Book Name:Imamay kay Fazail

٭معلو م ہوا کہ یہ فقط حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا عقیدہ ہی نہیں تھا بلکہ آپ کا یہ مشاہدہ بھی تھا کہ مجھے جنگوں میں ان ہی مبارک گیسؤوں کی برکت سے فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے۔  

٭جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا کہ میں ان سے برکت اور مدد حاصل کروں گا تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی تائید فرمائی کہ جب تک تمہارے پاس یہ بال رہیں گے تمہیں ہمیشہ مدد ونصرت ہی ملے گی، تمہارے دشمنوں کو شکست وذلت دی جائے گی۔  

٭سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے برکت اور مدد حاصل کرنے کا معاملہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نہ صرف حیاتِ مبارکہ میں تھا بلکہ آپ کی وفات طیبہ کے بعد بھی ہے۔  کیونکہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا کہ اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تب تک تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔  اور حضرت  سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب یہ واقعہ بیان کررہے ہیں اس وقت رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوچکا تھا۔  لہٰذا ثابت ہوا کہ آثارِ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تبرک ومدد کا معاملہ حیاتِ طیبہ میں بھی تھا اور وصال ظاہری کے بعد بھی ہے۔  

٭اگر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کرنا اور مدد طلب کرنا ناجائز یا شرک ہوتا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو روکتے اور منع فرماتے کہ اے خالد یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، جبکہ آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں منع نہ فرمایا بلکہ ان کے عقیدے کو پختہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تم ہمیشہ فتح یاب ہوتے رہو گے۔  

٭رسول  اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو منع نہ فرمانا بلکہ ان کی تائید فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبرکات وآثار سے تبرک اور مدد حاصل کرنا نہ صرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نزدیک جائز ہے بلکہ خود رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک بھی جائز ہے اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے موئے مبارکہ خود عطا فرمائے۔  چنانچہ

٭حضرت سیدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجام کو بلا کر اپنے سرِاقدس کے داہنی جانب کے بال منڈوائے اور سیدنا طلحہ انصاری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو وہ بال عطا فرما دیے، پھر بائیں جانب کے بالوں کو منڈوایا اور وہ سب بال بھی سیدنا ابوطلحہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو عطافرمائے نیز انہیں یہ حکم فرمایا کہ ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم فرمادیں ۔

 (مسلم، کتاب الحج، باب بیان ان السنۃ۔ ۔ ۔ الخ، ص۶۷۸، حدیث : ۳۲۵)

٭حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب بطریق نسطور کے ساتھ لڑائی کر رہے تھے تو آپ کی مبارک ٹوپی گرگئی اور آپ اس کی تلاش میں لگ گئے، اس پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ سے سبب پوچھا اور آپ نے مذکورہ بالا ساری بات بیان کی لیکن آپ کے بیان پر کسی نے بھی انکار نہ کیا معلوم ہوا کہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا جائز ہے۔  

       اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے یوں اِستِعانت طلب کرتے ہیں :

    ہم سیہ کاروں پہ یارب تپشِ محشر میں            سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہوجائے      چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو

(5)سیّدنا سالم کی سفید ٹوپی و عمامہ

        حضرت سیّدنا خالد بن ابوبکر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ عَلٰی سَالِمٍ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَائَ وَرَاَیْتُ عَلَیْہِ عِمَامَۃً بَیْضَائَ یَسْدُلُ خَلْفَہ ٗمِنْہَا اَکْثَرُ مِنْ شِبْرٍ یعنی :  میں نے حضرت سیّدنا سالم  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو سفید ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا اور میں نے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سفید عمامہ سجائے ہوئے (بھی) دیکھا۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عمامہ شریف کا ایک بالشت سے کچھ زائد شملہ پیچھے لٹکا رکھا تھا۔  (طبقات ابن سعد، الطبقۃ الثانیۃ من اہل المدینۃ من التابعین الخ ، سالم بن عبد  اللّٰہ  بن عمر، ۵/ ۱۵۱)     

نرم ٹوپی کے فوائد

                                                شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے ٹوپی سے متعلق کچھ ملفوظات کا خلاصہ ہے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ہمارے یہاں عموماً عمامہ شریف کے لئے سخت ٹوپی استعمال کی جاتی ہے جس پر ایک مرتبہ عمامہ شریف باندھنے کے بعد کئی کئی دن تک کھولا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے اس میں پسینہ ، میل کچیل اور گردو غبار وغیرہ جمع ہوتا رہتاہے جو کہ بسا اوقات تَعفُّن (بدبو) کا باعث بنتا ہے ۔  اگرچہ سربند کی بھی سب کی عادت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ (سربند) ہر وقت سنّت ہے بلکہ جب تیل ڈالیں اس وقت سنّت ہے۔ یہی حال سر بند کا ہوتا ہے جبکہ تیل پی پی کر بدبو دار ہو جاتا ہے ، ایسے لوگوں کے قریب بعض اوقات نماز پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔  (امیرِ اہلسنّت مزید فرماتے ہیں ) ایک اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ میں سخت ٹوپی پر عمامہ شریف باندھا کرتا تھا ایک دن اچانک گردن کے پاس سر کی جانب مجھے گلٹی سی نکل گئی۔  ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ آپ جو سخت ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں یہ اسی کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ پسینہ وغیرہ جذب کرتی رہتی ہے نیز اس سے سر کو صحیح طور پر ہوا بھی نہیں لگ پاتی اسی پسینے کی وجہ سے آپ کو الرجی ہو گئی ہے ۔  آپ یہ ٹوپی اتار دیا کریں ، ایک دن پہنیں دوسرے دن اتار دیں اس طرح یہ خشک ہو جایا کرے گی پھر دوبارہ پہن لیا کریں ، یا پھر جالی والی نرم ٹوپی پر ہی عمامہ شریف باندھ لیا کریں ۔  شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں :  سر سے چمٹی ہوئی ٹوپی پہننا سنّت ہے، اگرچہ کڑک ٹوپی پہننا بھی جائز ہے۔  لہٰذا ہمیں حتی الامکان سر سے ملی ہوئی نرم ٹوپی پر ہی عمامہ شریف باندھنا چاہئے۔  ا س میں ایک فائدہ یہ بھی کہ نرم ٹوپی پر گنبد نما عمامہ باندھنے میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ اس میں کچھ نہ کچھ سر کی گولائی محسوس ہو جاتی ہے جبکہ سخت ٹوپی کے ہموار ہونے کی وجہ سے اس میں گنبد نما عمامہ باندھنا مشکل ہے ۔ ‘‘

امیرِاہلسنّت اور احیاء سنّتِ عمامہ

 



Total Pages: 101

Go To