Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِؕ-كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَاجَمِیْعًاۙ-قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ﱟ-قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ان سے فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے اے رب ہمارے انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے فرمائے گا سب کو دُونا ہے مگر تمہیں خبر نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ ان سے فرمائے گا کہ تم سے پہلے جوجنوں اور آدمیوں کے گروہ آگ میں گئے ہیں تم بھی ان میں داخل ہوجاؤ ۔جب ایک گروہ (جہنم میں ) داخل ہوگا تو دوسرے (گروہ) پر لعنت کرے گا حتّٰی کہ جب سب اس میں جمع ہوجائیں گے تو ان میں بعد والے پہلے والوں کے لئے کہیں گے : اے ہمارے رب! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا: سب کے لئے دُگنا ہے لیکن تمہیں معلوم نہیں۔

{ قَالَ:فرماتا ہے۔} اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کافروں سے فرمائے گا کہ تم سے پہلے جوجنوں اور آدمیوں کے گروہ آگ میں گئے ہیں تم بھی ان میں داخل ہوکر جہنم میں چلے جاؤ۔ جب ایک دین سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ جہنم میں داخل ہوگا تواپنے ہم دین دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا یعنی ہر قسم کا کافر اپنی قسم کے کافر کو لعنت کرے گا۔ مشرک مشرکوں پر لعنت کریں گے، یہودی یہودیوں پر اور عیسائی عیسائیوں پر لعنت کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر ایک اس ہی کے ساتھ ہو گا جس سے دل کا تعلق ہو گا، زمانہ اور جگہ ایک ہو یا مختلف۔

{ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ: بعد والے پہلے والوں کے لئے کہیں گے۔} جب سب جہنم میں جمع ہوجائیں گے تو بعد والے یعنی پیروکار پہلے والوں یعنی گمراہ کرنے والوں کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کریں گے: اے ہمارے رب! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ جواب ملے گا کہ سب کیلئے دگنا عذاب ہے اور سب کو مسلسل عذاب ہوتا رہے گا لیکن تمہیں ایک دوسرے کا عذاب معلوم نہیں۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پہلے والے دوسروں سے کہیں گے تو تمہیں ہم پر کوئی برتری نہ رہی تو اپنے اعمال کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

{ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ: تو تمہیں ہم پر کوئی برتری نہ رہی۔} اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب سن کرگمراہی کے پیشوا پیروی کرنے والوں سے کہیں گے کہ تمہیں ہم پر عذاب سے چھٹکارے میں کوئی برتری نہ رہی کفر و گمراہی میں دونوں برابر ہیں۔ تم اپنے کفر اور برے اعمال کا مزہ چکھو، ہم اپنے کفر اور برے اعمال کا مزہ چکھتے ہیں۔ کفر و بد عملی ، پیغمبروں کی اہانت، مسلمانوں کو ستانا ہم تم دونوں ہی کرتے تھے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا توان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے حتّٰی کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

{ اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا:بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں اور ان سے تکبر کرنے والوں کی سزا جہنم میں ہمیشہ رہنا بیان ہوئی اوراس آیت میں اس ہمیشگی کی کیفیت کا بیان ہے ،پہلی یہ کہ  ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔

کفار کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کے معنی:

            اس کا ایک معنی یہ ہے کہ کفار کے اعمال اور ان کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ اُن کے اعمال و ارواح دونوں خبیث ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا کہ کفار کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور مؤمنین کی ارواح کے لئے کھولے جاتے ہیں۔ ابن جُرَیْج نے کہا کہ آسمان کے دروازے نہ کافروں کے اعمال کے لئے کھولے جائیں گے نہ ارواح کے لئے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۴۰، ۲ / ۹۳)

            یعنی نہ زندگی میں ان کا عمل آسمان پر جاسکتا ہے نہ موت کے بعد ان کی روح جا سکتی ہے ۔

            مرنے کے بعد مومن اور کافر کی روح کو آسمان کی طرف لے جانے اور مومن کی روح کے لئے آسمان کے دروازے کھلنے اور کافر کی روح کے لئے نہ کھلنے کاذکر حدیثِ پاک میں بھی ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’روح نکلتے وقت میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ، اگر وہ مومن کی روح ہے تو اس سے کہتے ہیں : اے پاک روح! پاک جسم سے نکل آ کیونکہ تونیک ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے خوش ہو جا، جنت کی خوشبو اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا مندی سے خوش ہو جا، فرشتے روح نکلنے تک یہی کہتے رہتے ہیں ، جب روح نکل آتی ہے تو اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں ، جب آسمان کے قریب پہنچتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں : یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں ’’فلاں شخص کی روح ہے۔ آسمانی فرشتے کہتے ہیں ’’مرحبا، مرحبا، اے پاک روح ! پاک جسم میں رہنے والی ، تو خوش ہو کر (آسمانوں میں ) داخل ہو جا اور خوشبو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا سے خوش ہو جا، ہر آسمان پر اسے یہی کہا جاتا ہے ،حتّٰی کہ وہ روح عرش تک پہنچ جاتی ہے  ۔اگر کسی برے بندے کی روح ہوتی ہے تو کہتے ہیں ’’اے ناپاک جسم کی روح! بری حالت کے ساتھ آ، گرم پانی اور پیپ کی اور اس کے ہم شکل دوسرے عذابوں کی بشارت حاصل کر۔وہ روح نکلنے تک یہی کہتے رہتے ہیں ، پھر اسے لے کر آسمان کی جانب چلتے ہیں تو اس کے لئے آسمان کا دروازہنہیں کھولا جاتا، آسمان کے فرشتے دریافت کرتے



Total Pages: 191

Go To