Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

آئیں۔

{وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا:اور ہم نے انہیں زمین میں مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم نے یہودیوں کی جمعیت کو مُنْتَشِر کر دیا اور ان کا شیرازہ بکھیر دیا اور اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، موجودہ یہودیوں میں کچھ نیک بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور رسُول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر ایمان لائے اور دین پر ثابت رہے اور ان کے علاوہ کچھ ایسے ہیں کہجنہوں نے نافرمانی کی ، کفر کیا اور دین کو بدل ڈالا ۔ اور ہم نے انہیں خوشحالیوں اور بدحالیوں سے آزمایا اس طرح کہ کبھی ان پر اَرزانی ، تندرستی اور دنیوی عزت کے دروازے کھول دئیے اور کبھی ان پر قحط ، بیماریوں ، مصیبتوں اور ذلتوں کو مُسلَّط کر دیا تا کہ وہ اپنی نافرمانیوں سے لوٹ آئیں کیونکہ بعض تو مصیبت میں رب عَزَّوَجَلَّکی طرف رجوع کر تے ہیں اور بعض راحتوں میں۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَاۚ-وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُؕ-اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِؕ-وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ایسے برے جانشین آئے جو کتاب کے وارث ہوئے وہ اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری مغفرت کردی جائے گی حالانکہ اگر ویسا ہی مال ان کے پاس مزید آجائے تو اسے (بھی) لے لیں گے۔ کیا کتاب میں ان سے یہ عہد نہیں لیا گیا تھا؟ کہ اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا کچھ نہ کہیں گے اور وہ پڑھ چکے ہیں جو اس کتاب میں ہے اور بیشک آخرت کاگھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر ہے،تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟

{ فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ:پھر ان کے بعد ایسے برے جانشین آئے۔} اس آیت میں بنی اسرائیل کے ناخلف جانشینوں کے چند عیب بیان کئے گئے ہیں :

(1)… وہ رشوت لے کر توریت کے احکام بدل دیتے۔

(2)… نافرمانی کے باوجود یہ کہتے کہ ہمارا یہ گناہ بخش دیا جائے گا ا س پر ہماری پکڑ نہ ہو گی۔

(3)… اس جرم پر قائم رہے کہ جب رشوت ملی اسے لے کر شرعی حکم بدل دیا۔

(4)…یہ سارے جرم نادانی میں نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ کرتے رہے۔

نافرمانیوں کے باوجود بخشش کی تمنا رکھنا کیسا ہے؟:

             اس آیت میں یہودیوں کی ایک سرکشی یہ بیان ہوئی کہ ’’ نافرمانیوں کے باوجود وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اورا س پر ان کی پکڑ نہ ہو گی‘‘ یہودیوں کی ا س سر کشی کی بنیاد یہ تھی کہ یہ لوگ اس زعم میں مبتلا تھے کہ ہم انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے ہیں اس لئے  ان گناہوں پر ہم سے کچھ مُؤاخذہ نہ ہوگا۔ فی زمانہ بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں کہ جو اپنی بد اعمالیوں کے باوجود خود کوآخرت کے اجرو ثواب کا حق دار سمجھتے ہیں یونہی بعض سمجھدار قسم کے لوگ شیطان کے اس دھوکے میں پھنس کر گناہوں میں پڑے رہتے ہیں کہ ہم اگرچہ گناہگار ہیں لیکن فلاں کامل پیر صاحب کے مرید ہیں لہٰذا ہم بخشے جائیں گے اور گناہوں پرہماری پکڑ نہ ہو گی۔ ایسے حضرات خود ہی غور کر لیں کہ ان کا یہ طرزِ عمل کن کی عکاسی کر رہا ہے، شائد یہ وہی دور ہے کہ جس کی خبر اس روایت میں دی گئی ہے، حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ عنقریب لوگوں کے سینوں میں قرآن اس طرح بوسیدہ ہو جائے گا جس طرح کپڑا بوسیدہ ہو کر جھڑنے لگتا ہے، وہ کسی شوق اور لذت کے بغیر قرآنِ پاک کی تلاوت کریں گے، ان کے اعمال صرف طمع اور حرص ہوں گے۔وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے گناہوں میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ برے کام کرنے کے باوجود تبلیغ کریں گے اور کہیں گے کہ عنقریب ہماری بخشش کر دی جائے گی کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ (دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی تعاہد القرآن، ۲ / ۵۳۱، الحدیث: ۳۳۴۶)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ہر وہ تَوَقُّع جو تو بہ یا عبادت میں سُرُور کی رغبت پیدا کرے وہ رَجاء (یعنی امید) ہے اور ہر وہ امید جو عبادت میں فُتور اور باطل کی طرف جھکاؤ پیدا کرے تو وہ دھوکہ ہے جیسے کسی شخص کے دل میں خیال پیدا ہو کہ وہ گناہ کو ترک کردے اور عمل میں مشغول ہوجائے اور شیطان اس سے کہے کہ تم اپنے آپ کو کیوں عذاب اور تکلیف میں ڈالتے ہو، تمہارا رب کریم ہے، غفور ہے، رحیم ہے اور وہ (اس وجہ سے) توبہ اور عبادت میں سستی کرنے لگے تو ایسا شخص دھوکے میں مبتلا ہے، اس صورت میں بندے پر لازم ہے کہ وہ نیک اعمال کرے اور اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے بہت بڑے عذاب سے ڈرائے اور کہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہونے کے ساتھ ساتھ سخت عذاب دینے والا بھی ہے، وہ اگرچہ کریم ہے لیکن وہ کفار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈالے گا حالانکہ ان کا کفر اس کاکچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا بلکہ وہ عذاب، مشقت، بیماریا ں ، فقر اور بھوک وغیرہ جس طرح دنیا میں بندوں پر مُسلَّط کرتا ہے اسی طرح وہ اِن چیزوں کو اُن سے دور بھی کرسکتا ہے تو جس کا اپنے بندوں کے ساتھ یہ طریقہ ہے اور اس نے مجھے اپنے عذاب سے ڈرایا ہے تو میں اس سے کیسے نہ ڈروں اور میں کس طرح اس سے دھوکے میں رہوں۔

            پس خوف اور امید دوراہنما ہیں جو لوگوں کو عمل کی ترغیب دیتے ہیں اور جو بات عمل کی رغبت پیدا نہ کرے وہ تمنا اور دھوکہ ہے اور اکثر لوگ جو امید لگائے بیٹھے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ عمل میں کوتاہی کرتے ہیں ، دنیا کی طرف متوجہ رہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر تے ہیں اور آخرت کے لئے عمل نہیں کرتے تووہ دھو کے میں ہیں۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اس بات کی خبردی اور بیان فرمایا کہ’’ عنقریب اس امت کے پچھلے لوگوں کے دلوں پر دھوکہ غالب ہوجائے گا۔ آپ نے جو فرمایا وہ ہو کررہا ،جیسا کہ پہلے زمانے کے لوگ دن رات عبادت اور نیک اعمال کرتے رہتے تھے اس کے باوجود اُن کے دلوں میں یہ خوف رہتا تھا کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، وہ رات دن عبادت میں گزارنے کے باوجود اپنے نفسوں کے بارے میں خوفزدہ رہتے



Total Pages: 191

Go To