Book Name:Imamay kay Fazail

پر مضبوطی کے ساتھ عمامہ باندھیں گے اور مسواک کو بائیں کان کی طرف عمامے میں اٹکا لیں گے۔  (العھود المحمدیہ، قسم المامورات، ص۳۸)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ مسواک کتنی اہم سنّت ہے اور اس پر عمل کرنے کی کتنی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّّ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نہ صرف اس سنّت ِمبارکہ کی تلقین فرماتے ہیں بلکہ بذاتِ خود اس سنّت پر عمل بھی فرماتے ہیں ۔  آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اس عظیم سنّت سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  

کے کپڑوں میں سامنے والی جیب کے ساتھ ایک مسواک رکھنے کی جیب بھی ہے جو ماقبل مذکور طریقوں کی مکمل عکاسی کرتی ہے اور یہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عمل کا صدقہ ہے کہ دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول بھی اس ادائے امیرِاہلسنّت پر عمل پیرا ہو کر مسواک کی سنّت کی برکتوں سے مالامال ہو رہے ہیں اور  اللّٰہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کا سامان کر رہے ہیں ۔  

عمامے کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا

        حضرت سیّدنا شیخ سعدی  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْھَادِی اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’بوستان ‘‘میں واقعہ نقل فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ ایک شخص صحرا میں کہیں جا رہا تھا کہ اس نے ایک کتے کو دیکھا جو کہ پیاس کی شدت کے باعث جاں بلب تھا۔  اس خدا ترس نے اپنا عمامہ شریف کھول کر کلاہ کا ڈول بنایا اور عمامے سے باندھ کر کنویں سے پانی نکالا اور اس جاں بَلَب کتے کے حلق میں ڈال دیا جس سے اس کی جا ن بچ گئی ۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اس دور کے نبی عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو وحی فرمائی کہ اس کی مغفرت کر دی گئی ۔  (بوستان سعدی ، باب دوم در احسان، ص ۷۹)

٭ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ایک بار جب اپنے رفقاء کے ساتھ سفرِ مدینہ کے دوران ’’ بیرِ شیخ‘‘ پر پہنچے تو نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے وضو کی حاجت تھی۔  کنویں سے پانی نکالنے کے لیے رسی نہیں تھی چنانچہ عمامے باندھ کر پانی بھرا (اور) وضو کیا ۔  (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص ۲۱۷ ملخصاً)

دنیا میں عمامہ شریف کی برکتیں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے سروں پر ہاتھوں ہاتھ عمامہ شریف کا تاج سجا لیجئے۔  اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اس سے دنیاو آخرت کی بہت ساری بھلائیاں حاصل ہوں گی۔ عمامہ شریف کی برکتیں دنیا میں بھی بارہا دیکھی جاتی ہیں ، پاکستان میں اس بات کا کئی بارکا تجربہ ہے کہ پولیس والے چیکنگ کے لیے جب گاڑیوں کو روکتے ہیں تو ڈرائیور اور سواریوں کو اتار کر تلاشی لیتے ہیں ، لیکن عمامہ شریف والوں کو شاذو نادر ہی تکلیف دیتے ہیں ، کبھی کبھی عمامہ شریف کا تاج دیکھ کر اسکوٹریا کار والے کو دورہی سے اشارہ دے کر جانے کی اجازت دے دیتے ہیں اور کبھی روکنے کے بعد بآسانی رخصت کردیتے ہیں ، بلکہ ڈاکوؤں کے بھی داڑھی اور عمامے شریف کا احترام کرنے کے واقعات ہیں ، چنانچہ ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کا بیان ہے کہ میں اپنے گھر کی خواتین کو کراچی سے حیدر آباد لے جانے کے لیے بس میں سوار ہوا، سپر ہائی وے پر ایک مقام پر اچانک بس میں بیٹھے ہوئے ڈاکوؤں نے اسلحہ نکال کر ڈرائیور کو بس کچے راستے میں اتارنے پر مجبور کیا، چنانچہ بس کچے راستے میں لے جا کر ایک جگہ روک دی گئی، اب ڈاکوؤں نے تمام مسافروں کو لائن میں کھڑے ہونے کا حکم دیا، مگر میرے چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ شریف نیز سنّتوں بھرے سفید لباس کو دیکھ کر ان میں سے ایک نے کہا کہ مولانا صاحب ! آپ اپنی خواتین کو لے کر ایک طرف کھڑے ہو جائیں ہم آپ کو نہیں لوٹیں گے۔  پھر انہوں نے سارے لوگوں کو لوٹ لیا، اور بھاگتے ہوئے مجھ سے کہا ’’ مولانا صاحب تکلیف معاف کرنا اور دعا میں یاد رکھنا۔ ‘‘

