Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سو رہے ہوں۔یا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں پڑے ہوئے ہوں۔

{ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى:کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے۔} یہاں بستیوں والوں سے مراد مکہ مکرمہ اور آس پاس کی بستیوں والے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہراُس بستی کے افراد ہیں جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے نبی کو جھٹلایا۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ان کی غفلت کے اوقات میں مثلاً رات کو سوتے وقت یا دن میں اس وقت جب یہ کھیل کود میں پڑے ہوں ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نازل ہو جائے کیونکہ عذابِ الہٰی اکثر غفلت کے وقت آتا ہے اور غفلت زیادہ تر رات کے آخری حصے میں یا پورے دن چڑھے ہوتی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۷، ۲ / ۱۲۲)

نیک اعمال کرنے اور عذابِ الٰہی سے ڈرنے کی ترغیب:

            ان آیات میں جہاں کفار کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہیں مسلمانوں کو بھی نیک اعمال کرنے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ‘‘(اٰل عمران:۱۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔

             حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے مسلمانوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں جس چیز کی رغبت دی ہے اس میں رغبت رکھو اور جس چیز سے یعنی اپنے عذاب، جھڑک اور جہنم سے ڈرایا ہے تو اس سے بچو اور ڈرو۔ اگر جنت کا ایک قطرہ تمہارے ساتھ دنیا میں ہو جس میں تم اب موجود ہو تو وہ تمہارے لئے اسے اچھا کر دے اور اگر جہنم کا ایک قطرہ تمہاری اس دنیا میں آجائے تو وہ اسے تم پر خراب کر دے(البعث والنشور للبیہقی، باب ما جاء فی طعام اہل النار وشرابہم، ص۳۰۳، الحدیث: ۵۴۶)۔[1]

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر ہیں تو اللہکی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ اللہکی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔

{ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ:کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں۔} مکر کے لغوی معنی ہیں ’’خفیہ تدبیر‘‘  جبکہ عام محاورہ میں دھوکہ اور فریب کو’’ مکر‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں اس کا لغوی معنی یعنی خفیہ تدبیر مراد ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے خاص غضب کا ذکر ہے چنانچہ فرمایا گیا ’’کیا کفار اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمتیں دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں سن لو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں اور اس کے مخلص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں۔

اللہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے :

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف کا دل سے نکل جانا سخت نقصان کا سبب ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّکی ڈھیل یا اس کا کسی بندے کو گناہ پر نہ پکڑنا یہ اس کی خفیہ تدبیر ہے لہٰذا ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ترغیب کے لئے چند حکایات پیش کی جاتی ہیں۔

(1)…حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے تو رحمت ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے دریافت کیا’’اے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے عرض کی: جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے ، میری آنکھیں اُس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں۔ (شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱ / ۵۲۱، الحدیث: ۹۱۵)

(2)… جب ابلیس کے مردود ہونے کا واقعہ ہوا تو حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیلعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رونے لگےتو رب تعالیٰ نے دریافت کیا (حالانکہ وہ سب جانتا ہے) ’’تم کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کی:اے رب عَزَّوَجَلَّ! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم اسی حالت پر رہنا (یعنی کبھی مجھ سے بے خوف مت ہونا)۔( احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان احوال الانبیاء والملائکۃ۔۔۔ الخ، ۴ / ۲۲۳)

(3)…حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک باغ کی دیوار کے پاس دیکھا کہ وہ اپنے آپ سے فرما رہے تھے ’’واہ ! لوگ تجھے امیر المؤمنین کہتے ہیں  اور تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتا ، اگر تونے رب تعالیٰ کا خوف نہ رکھا تو اس کے عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ (کیمیائے سعادت، رکن چہارم: منجیات، اصل ششم، مقام سیم، ۲ / ۸۹۲)

(4)…حضرت ربیع بن خیثم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی صاحب زادی نے ان سے کہا :ابا جان! میں دیکھتی ہوں کہ سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: اے میری نورِ نظر! تیرا باپ رات کو سونے سے ڈرتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کااشارہ اوپر مذکور آیت کی طرف تھا۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۹، ص۳۷۷)

(5)… حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچالیس برس تک نہیں ہنسے ، جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ، جب اُن سے اس قدر غمگین وخوف



[1]    نیک اعمال کی رغبت اور جذبہ پانے اور اپنے دلوں میںاللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف اجاگر کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے ساتھ وابستگی مفید ہے۔



Total Pages: 191

Go To