Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کیا اور فرمایا ’’کیا میں تمہارے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یعنی خدا وہ نہیں ہوتا جو تراش کر بنالیا جائے بلکہ خدا وہ ہے جس نے تمہیں فضیلت دی کیونکہ وہ فضل واحسان پر قادر ہے تو وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے فضل و احسان کا تقاضا ہے کہ اس کا شکر اور حق ادا کیا جائے نہ کہ ناشکری اور شرک کیا جائے۔

{ وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ:اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں نجات دی۔} اس آیت کی تفسیر سورۂ بقرہ آیت 49میں گزر چکی ہے۔ اس مقام پر یہ آیت ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے تم پر یہ عظیم انعام فرمایا تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت میں مشغول ہونا کیسے روا ہو گا؟ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۱، ۵ / ۳۵۱)

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةًۚ-وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِـعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس (راتوں ) کا اضافہ کر کے پورا کردیا تو اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کاپورا ہوگیا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا:تم میری قوم میں میرا نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کے راستے پر نہ چلنا۔

{ وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى:اور ہم نے موسیٰ سے وعدہ فرمایا۔} اس آیت میں تورات نازل ہونے کی کیفیت کا بیان ہے ۔

نُزولِ تورات کا واقعہ :

            اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مصر میں بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ اُن کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے گا تو وہ اُن کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کر دیاتو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے اُس کتاب کو نازل فرمانے کی درخواست کی، انہیں حکم ملا کہ تیس روزے رکھیں ،یہ ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روزے پورے کرچکے تو آپ کو اپنے دہن مبارک میں ایک طرح کی بو معلوم ہوئی ، اس وجہ سے آپ نے مسواک کر لی۔ فرشتوں نے ان سے عرض کی: ’’ ہمیں آپ کے دہن مبارک سے بڑی محبوب خوشبو آیا کرتی تھی، آپ نے مسواک کرکے اس کو ختم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم فرمایا کہ ماہ ذی الحجہ میں دس روزے اور رکھیں اور ارشاد فرمایا کہ ’’ اے موسیٰ !کیا تمہیں معلوم نہیں کہ روزے دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک مشک کی خوشبوسے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۳ / ۵۶، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ص۳۸۴، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۵ / ۳۵۱-۳۵۲، ملتقطاً)

{ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ:اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پہاڑ پر مناجات کے لئے جاتے وقت اپنے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا ’’تم میرے واپس آنے تک میری قوم میں میرے نائب بن کر رہو اور بنی اسرائیل کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، ان کے ساتھ بھلائی کرنا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارنا اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں کے طریقے پر نہ چلنا جو زمین میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی کر کے اور گناہگاروں کی ان کے گناہ پر مدد کر کے فساد برپا کرتے ہیں بلکہ جو لوگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے اطاعت گزار بندے ہیں ان کے طریقے کو اختیار کرنا۔(بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۲ / ۱۶۳، تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۶ / ۴۹)

            یاد رہے کہ یہاں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جو اصلاح اور صحیح راستے پر چلنے کا فرمایا وہ حقیقت میں آپ کے واسطے سے بنی اسرائیل کو فرمایا تھا ورنہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتو فسادیوں کے راستے پر چلنے سے معصوم ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ فرمانا بطورِ تاکید و اِستقامت کے ہو۔

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ-قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ-فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نو ر چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ ہمارے وعدے کے وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا،تو اس نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں۔(اللہ نے) فرمایا: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا، البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تواسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر گئے پھر جب ہوش آیا تو عرض کی: تو پاک ہے ، میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔

{وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ:اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا۔} اسآیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم اس کلام کی حقیقت سے بحث کرسکیں۔ کتابوں میں مذکور ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے ایک بادل نازل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے چار فرسنگ (یعنی12میل) کی مقدار ڈھک لیا۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتّٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیحدہ کردیئے گئے۔ آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الہٰی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اوراللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کی بارگاہ میں اپنے معروضات پیش کئے، اُس نے اپنا کلام کریم سنا کر نوازا۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آپ کے ساتھ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جو کچھ فرمایا وہ اُنہوں نے کچھ نہ سنا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا۔ (خازن، الاعراف، تحت



Total Pages: 191

Go To