Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ہمارے رب!بیشک ہم نے ایک ندادینے والے کو ایمان کی ندا (یوں ) دیتے ہوئے سنا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس اے ہمارے رب !تو ہمارے گنا ہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں مٹادے اور ہمیں نیک لوگوں کے گروہ میں موت عطا فرما۔ اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ سب عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کرنا۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گاوہ مرد ہو یا عورت ۔تم آپس میں ایک ہی ہو،پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اورانہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ)اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

                جنتیوں کا جہنمیوں سے کلام کرنا ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے کیلئے ہوگا کیونکہ دنیا میں عموماً کافر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور انہیں طعنے دیتے تھے اور ان پر پھبتیاں کستے تھے۔ آج اس کا بدلہ ہورہا ہوگا۔

{ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ:پھر ایک ندا دینے والا پکارے گا ۔}پکارنے والے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں یا دوسرا فرشتہ جس کی یہ ڈیوٹی ہوگی اور ظالمین سے مراد کفار ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے معلوم ہو رہا ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاۚ-وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان:جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اورا سے کجی چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اسے ٹیڑھا (کرنا ) چاہتے ہیں اور وہ آخرت کا انکارکرنے والے ہیں۔

{ اَلَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ:جواللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔} یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّنے جہنمیوں کو ظالم قرار دیا اور ان کے اوصاف یہ بیان کئے کہ وہ دوسروں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے سے روکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں تبدیلی چاہتے تھے کہ دینِ الہٰی کو بدل دیں اور جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اس میں تغیر ڈال دیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۴۵، ۲ / ۹۵) تیسرا وہ قیامت کا انکار کرتے تھے۔

مسلمان کہلانے والے بے دین لوگوں کا انجام:

            یہاں یہ وعیدیں بطورِ خاص کافروں کے متعلق ہیں لیکن جو مسلمان کہلانے والے بھی دوسروں کو دین پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دین میں تحریف و تبدیلی چاہتے ہیں جیسے بے دین و ملحدلوگ جو دین میں تحریف و تغییر کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ایسے لوگ بھی کوئی کم مجرم نہیں بلکہ وہ بھی جہنم کے مستحق ہیں۔

جنتیوں اور جہنمیوں کے باہمی مکالمے:

            یہاں آیت ِ مبارکہ میں جیسا مکالمہ بیان کیا گیا ہے جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایسے مکالمے قرآنِ پاک میں اور جگہ بھی مذکور ہیں چنانچہ سورۂ صافّات میں ہے:

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ(۵۰)قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ(۵۱) یَّقُوْلُ اَىٕنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ(۵۲)ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ(۵۳)قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ(۵۴)فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ(۵۵)قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ(۵۶) وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ‘‘(صافات۵۰تا۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جنتی آپس میں سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے۔ان میں سے ایک کہنے والاکہے گا:بیشک میرا ایک ساتھی تھا۔مجھ سے کہا کرتاتھا : کیا تم (قیامت کی) تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی؟جنتی (دوسرے جنتیوں سے) کہے گا: کیا تم(جہنم میں ) جھانک کر دیکھو گے؟ تو وہ جھانکے گا تو (اپنے) اس (دنیا کے) ساتھی کو بھڑکتی آگ کے درمیان دیکھے گا۔وہ جنتی کہے گا: خدا کی قسم، قریب تھا کہ تو ضرور مجھے (بھی گمراہ کرکے) ہلاک کردیتا اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو ضرور میں بھی (عذاب میں ) پیش کئے جانے والوں میں سے ہوتا۔

             نیز سورۂ مدثر میں ہے:

 ’’ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ(۳۸) اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ(۳۹) فِیْ جَنّٰتٍﰈ یَتَسَآءَلُوْنَۙ(۴۰) عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ(۴۱) مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ(۴۲)قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳) وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ(۴۴) وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ(۴۵) وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ(۴۶) حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُ ‘‘(مدثر۳۸تا۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گروی رکھی ہے مگر دائیں طرف والے،باغوں میں ہوں گے ،وہ پوچھ رہے ہوں گے مجرموں سے،کون سی چیزتمہیں دوزخ میں لے گئی؟وہ کہیں گے:ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ باتیں سوچتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔

کفر اور بد عملی کی بڑی وجہ:

            آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر و عناد اور بد عملی کی بڑی وجہ قیامت کا انکار یا اسے بھلانا ہے اگر بندے کے دل میں قیامت کا خوف ہو تو جرم کرنے کی ہمت ہی نہ کرے ۔اسی لئے بزرگانِ دین نے روزانہ کچھ وقت موت، قبر اور قیامت کے متعلق غور و فکر کرنے کا مقرر فرمایا ہے کہ یہ فکر دل کی دنیا بدل دیتی ہے اور ایسی ہی سوچ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ’’لمحہ بھر غورو فکر کرناپوری رات قیام کرنے سے بہتر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیعبہ، کتاب الزھد ،کلام الحسن البصری ،۸ / ۲۵۸ ،الحدیث:۳۷)

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌۚ-وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْۚ-وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ- لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں۔

 



Total Pages: 191

Go To