Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو۔)

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، میرے رب نے تو ظاہری باطنی بے حیائیاں اور گناہ اور ناحق زیادتی کو حرام قرار دیا ہے اور اسے کہ تم اللہ کے ساتھ اس چیز کوشریک قرار دو جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ باتیں کہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔

{ قُلْ:تم فرماؤ ۔} اس آیت میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے ذریعے ان مشرکین سے خطاب ہے جو برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کرلیتے تھے، اُن سے فرمایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور اُن سے اپنے بندوں کو نہیں روکا، جن چیزوں کو اُس نے حرام فرما یا وہ یہ ہیں جو اللہ تعالیٰ بیا ن فرماتا ہے (1) بے حیائیاں ، چاہے ظاہری ہوں یا باطنی، قولی ہوں یا فعلی۔ (2) گناہ۔ (3) ناحق زیادتی۔ (4) ہر طرح کا کفر و شرک۔

{اَلْفَوَاحِشَ:بے حیائیاں۔} ہر وہ قول اور فعل جو برا اور فحش ہو اسے فاحشہ کہتے ہیں (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۸۹) آیت میں ’’ اَلْفَوَاحِشَ ‘‘ سے مراد ہر کبیرہ گناہ ہے ،جو علانیہ کیا جائے وہ ’’ مَا ظَہَرَ ‘‘ یعنی ظاہری ہے اور جو خفیہ کیا جائے وہ’’ مَا بَطَنَ ‘‘ یعنی باطنی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ’’فَوَاحِشَ ‘‘ سے وہ گناہ مراد ہیں جن میں شرعی سزا لازم نہ ہو  اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زنا ہے، جو بدکاری علی الاعلان ہو (جیسے اجرت دے کر پیشہ ور عورتوں سے بدکاری کرنا،کلبوں اور ہوٹلوں سے کال گرلز، سوسائٹی گرلز بک کر کے بدکاری کرنا) یہ ’’ مَا ظَهَرَ ‘‘ ہے اور جو زنا خفیہ طریقے سے کیا جائے جیسے کسی جوان لڑکی یا عورت سے عشق و محبت کے نتیجے میں یا پیا رکا جھانسا دے کر زنا کرنا، یہ ’’مَا بَطَنَ ‘‘ ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۵ / ۲۳۲)

ظاہری و باطنی بے حیائیوں کو حرام قرار دئیے جانے کی وجہ:

            حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ کوئی غَیور نہیں ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام ظاہری اور باطنیفَوَاحِشَیعنی بے حیائیوں کو حرام کر دیا۔ (مسلم، کتاب التوبۃ، باب غیرۃ اللہ تعالی وتحریم الفواحش، ص۱۴۷۵، الحدیث: ۳۲(۲۷۶۰))

             حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کی جان نکال کے رکھ دوں۔ جب یہ بات رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سنی تو ارشاد فرمایا: ’’تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو! حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں اُن سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے، اسی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے کاموں کو حرام فرما دیا ہے، چاہے بے حیائی ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا شخص اغیر من اللہ، ۴ / ۵۴۴، الحدیث: ۷۴۱۶)

{ وَ الْاِثْمَ:اور گناہ۔} فواحش کی طرح ’’اَلْاِثْمَ ‘‘ کی تفسیر میں بھی چند قول ہیں (1) ہر صغیرہ گناہ ’’ اَلْاِثْمَ ‘‘ ہے۔ (2) وہ گناہ کہ جس پر شرعی سزا لازم نہ ہو ’’ اَلْاِثْمَ ‘‘ ہے۔ (3) ہر گناہ ’’ اَلْاِثْمَ ‘‘ہے چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۹۰)

{ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ:اور ناحق زیادتی ۔} ’اَلْبَغْیَ ‘‘کا معنی ہے: ظلم، تکبر ، لوگوں پر زیادتی کرنا اورا ن سب چیزوں میں حد سے بڑھ جانا۔ ناحق زیادتی کا معنی ہے ’’کسی شخص کا اس چیز کو طلب کرنا جو اس کا حق نہیں جبکہ اپنے حق کو طلب کرنا اس میں داخل نہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۳، ۲ / ۹۰)

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہر گروہ کے لئے ایک مدت مقرر ہے تو جب ان کی وہ مدت آجائے گی تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہو ں گی اورنہ ہی آگے۔

{ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ:اور ہر گروہ کے لئے ایک مدت مقرر ہے۔}اس آیت میں مقررہ مدت سے یا تو یہ مراد ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نافرمانی کرنے والی امتوں کیلئے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو عذاب ضرور آئے گا۔ آیت کا دوسرا معنیٰ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر کسی کی موت کا وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑے گا۔

موت کے لئے ہر وقت تیار رہیں :

             چونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے اس لئے ہر وقت موت کیلئے تیار رہنا چاہیے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیک اعمال میں مصروف رہنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو۔ (1) اپنے بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔ (2) اپنی بیماری سے پہلے صحت کو۔ (3)اپنی محتاجی سے پہلے مالداری کو۔ (4)اپنی مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔ (5) اپنی موت سے پہلے زندگی کو۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس۔۔۔ الخ، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۶)

            حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے وعظ میں فرماتے ’’جلدی کرو جلدی کرو کیونکہ یہ چند سانس ہیں ، اگر رک گئے تو تم وہ اعمال نہیں کر سکو گے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے (احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثانی فی طول الامل۔۔۔ الخ، بیان المبادرۃ الی العمل وحذر آفۃ التاخیر، ۵ / ۲۰۵)[1]۔

 



[1]    موت کی تیاری کی رغبت پانے کے لئے کتاب’’موت کا تصور‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔



Total Pages: 191

Go To