Book Name:Imamay kay Fazail

سننے لگا ۔ مبلغ دعوت اسلامی کے پرسوز الفاظ تاثیر کا تیر بن کر میں دل میں اترتے چلے گئے ۔ قبر و آخرت کی تکالیف وعذابات کا تذکرہ سن کر مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا میرے دل کی دنیا زیرو زبر ہو گئی۔  اپنی گناہوں سے آلودہ زندگی کے بارے میں سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ آہ! میرا کیا بنے گا یہی سوچ سوچ کر میرا دل ڈوبتا چلا گیا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسوؤں کا سیلاب اُمَنڈ آیا۔  میرے والدصاحب اوربھائی بھی اس اجتماع میں شریک تھےجو میری اس بدلتی کیفیت کودیکھ کر خوش ہو رہے تھے بس میری حالت غیر ہوتی چلی گئی اور مجھ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی نجانے کب بیان ختم ہوا مجھے اس کاپتہ ہی نہ چلا۔  کافی دیر بعد جب میری حالت کچھ سنبھلی تو میں نے دیکھا کہ میرے والد صاحب اور بیان کرنے والے مبلغِ اسلامی بھائی میرے قریب بیٹھے ہیں اور میرے والد صاحب ان مبلغ اسلامی بھائی کومیر ے حالات بیان کر رہے تھے ۔  مبلغِ دعوتِ اسلامی میرے حالات کا سن کرنہایت افسردہ ہو گئے۔  اور پھر انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے نہایت اَحسن اَنداز میں قبر و آخرت کی تیاری کا ذہن دیا اور مدنی ماحول کی بہاریں بیان کیں ان کی انفرادی کوشش کے سبب میرے اندر یہ احساس پیدا ہوا کہ میں کس قدر گناہوں کے دلدل میں دھنس چکا ہوں اور یوں ایک بارپھر میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے رونے لگ گیا اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے لگا ، مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا اس اسلامی بھائی نے مزید اِنفرادی کوشش جاری رکھتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کاذہن دیا اور ہاتھوں ہاتھ مجھے مدنی قافلے میں سفر کے لیے تیار کر لیا ، میں نے بھی انکار نہیں کیا اور فوراً ہی 45   دن کے مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار ہو گیا مجھے ہاتھوں ہاتھ باب الاسلام سندھ میں سفر کرنے والے عاشقان رسول کے ہمراہ مدنی قافلے کا مسافر بنا کر بھیج دیا گیا یوں میں مدنی قافلے کی بہاریں لوٹتا رہا اور پھر قافلے کی برکتیں لوٹنے کے بعد مزید اپنی زندگی میں نِکھار لانے اور علمِ دین حاصل کرنے کے لیے 63 دن کے تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔  تربیتی کورس سے فراغت کے بعد جب میں واپس اپنے علاقے میں پہنچا، تو میرے کردار میں ہونے والی تبدیلی میرے گھر والوں اور اہلِ محلہ کے لئے حیرت کا باعث تھی ، وہ سب حیران تھے کہ اچانک اس لڑکے کا لب و لہجہ، طور طریقہ ، گُفتار و کردار سب کس طرح تبدیل ہو گیا ہے؟ ان کی حیرانگی کا باعث یہ تھا کہ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں گناہوں بھری زندگی ترک کر کے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو چکا تھا۔  جو لوگ مجھے کل تلک نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے آج مدنی ماحول کی برکت سے اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اس کے بعد میں علاقے میں مدنی کاموں کی دھومیں مچانے لگا۔  میرے اندر مدنی کاموں کوعام کرنے کا جذبہ دیکھ کر مدنی مرکز کی طرف سے مجھے علاقائی سطح کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔  تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مدنی کاموں کے ساتھ ساتھ ایک مسجد میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہوں ۔  

