Book Name:Imamay kay Fazail

سرے کو پیچھے سے لا کر واپس دائیں کندھے پر لے لیجئے۔      

(۲)اہلِ کتاب دورانِ عبادت ’’سَدَل‘‘ کرتے ہیں ۔  سَدَل یعنی سر یا کندھوں پر اس طرح چادر ڈالنا کہ اس کے دونوں سرے لٹکتے ہوں ، یہ علاوہ نماز کے مکروہ تنزیہی اور نماز میں مکروہ تحریمی ہے۔  

چادر میں دونوں ہاتھ چھپ جانا کیسا؟

(۱) عمامہ شریف پر سر سے چادر اوڑھے نماز پڑھنے میں دونوں ہاتھ چادر میں چھپ جائیں تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت سیّدنا وائِل بن حُجر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کو دیکھا کہ جب آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے نماز کا آغاز فرمایا تو تکبیر کہی، ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا پھر ہاتھ کپڑے میں لپیٹ لیے پھر دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔  (مسلم ، کتاب الصلوۃ ، باب وضع یدہ الیمنی علی الیسری الخ، ص ۲۱۲، حدیث : ۴۰۱)

        حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیہ رَحمَۃُ المَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ چونکہ سردی زیادہ تھی اِس لیے ہاتھ (کپڑے میں ) لپیٹ لیے معلوم ہوا نماز میں ہاتھ کھولنا ضروری نہیں ، چادر وغیرہ میں ہاتھ لپیٹ کر یا ڈھک کر بھی ( نماز) جائز ہے۔  ‘‘(مراٰۃ المناجیح، ۲/  ۱۸)

(۲) کپڑے میں اس طرح لپٹ کر نماز پڑھنا کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہوں مکروہ تحریمی ہے۔  (در مختار و ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیہا، مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/ ۵۱۱)  اس سے اس طرح لپٹ جانا مراد ہے کہ ہاتھ نکالے نہ جاسکیں ، بہارِشریعت میں لکھا ہے : ’’ علاوہ نماز کے بھی بے ضرورت اس طرح کپڑے میں لپٹنا نہ چاہیے اور خطرہ کی جگہ سخت ممنوع ہے۔ ‘‘

(بہارِشریعت ، ۱/ ۶۲۶)

نماز میں مُنہ اور ناک چھپانا

(۱) نماز میں عمامہ شریف پر چادر اِس طرح اوڑھنا کہ منہ اور ناک چھپ جائے مکروہ تحریمی ہے، جیسا کہ حضرت علامہ شامی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’نماز میں ناک اور منہ کو ڈھانپنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ مجوسیوں (یعنی آتش پرستوں ) کا طریقہ ہے کہ وہ آگ کی پوجا کرتے وقت اس طرح کرتے ہیں ۔ ‘‘

 (درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیہا، مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/ ۵۱۱)

 نماز میں عمامے کو گرد سے بچائیں تو؟

       خَاتَمُ المَحَقِّقِین حضرت علامہ محمد امین ابن عابدین شامی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں :  اگر چہرے کو مٹی سے بچانے کے لیے کپڑے پر سجدہ کیا تو مکروہ ہے اور اگر عمامہ شریف کو بچانے کے لیے کیا تو مکروہ نہیں ۔  (درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی بیان تالیف الصلاۃ الی انتہائھا، ۲/ ۲۵۵)

        صَدرُ الشریعہ، بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  فرماتے ہیں :  عمامہ کو گرد سے بچانے کے لیے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کیا تو حرج نہیں اور چہرے کو خاک سے بچانے کے لیے کیا، تو مکروہ ہے۔  (بہار ِشریعت ، ۱/ ۵۲۹)

نماز میں عمامہ گر جائے تو؟

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دورانِ نماز اگر عمامہ شریف گر جائے یا اس کا کچھ حصہ کُھل جائے تو نمازی کو چاہئے کہ اسے عملِ قلیل کے ذریعے اٹھا لے اور کچھ حصہ کھل جانے کی صورت میں عملِ قلیل سے ہی درست بھی کر لے۔  ہاں اگربار بار کُھل جاتا ہو یا گرجاتاہو تو نہ اُٹھائے چنانچہ

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب ’’نماز کے احکام ‘‘صفحہ 259 پر نقل فرماتے ہیں :  نماز میں ٹوپی یا عمامہ شریف گر پڑا تو اُٹھا لینا افضل ہے جبکہ عملِ کثیر کی حاجت نہ پڑے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور باربار اُٹھانا پڑے تو چھوڑ دیں اور نہ اُٹھانے سے خشوع و خضوع مقصود ہو تو نہ اٹھانا افضل ہے۔  (در مختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ، ۲/ ۴۹۱)

مزید فرماتے ہیں : اگر کوئی ننگے سر نماز پڑھ رہا ہو یا اُس کی ٹوپی گر پڑی ہو تو اُس کو دوسرا شخص ٹوپی نہ پہنائے۔  (نماز کے احکام ، ص ۲۶۰)

مُحرِم نے عمامہ پہن لیا تو؟

        حضرت سیّدنا یَعلٰی بِن اُمَیَّہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ہم رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ ایک اَعرابی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی :  یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نے (عمرے کا) تَلبِیَہ کہہ لیا ہے حالانکہ اس نے اُونی جبہ پہن کر سر پر عمامہ شریف سجا رکھا تھا اور زعفرانی خوشبو بھی لگا رکھی تھی۔  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا :  عمامہ اور اپنی قمیص اتار دو ، اس (خوشبو) کی زردی کو دھو لو اور جن (پابندیوں ) کا تم حج میں خیال کرتے ہو انہی کا عمرے میں بھی خیال کرو۔

 (معجم کبیر، باب الیاء، من اسمہ یعلی، ۲۲/ ۲۵۲، حدیث : ۶۵۵)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُحرِم کے لیے حالتِ احرام میں خوشبو لگانا، سلا ہوا لباس پہننا عمامہ وغیرہ سے سرچھپانا نا جائز و گناہ اور جرمانے کا سبب ہے۔  جیسا کہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  ’’جو مرد اپنا سارا یا چوتھائی سر بحالت ِاحرام چھپائے جسے عادۃً سر چھپانا کہیں جیسے ٹوپی پہننا، عمامہ باندھنا، سر سے چادر اوڑھنا، دھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا، درد کے سبب سرکسنا، زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا اس پر مطلقاً جرمانہ واجب ہے، اگرچہ بھولے سے، اگرچہ سوتے میں ، اگرچہ بیہوشی میں ، اگرچہ عذر سے۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۰/ ۷۱۳)  اس لیے سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ان چیزوں کے اتار دینے کاحکم ارشاد فرمایاتھا۔  

تلاوتِ قرآن کے وقت عمامہ شریف سجائیے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح نماز کے لئے زینت اختیار کرنا محمود و مستحسن ہے اسی طرح تلاوتِ قرآن کے وقت اچھا لباس پہننا اور عمامہ شریف باندھنا بھی مستحب ہے چنانچہ

        فَقِیہُ النَّفْس حضرت علّامہ قاضی حسن بن منصور اَوزْجَندِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘ میں فرماتے ہیں : جو شخص تلاوتِ قرآن کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اچھی ہیئت اختیار



Total Pages: 101

Go To