Book Name:Imamay kay Fazail

کرے یعنی اچھے کپڑے پہنے ، عمامہ شریف باندھے اور قبلہ رو بیٹھے کیونکہ قرآنِ پاک اور فقہ کی تعظیم کرنا لازم و ضروری ہے۔  (فتاوی قاضی خان، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی التسبیح و التسلیم الخ، ۴/ ۳۷۹)

عمامہ شریف کے مسائل

مسئلہ : عمامہ کو سر سے اتار کر زمین پر رکھ دینا، یا زمین سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا مُفسِدِ نماز نہیں ، البتہ مکروہ ہے۔

  (فتاوی ھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، الفصل الثانی، ۱/ ۱۰۸، بہارِ شریعت، ۱/ ۶۳۴)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے یہ اس وقت ہے جبکہ عملِ کثیر سے نہ ہو۔  

مسئلہ : ٹوپی میں لیس لگائی گئی یا عمامہ میں گوٹا لچکا لگایا گیا، اگر یہ چار انگل سے کم چوڑا ہے جائز ہے ورنہ نہیں ۔  (بہارِشریعت، ۳/ ۴۱۲)

مسئلہ :  ریشم کی ٹوپی اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو، یہ بھی ناجائز ہے۔  اسی طرح زری کی ٹوپی بھی ناجائزہے، اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو۔  (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۴)

 زَرِیں کُلاہ جو افغانی اور سرحدی اور پنجابی عمامہ کے نیچے پہنتے ہیں اور وہ مُغَرَّق (یعنی سونے چاندی سے لِپی ہوئی) ہوتی ہے اور اس کا کام چار انگل سے زیادہ ہوتا ہے یہ ناجائز ہے، ہاں اگرچار انگل یا کم ہو تو جائز ہے۔  (بہارِشریعت، ۳/ ۴۱۳)

مسئلہ :  کُسُم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہو جائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے۔  عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں ، ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں ۔  اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زَنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔  (درمختارو ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۹۰) اور یہ مُمانَعَت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تَشَبُّہ ہوتا ہے اس وجہ سے مُمانَعَت ہے، لہٰذا اگر یہ عِلَّت نہ ہو تو مُمانَعَت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زَنانہ پَن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔  (بہارِشریعت، ۳/ ۴۱۵)

عمامے میں پھول لگانا کیسا؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے میں پھول لگانا ایک ایسا کام ہے جس کی مُمانَعَت  کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے نیز اس سے  اللّٰہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع بھی نہیں فرمایا ہے اس لئے عمامے میں پھول لگانا بالکل جائز ہے۔  

عمامے پر کشیدہ کاری کروانا کیسا؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے میں ریشم سے نقش و نگار بنوانے میں کچھ تفصیل ہے چنانچہ اگر کشیدہ کاری چار انگل سے زیادہ کروائی گئی تو اب اس کا پہننا جائز نہیں بلکہ اسے کٹوا کر استعمال کریں جیسا کہ

        حضرت سیّدنا عُروہ بن زبیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک نقش و نگار والا عمامہ تحفۃً دیا گیا آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے نقش و نگار کاٹ ڈالے پھر پہنا۔  (طبقات ابن سعد ، ذکر لباس رسول  اللّٰہ ، ۱/ ۳۵۳) نیز

       حضرت سیّدنا مجاہد رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا عبد  اللّٰہ  ابن عمررَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُمَا نے ایک عمامہ خریدا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ اس میں نقش و نگار بنے ہوئے ہیں تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ان نقش و نگار کو کاٹ دیا ۔  (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس، باب من کرہ العلم ولم یرخص فیہ، ۱۲/ ۴۶۳، حدیث : ۲۵۱۹۰)

       حضرت سیّدنا ابوعمر مولیٰ اسماء رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمررَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کو ایک عمامہ خریدتے دیکھا جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے قینچی منگوائی اورانہیں کاٹ دیا ، حضرت سیّدنا ابوعمر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  پھر میں حضرت سیّدتنا اسماء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا کے پاس حاضر ہوا اور انہیں تمام واقعہ سنایا تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا نے کہا :  افسوس عبد  اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے یہ کیا کیا ، پھراپنی خادمہ سے فرمایا :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جُبَّہ لے آؤ تووہ ایک جُبَّہ لے آئی جس کی دونوں آستینوں ، گریبان اور سامنے کے دونوں کناروں پر ریشم سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔  (ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب الرخصۃ فی العلم فی الثوب، ۴/ ۱۵۷، حدیث : ۳۵۹۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کشیدہ کاری چار انگل سے کم ہے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ

         حضرت سیّدنا ابو عثمان رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ چار انگل تک حریر و ریشم کی اجازت دیا کرتے تھے۔  

(ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب الرخصۃ فی العلم فی الثوب، ۴/ ۱۵۶، حدیث : ۳۵۹۳)

        ’’بہارِ شریعت ‘‘میں ہے :  مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار اُنگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار اُنگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں ۔  اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار اُنگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔  (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۰) یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔  عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے، لہٰذا یہ پلّو بھی چار انگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔  (بہار شریعت، ۳/ ۴۱۱)

عمامے پر زری کا کام کروانا کیسا؟

        اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ملفوظات میں ہے :

 



Total Pages: 101

Go To