مُجھے لگتا ہے وہ میٹھا، مُجھے لگتا ہے وہ پیارا

عمامہ سَر پہ، زُلفیں اور داڑھی جو سجاتا ہے

اپنا عمامہ دوسرے کو دینا

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن دینار رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما جب مکہ مکرمہ جاتے تو ایک گدھا بھی اپنے ساتھ رکھتے۔  جب آپ اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو آسانی اور آرام کے لئے گدھے پر سواری فرماتے۔  ایک عمامہ شریف بھی تھا جسے سر پر باندھا کرتے تھے۔  چنانچہ ایک روز آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اپنے گدھے پر سوار تشریف لے جارہے تھے کہ ایک دیہاتی قریب سے گزرا۔  حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے اس سے پوچھا کیا تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا :  کیوں نہیں ! آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس اَعرابی کو اپنی سواری والا گدھا دے دیا اور فرمایا :  اس پر سوار ہوجا اور عمامہ شریف بھی دیا اور فرمایا :  ’’اسے اپنے سر پر باندھ لو۔ ‘‘ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے بعض رُفَقاء نے کہا :   اللّٰہ  تعالٰی آپ کی مغفرت فرمائے! آپ نے اپنی آرام دہ سواری اسے دے دی اور عمامہ شریف بھی کہ جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے۔  تو حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا ہے :  ’’نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد اس کے دوستوں سے حسنِ سلوک کرے‘‘ اور اس دیہاتی کا باپ میرے والد( امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ) کا دوست تھا۔  (مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل صلۃ اصدقاء الاب الخ، ص ۱۳۸۲، حدیث : ۲۵۵۲)

        دوسری روایت میں ہے :  حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابنِ عمررَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرما یا : بے شک رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’اپنے والد کے دوستوں اور اہلِ محبت کے تعلق کی حفاظت کرو، اسے ختم نہ کرو ورنہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تمہارے (ایمان کے )نور کو بجھا دے گا۔ ‘‘ (شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتہما ، ۶/ ۲۰۰، حدیث : ۷۸۹۸)

       حضرت سیّدنا مُغِیرَہ بن شُعبَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنا عمامہ حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے مشہور غلام حضرت یَرفَأ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیتے ہوئے فرمایا :  ’’اسے باندھ لو میرے پاس (باندھنے کے لئے) اس جیسا دوسرا عمامہ ہے۔  ‘‘(الاصابۃ ، حرف المیم ، المیم بعدہا الغین، المغیرۃ بن شعبۃ ، ۶/ ۱۵۷، رقم : ۸۱۹۷)

اعلٰی حضرت نے اپنا عمامہ عطا فرما دیا

        مَجمَعُ السَّلاسِل ، عَارِف بِ اللّٰہ  حضرت مولانا شاہ خواجہ احمد حسین صاحب نقشبندی مجدّدی اَمروہوی کو سرکار ِغوثیت رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہ سے اشارہ ہوا کہ مولانا شاہ احمد رضا خاں سے ملاقات کیجئے لہٰذا حضرت خواجہ احمد حسین صاحب ۲۴ رمضان ذیشان ۱۳۳۱ ھ میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضلِ بریلوی قُدِّسَ سِرُّہُ القَوِی کی ملاقات کے لئے پہنچے، مغرب کا وقت تھا، جماعت قائم ہو چکی تھی، نمازِ مغرب کی پہلی رکعت تھی اعلیٰ حضرت امامت فرما رہے تھے۔  شاہ صاحب بھی جماعت میں شامل ہو گئے نمازِ مغرب کے قعدہ ٔ اخیرہ میں اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی کو حضور پُر نور سرکارِ غوثِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اِلقا فرمایا کہ خواجہ احمد حسین حاضر ہیں ان کو اجازتِ تامّہ عطا کر دیجئے۔  اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتارکر خواجہ احمد حسین شاہ صاحب کے سر پر رکھ دیا اور احادیث و اعمال و اِشغال اور سَلاسِل کی اجازت ِ تامّہ عطا فرمائی نیز فِی البَدِیہہ ’’تَاجُ الفُیُوض‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا جس سے سن ۱۳۳۱؁ ھ نکلتی ہے۔  خواجہ احمد حسین صاحب نے عرض کیا کہ حضور ابھی تو آپ سے گفتگو کا شرف بھی حاصل نہیں ہوا اور اس فقیر پر آپ کی یہ عنایتیں ، اعلیٰ حضرت نے فرمایا :  ابھی نماز کے قعدۂ اخیرہ میں میرے سرکار غوثِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے میرے قلب پر اِلقا ہوا کہ خواجہ احمد حسین حاضر ہیں ان کو اجازت ِ تامّہ دے دیجئے۔  (تجلیاتِ امام احمد رضا، ص ۱۲۳)

حضور نے عمامہ تحفے میں دیا

       دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’صحابہ کرام کا عشق رسول‘‘ کے صفحہ 166 پر ہے(1) ایک صحابی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے



Total Pages: 101

Go To