Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کرنے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اس سے فرمایا: میں ربُّ العالمین کی طرف سے تیری جانب اور تیری قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۲ / ۱۲۴)

            نوٹ:سورۂ شعراء اور سورۂ طٰہٰ میں اس سے پہلے کا تفصیلی واقعہ مذکورہے۔

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: میری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں۔ بیشک میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کرآیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔

{ حَقِیْقٌ:میری شان کے لائق یہی ہے ۔} حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کلام سن کر فرعون نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو، اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’میری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں کیونکہ رسول کی یہی شان ہے کہ وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۳۷۸)اور میں تمہارے پاس تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزات لے کرآیا ہوں۔

{ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ:تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔} جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی رسالت کی تبلیغ سے فارغ ہوئے تو چونکہ آپ کا رسول ہونا ثابت ہو چکا تھا اور فرعون پر آپ کی اطاعت فرض ہو گئی تھی اس لئے آپ نے فرعون کوحکم فرمایا: ’’ تو بنی اسرائیل کواپنی غلامی سے آزاد کردے تاکہ وہ میرے ساتھ ارضِ مُقَدَّسہ میں چلے جائیں جو اُن کا وطن ہے۔ بنی اسرائیل کی غلامی کا سبب یہ ہو اتھا کہ حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وجہ سے اپنے وطن فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہو گئی، مصر میں ان کی نسل کافی بڑھی، جب  فرعون کی حکومت آئی تو اس نے انہیں اپنا غلام بنا لیا اور ان سے جبری مشقت لینا شروع کر دی ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ا س غلامی سے نجات دلانا چاہی اور فرعون سے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے تاکہ یہ اپنے آبائی وطن میں آباد ہوں۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۲ / ۶۹۷)

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۰۶)فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ(۱۰۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو۔تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  کہا:اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو اگرتم سچے ہو۔  تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔

{ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَا:کہا:اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو۔}اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اگرآپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنا عصا زمین پرڈال دیا ،وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۶-۱۰۷، ۲ / ۱۲۴)

عصائے کلیم اژدہائے غضب:

            تفسیر صاوی میں ہے ’’جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے لاٹھی پھینکی تو وہ زرد رنگ کا ایک بال دار اژدہا بن گئی، اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان تقریباً ایک سو بیس فٹ کا فاصلہ تھا ،وہ اپنی دم پر کھڑا ہو گیا ،اس کا ایک جبڑا زمین پر تھاا ور دوسرا جبڑا فرعون کے محل کی دیوار پر تھا، وہ اژدہا فرعون کو پکڑنے کے لئے دوڑا تو فرعون اپنا تخت چھوڑ کربھاگ گیا۔( صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲ / ۶۹۷)

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠(۱۰۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا۔

{وَنَزَعَ یَدَهٗ:اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا۔} اس آیت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دوسرے معجزے کا ذکر ہے کہ آپ نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا اور اس کی روشنی اور چمک نورِ آفتاب پر غالب ہوگئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر پوچھا کہ’’ یہ کیا ہے؟ فرعون نے جواب دیا :آپ کا ہاتھ ہے۔ پھر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا پنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ جگمگانے لگا۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۳۷۸)

دستِ اقدس کا کمال:

             یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مبارک ہاتھ کا کمال تھا ،اب سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس کا کمال ملاحظہ فرمائیے، چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم         موجزن دریائے نورِ بے مثالی ہاتھ میں

یعنی اے پیارے موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چمکتے ہوئے نورانی ہاتھ! تیری بڑی شان ہے لیکن ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے دستِ کرم کی ہر لکیر سے نور کا ایک بے مثال دریا موجزن ہے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہر لکیر کی یہ شان ہے تو پورے دستِ اقدس کی عظمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ(۱۰۹)

 



Total Pages: 191

Go To