Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیااور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اِس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا اوروہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔

{ اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا:جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا۔} اس آیت میں کفار کی ایک بری صفت بیان کی جا رہی ہے کہ ان کفار نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اس طرح کہ اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتے ہوئے جسے چاہا حرام کہہ دیا اور جسے چاہا حلال قرار دے دیا اور جب انہیں ایمان قبول کرنے کی دعوت دی گئی تو یہ ایمان والوں سے مذاق مسخری کرنے لگ گئے، انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دیا کہ  دنیا کی لذتوں میں مشغول ہو کر اپنے اخروی انجام کو بھول گئے اور اہل و عیال کی محبت میں گرفتار ہو کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت سے دور ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی محبت سخت خطرناک ہے۔ اسی لئے حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ (جامع الاصول فی احادیث الرسول، الرکن الثانی، حرف الذال، الکتاب الثالث فی ذمّ الدنیا، الفصل الاول، ۴ / ۴۵۷، الحدیث: ۲۶۰۳)

{ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ:تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے۔} یعنی کفار نے دنیا میں جو معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق میں روا رکھا تھا قیامت کے دن اس کا انجام ان کے سامنے آجائے گا چونکہ انہوں نے قیامت کا خیال تک چھوڑ رکھا تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اُن کے اس بھولنے کا بدلہ دے گا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف نِسیان کی نسبت کا مطلب کفار کے نسیان (یعنی بھولنے) کا بدلہ دینا ہے۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک عظیم علم کی بنا پربڑی تفصیل سے بیان کیا، ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

{ وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ:اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے۔} کتاب سے مراد قرآنِ پاک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل علم کی بناپر بڑی تفصیل سے بیان کیاکہ اس میں انسانی ہدایت کیلئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ تمام چیزیں بیان فرمادیں اور جس چیز کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دعوت دی اس کی حقانیت کے زبردست دلائل قائم فرمائے اور اسے بار بار دلنشین انداز اور حسین پیرایوں میں بیان کیا ۔ قرآنِ پاک عقائد ِ حقہ اور اعمالِ صالحہ کے بیان کا حسین مجموعہ ہے۔ قرآن کی رحمتِ عامہ توسارے عالم کیلئے ہے کہ ساری دنیا کو ایک ہدایت نامہ مل گیا مگر رحمتِ خاصہ صرف مومنوں کیلئے ہے کیونکہ اس سے نفع صرف وہی اٹھاتے ہیں۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗؕ-یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّۚ-فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُؕ-قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ توصرف قرآن کے کہے ہوئے آخری انجام کا انتظار کررہے ہیں۔ جس دن وہ آخری انجام آئے گا تو جو اِس سے پہلے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ تشریف لائے تھے ،توہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کردیں ؟یا ہمیں واپس بھیج دیا جائے تو ہم جو پہلے عمل کیا کرتے تھے اس  کے برخلاف اعمال کرلیں۔ بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوگئے جویہ بہتان باندھتے تھے۔

{ هَلْ یَنْظُرُوْنَ:کاہے کی راہ دیکھتے ہیں۔} یعنی وہ کفار جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا، ان کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے وہ صرف اس قرآن کے بیان کئے ہوئے آخری انجام کا انتظار کررہے ہیں حالانکہ قیامت کے دن جب اس قرآن کا بتایا ہوا نجام آئے گا تو وہ کافرجو اس سے پہلے بھولے ہوئے تھے،نہ اس پر ایمان لاتے تھے اورنہ اس کے مطابق عمل کرتے تھے اقرا ر کرتے ہوئے بول اٹھیں گیکہ بیشک ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ کے رسول جو تعلیمات لائے تھے وہ سب حق تھیں یعنی حشر و نشر، قیامت کے دن اٹھنا اور ثواب و عذاب یہ سب حق ہے۔ لیکن اس وقت ان کا اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا اور جب اپنی جانوں کو عذاب میں دیکھیں گے اور یہ نظارہ کریں گے کہ مسلمانوں کی شفاعت ہورہی ہے اور انبیاء و اولیاء ، علماء و صلحاء ،چھوٹے بچے، ماہِ رمضان اور خانہ کعبہ وغیرہ شفاعت کررہے ہیں ، تب کف ِافسوس ملتے ہوئے کہیں گے’’ ہے کوئی جو ہماری بھی سفارش کردے اور اگر یہ نہیں تو ہمیں دنیا میں ہی واپس بھیج دیا جائے تاکہ پہلے جو اعمال کئے تھے انہیں چھوڑ کر نیک اعمال کرلیں ، کفر کی بجائے ایمان لے آئیں ، معصیت ونافرمانی کی بجائے اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرلیں مگر نہ اُنہیں کسی کی شفاعت نصیب ہو گی اورنہ دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان اور عمل کا وقت ضائع کر کے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور اب پچھتانے کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔

{ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ:اور ان سے کھوگئے ۔} کفار جوکہتے تھے کہ بت خدا کے شریک ہیں اور اپنے پجاریوں کی شفاعت کریں گے، اب آخرت میں اُنہیں معلوم ہوگیا کہ اُن کے یہ دعوے جھوٹے تھے۔

جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال بیان کرنے کا مقصد:

            اوپر متعدد آیات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے، ان کے مکالمے، جنتیوں کی نعمتیں اور جہنمیوں کے عذاب، جنتیوں کی خوشیاں اور جہنمیوں کی حسرتیں یہ سب چیزیں بیان کی گئیں۔ آیات میں جو کچھ بیان ہوا اس میں بنیادی طور پر مسلمانوں اور کافروں کے انجام کا بیان کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ اصحاب ِ اعراف کا بھی بیان ہے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے۔ اب یہاں مسلمانوں کا ایک وہ گروہ بھی ہوگا جن کے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہوں گی اور یونہی وہ لوگ بھی ہوں گے جو نیکیوں کے باوجود کسی گناہ پر پکڑے جائیں گے۔ ان تمام چیزوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو کفر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے،اس میں وہ تمام ذرائع مثلاً فلمیں ، ڈرامے، مزاحیہ پروگرام اور دینی معلومات کی کمی داخل ہیں جو آج کے زمانے میں کفریات کا سبب بنتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ کوئی مسلمان ہمیشہ کیلئے جہنم میں نہیں جائے گا لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ کچھ



Total Pages: 191

Go To