Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

نہ ہی جنت میں ایک دوسرے کے بلند مقامات و محلات پر حسد کریں گے بلکہ سب پیارو محبت سے رہ رہے ہوں گے۔

پاکیزہ دل ہونا جنتیوں کا وصف ہے:

             اس سے معلوم ہوا کہ پاکیزہ دل ہونا جنتیوں کے وصف ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے امید ہے کہ جو یہاں اپنے دل کو بغض وکینہ اور حسد سے پاک رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اسے پاکیزہ دل والوں یعنی جنتیوں میں داخل فرمائے گا۔ جنت میں جانے سے پہلے سب کے دلوں کو کینہ سے پاک کردیا جائے گا چنانچہ بخاری شریف کی حدیث ہے، حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جب مسلمانوں کی دوزخ سے نجات ہو جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان پل پر روک لیا جائے گا پھر ان میں سے جس نے جس کے ساتھ دنیا میں زیادتی کی ہو گی اس کا قصاص لیا جائے گا پس جب ان کوپاک اور صاف کر دیاجائے گا تب ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ِقدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے ان میں سے ہر ایک شخص کو جنت میں اپنے ٹھکانے کا دنیا کے ٹھکانے سے زیادہ علم ہوگا۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ، ۴ / ۲۵۶، الحدیث: ۶۵۳۵)

بغض و کینہ کی مذمت:

             یہاں چونکہ بغض وکینہ کا تذکرہ ہوا اس کی مناسبت سے یہاں بغض و کینہ کا مفہوم اور اس کی مذمت بیان کی جاتی ہے۔ چنانچہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :جب آدمی عاجز ہونے کی وجہ سے فوری غصہ نہیں نکال سکتا تو وہ غصہ باطن کی طرف چلا جاتا ہے اور وہاں داخل ہو کر کینہ بن جاتا ہے۔ کینہ کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو بھاری جاننا، اس سے نفرت کرنا اور دشمنی رکھنا اور یہ بات ہمیشہ ہمیشہ دل میں رکھنا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد ونتائجہ وفضیلۃ العفو والرفق، ۳ / ۲۲۳)

            احادیث میں بغض وکینہ کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۶(۲۵۶۵))

             حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الباب الثانی فی الاخلاق والافعال المذمومۃ، الفصل الثانی، ۲ / ۱۸۲، الحدیث: ۷۳۹۶، الجزء الثالث)

نوٹ:بغض و کینہ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے ’’احیاء ُالعلوم‘‘ کی تیسری جلد کا مطالعہ فرمائیں۔[1]

مسلمانوں کوآپس میں کیسا ہونا چاہیے؟:

            مسلمانوں کوآپس میں کیسا ہونا چاہیے اس کیلئے درج ذیل 5 احادیث کا مطالعہ فرمائیں :

(1)… حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں۔ (بخاری، کتاب الادب، باب تعاون المؤمنین بعضہم بعضاً، ۴ / ۱۰۶، الحدیث: ۶۰۲۶)یعنی جس طرح یہ ملی ہوئی ہیں مسلمانوں کو بھی اسی طرح ہونا چاہئے ۔

(2)…حضرت نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی اور رحمت و شفقت کی مثال جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی عُضْو بیمار ہوتا ہے تو بخار اوربے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہوتا ہے۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم وتعاضدہم، ص۱۳۹۶، الحدیث: ۶۶(۲۵۸۶))

(3)… حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں اچھا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید ہو اور جس کی شرارت سے امن ہو اور تم میں برا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید نہ ہو اور جس کی شرارت سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، کتاب الفتن، ۷۶-باب، ۴ / ۱۱۶، الحدیث: ۲۲۷۰)

(4)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘(مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی انّ من خصال الایمان۔۔۔ الخ، ص۴۳، الحدیث: ۷۲(۴۵))

(5)… حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ گفتگو کرتے وقت اچھے طریقے سے بات کرنا، جب کوئی گفتگوکرے تو اچھے انداز میں اس کی بات سننا، ملاقات کے وقت مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا اور وعدہ پورا کرنا مومن کے اخلاق میں سے ہے ۔ (مسند الفردوس، باب المیم، ۳ / ۶۳۷، الحدیث:  ۵۹۹۷)

{ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ:اور وہ کہیں گے تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔} مؤمنین جنت میں داخل ہوتے وقت کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ہمیں اچھے اعمال کی ہدایت دی اور ہمیں ایسے عمل کی توفیق دی جس کا یہ اجرو ثواب ہے اور ہم پر فضل و رحمت فرمائی اور اپنے کرم سے عذاب ِجہنّم سے محفوظ کیا۔

اچھے عمل کی توفیق ملنے پر اللہ تعالٰی کی حمد کی جائے:

             اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد اور اس کا شکر جنت میں بھی ہو گا کیونکہ وہ حمد و شکر ہی کا مقام ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو اکہ علم و عمل اور ہدایت کی توفیق اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی عطا سے ہے لہٰذا کسی کو علم یا اچھے عمل کی توفیق ملے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرے اور اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی توفیق جانے ۔ اسی وجہ سے ہمیں بکثرت لاحول شریف پڑھنے کا فرمایا گیا ہے کیونکہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِااللہ  کا معنیٰ ہے کہ



[1]    اسی موضوع سے متعلق کتاب’’بغض و کینہ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کابھی مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To