Book Name:Imamay kay Fazail

بارے میں پوچھو،  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! کوئی آیت ایسی نہیں کہ جس کے متعلق میں نہ جانتا ہوں کہ یہ رات میں نازل ہوئی یا دن میں ، زمین پر نازل ہوئی یا پہاڑ پر۔  اِبْنُ الْکَوَّاء نے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے چند سوالات کیے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ نبی تھے یا فرشتے ؟ تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے فرمایا :  دونوں میں سے کچھ بھی نہ تھے بلکہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے بندے تھے ، انہوں نے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی تو اس نے انہیں اپنا محبوب بنا لیا ، انہوں نے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے لئے اخلاص اپنایا تو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنا مخلص بندہ بنا لیا۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان کی قوم کی طرف نیکی کی دعوت کے لئے بھیجا تو انہوں نے آپ کے دائیں جانب (سر پر) چوٹ ماری ، جب تک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے چاہا آپ رکے رہے ،  اللّٰہ  تَبَارَ ک وَ تَعَالٰی نے آپ کو دوبارہ نیکی کی دعوت کے لئے بھیجا۔  آپ کی قوم نے آپ کی بائیں جانب (سر پر) چوٹ ماری ۔ آپ کے بیل کی طرح کے سینگ نہ تھے۔

 (کنزالعمال، کتاب الاذکار، باب فی القرآن، جامع التفسیر، الجز الثانی، ۱/ ۲۳۹، حدیث : ۴۷۳۷ مختصراً)

عرب میں عمامے کا مقام

        حضرت سیّدنا امام ابوزکریا مُحیُ الدین بن شرف نَوَوِی  شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  نقل فرماتے ہیں کہ عرب جب کسی شخص کو سردار بناتے تو کہا کرتے قَد عُمِّمَ یعنی اسے عمامہ پہنا دیا گیا (گویا کہ وہ سرداری کو عمامے سے تعبیر کیا کرتے تھے) کیونکہ عمامے عرب کے تاج ہیں ۔  نیز جب کسی کو سردار مقرر کرتے تو اسے سرخ رنگ کا عمامہ باندھا کرتے تھے۔  (تہذیب الاسماء و اللغات ، حرف العین، ۳/ ۲۲۶)

       عربوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ :  اُختُصَّتِ العَرَبُ بِاَربَع :  اَلعَمَائِمُ تِیجَانُہَا ، وَالدُّرُوعُ حِیطَانُہَا ، وَالسُّیُوفُ سِیجَانُہا ، وَ الشِّعر دِیوَانُہَا یعنی عربوں کو چار چیزوں سے خاص کیا گیا ہے :  (1)عمامے عربوں کے تاج (2) زرہیں ان کی دیواریں (3) تلواریں ان کی چادریں (4) اور شعر اُن کے دیوان ہیں ۔  (الموسوعۃ العربیۃ العالمیۃ، العمامۃ ، ص ۱)

تین چیزیں عرب کا شعار ہیں

       حضرت سیّدناامام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَالِق فرماتے ہیں : ’’ عمامہ شریف باندھنا، اِحتِباء ([1]) کرناا ور جوتے پہننا عرب کا طریقہ ہے یہ وہ کام ہیں جو عجم میں نہ تھے ، عمامہ شریف باندھنا تو اسلام کی ابتداء سے ہی ہے جو کہ اب تک بھی جاری و ساری ہے ۔ ‘‘(شرح البخاری لابن بطال، کتاب اللباس، باب العمائم، ۹/ ۸۹)

عمامہ شریف کی اہمیت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف باندھنا ایسا مقدس عمل ہے جس پر دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مُداوَمَت (ہمیشگی) فرمائی ہے۔  سفرو حضر میں بھی سرِ اقدس پر عمامہ شریف جگمگاتا تھا۔  حضرت علامہ علی بن سلطان المعروف مُلاعلی قاری  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی عمامہ شریف پر لکھے گئے اپنے رسالے میں فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف باندھنے کے بارے میں احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ ([2])کی اتنی کثرت ہے کہ وہ توَاتُر بالمعنی  ([3]) کو پہنچ جائیں ۔(المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ ، ص۸)

کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت

تیری نعلین تاجِ سر آقا

        حضرت سیّدنا امام جعفر کتّانی حَسَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الغَنِی ارشاد فرماتے ہیں :  جو چیز اسلام کا شِعار (علامت) ہواور کافر وں اور مسلمانوں کے درمیان فرق کرنے والی ہواور دلائلِ شرعیّہ میں (استحبابی طور پر) جس کے عمل کانبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امّت کے ہر فرد سے مطالبہ کیا گیا ہواور ہر دن، ہر زمانے میں جس کی مَشروعِیَّت پر ائمّۂ دین کا اتّفاق ہو جیسے عمامہ شریف، تو ایسی چیز محض لوگوں کے ترک کر دینے سے ختم نہیں ہو سکتی۔  اور ایسی سنّتِ عظیمہ کو بالکل چھوڑ دینا بہت بُرا ہے اور اس کے ترک پر ہمیشگی اختیار کرلینا خصوصاً نمازوں ، عیدین، مسجد کی حاضری اورلوگوں کی محفلوں میں ( اس کا ترک کرنا) اس سے بھی زیادہ برا ہے کیونکہ ایسی صورت میں سنّتوں میں سے ایک سنّت کوختم کرنااور اس کے مقابلے میں کسی غیرِسنّت (یعنی بدعت) کو زندہ کرنا ہے۔ ’’ شَرحُ الْمِنہَاج میں حضرت سیّدنا ابنِ حجر مکّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کا قولِ مبارک ہے کہ اگر کسی جگہ بالکل عمامہ شریف ترک کردیا جائے تو لوگوں کی ترکِ عمامہ کی عادت کے سبب عمامہ کی سنّت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے پُر آشوب وقت میں اس عظیم سنّت کو اپنانا حضور عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَام کی سنّت کو زندہ کرنا ہے جس کے بارے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَام کا ارشادِعظَمت نشان ہے : جس نے میری ایسی سنّت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ چکی تھی(یعنی اس پرعمل ترک کیا جا چکا تھا) تو اسے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گاجو اس سنّت پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور ایسے ہی یہ فرمانِ رسول بھی ہے کہ جس نے میری امّت میں فساد کے وقت میری سنّت کو تھامے رکھااس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے۔   

  ’’تیسیر‘‘ (شرح جامع صغیر) میں حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  اْلھَادِی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :  یہ اجراس لیے ہے کہ فساد کے غلَبہ کے وقت سنّتِ رسول کو تھامے رہنے والا کوئی مددگار نہیں پائے گا (کہ جو اس کی حوصلہ افزائی کرے) بلکہ اس کے برعکس اس کو تکلیف پہنچائی جائے گی اور اس کی توہین کی جائے گی، پھر اس کا ان آزمائش پر صبر کرتے رہنا اس کے درَجات کو بَلند کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شُہَداء کے مقام و مرتبے تک پہنچ جائے گا۔   (الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۱۸ملخصاً)

عمامہ کے متعلق اقوالِ صحابہ

       امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  اَلعَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب یعنی عمامے عرب کے تاج ہیں ۔  (البیان و التبیین، باب من کلام المحذوف، ۲/ ۲۸۷)

       امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم فرماتے ہیں :  تَمَامُ جَمَالِ الرَّجُلِ فِی عِمَّتِہِ یعنی آدمی کے حُسن و جمال کی تکمیل اس کے عمامے سے ہی ہوتی ہے ۔  

(الآداب الشرعیۃ، فصل فی انواع اللباس الخ ، ۳/ ۵۰۱)

اَعرابی کے نزدیک عمامے کی اہمیت

 



     اِحتِبا کی صورت یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے اس قسم کا بیٹھنا تَواضُع اور اِنکسار میں شمار ہوتا ہے۔      

2       آثارِ صحابہ سے مراد وہ اقوال و افعال ہیں کہ جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف منسوب ہوں۔

3        توَاتُر بالمعنی سے مراد ایسی خبرہے کہ جس کے معانی متواتر ہوں الفاظ مُتواتِر نہ ہوں۔ یعنی کوئی معنی اتنی بڑی تعداد سے روایت کئے گئے ہوں کہ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا عقلاً ممکن نہ ہو۔



Total Pages: 101

Go To