے بے قصور ہیں کہ ہمارے باپ دادا مشرک تھے ہم تو ان کی وجہ سے شرک میں مبتلاہوئے، قصور ان کاہے نہ کہ ہمارا۔ انہیں یہ باتیں کہنے کا حق اس لئے نہ ہوگاکہ جب اُن سے عہدِ میثاق لے لیا گیا اور یہ بات ان کے دلوں کی تہہ میں رکھ دی گئی اوراس عہد کی یاددہانی کیلئے اُن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے اس عہد کو یاد دلایا، کتابیں اتریں اور ان کے سامنے حق بیان کردیا گیا تو  اب یہ عذر کرنے کا ان کے پاس موقع نہ رہا۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۲ / ۱۷۸)

سورہِ اعراف کی آیت نمبر172اور173سے معلوم ہونے و الے احکام:

            ان آیات سے 3احکام معلوم ہوئے

(1)… عمومی طور پرشرعی احکام میں بے خبری معتبر نہیں ، کوئی یہ عذر پیش کر کے کہ مجھے معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں چھوٹ سکتا۔ ہر شخص پر فرض ہے کہ ضرورت کے مطابق دینی مسائل سیکھے ۔

(2)… عقائد میں باپ دادوں کی تقلید درست نہیں ، اللہتعالیٰ نے عقل دی ہے لہٰذا خود تحقیق کر کے درست عقیدے اختیار کرنے چاہئیں۔

(3)… گناہ کی بنیاد ڈالنااگرچہ سخت تر جرم ہے مگر بعد میں دوسرے لوگ یہ گناہ کرنے والے بھی مجرم ہوں گے ،وہ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ ہم چونکہ اس گناہ کو ایجاد کرنے والے نہیں اس لئے قصور وار بھی نہیں۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۱۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں اور اس لیے کہ وہ رجوع کرلیں۔

{وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ:اور ہم اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس طرح آپ کی قوم کے سامنے ہم نے اس سورت کی آیات تفصیل سے بیان کی ہیں ہم ان کے علاوہ آیات بھی اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ بندے تَدَبُّرو تفکر کرکے حق و ا یمان قبول کریں اور اس لیے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں تا کہ وہ شرک و کفر سے توحید و ا یمان کی طرف رجوع کر لیں اور صاحبِ معجزات نبی کے بتانے سے اپنے عہدِ میثاق کو یاد کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ (تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۴، ۶ / ۱۱۸،



Total Pages: 191

Go To