سنّتوں کے اے مبلغ ! ہو مبارک تجھ کو

تجھ سے سرکار بڑا پیا رکیا کرتے ہیں

عمامے کی برکت سے جان بچ گئی

        شیخ طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَ امَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کی قیام گاہ (جسے بیتُ الفناء کہا جاتا ہے ) سے ایک اسلامی بھائی رات کے وقت سحری کے لئے روٹیاں خریدنے اترے، دہشت گردی کے دن تھے، ایک سُنسان گلی میں پیلی ٹیکسی سے مسلح آدمی اترے اور نشانہ باندھا کہ ان کے ایک ساتھی نے داڑھی مبارک ، عمامہ شریف اور سنّتوں بھرا لباس دیکھ کر کہا کہ چھوڑو یار، مولانا کو جانے دو، اور یوں اَ لْحَمدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ ہوٹل سے روٹیاں خرید کر بخیرو عافیت بیت الفناء پلٹے۔  

        غرضیکہ اس پیاری سنّت میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہے۔  ہمیں اپنی دنیاو آخرت بہتر بنانے اور شیطان کے مکرو فریب سے چھٹکارہ پانے کے لئے عمامہ شریف کی میٹھی میٹھی سنّت اپنانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنّتوں پر بھی عمل کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔  سنّتوں پر عمل کا جذبہ پانے اور ان پر استقامت کی دولت حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے فضل و کرم اور میٹھے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظرِ عنایت سے اس مدنی ماحول نے بے شمار بگڑے ہوئے نوجوانوں کو سنّتوں پر عمل کی وہ چاشنی عطا کر دی ہے کہ جس پر دنیا اَنگُشت بَدندَاں ہے۔  آپ کی ترغیب کے لئے ایک مدنی بہار پیشِ خدمت ہے چنانچہ چھانگا مانگا (ضلع قصور ، پنجاب پاکستان )کے گاؤں ہنجروال کے مقیم اسلامی بھائی اپنی داستا نِ عشرت کے خاتمے کے احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں جوانی کے نشے میں مست اپنے اُخروی انجام سے بے خبر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔  آوارہ اوربد معاش لوگوں کے ساتھ اپنی زندگی کے’’ انمول ہیرے‘‘ ’’غفلت‘‘ میں برباد کرنا میرا مشغلہ بن چکا تھا، انہی بُری صحبتوں کی بدولت ہروقت شراب کے نشے میں دھت رہتا۔  ہر ایک کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی سے پیش آناعلاقے بھر میں میری علامتِ بد بن چکی تھی۔  اس کے علاوہ گھر والے ہوں یا باہر والے میں کسی کی نہ سنتا، مزاج کے خلاف ہونے والی کسی کی کوئی بات برداشت نہ کرتا، فوراً آپے سے باہر ہو جاتا۔  بس اپنی موج مستی میں گم رہتا، برے کی صحبت برا بنا دیتی ہے کے مصداق میں جرائم کی دنیا میں اس قدر آگے بڑھتا چلاگیا کہ میر ا شمار علاقے کے مشہور غنڈوں میں ہونے لگا۔  ہر طرف میرے نام کی دہشت تھی ، کسی کی جان و مال اور عزت ِنفس مجھ سے محفوظ نہ تھی ۔ میرے دن منشیات نوشی میں تو راتیں بدکاری کے اڈوں میں سیاہ ہوتیں ۔  الغرض میرے شب و روز یونہی گناہوں میں بسر ہورہے تھے میں فکرِ آخرت سے یکسر غافل اپنی زندگی کے قیمتی ایام دنیا کی حرص اورخواہشاتِ نفسانیہ کی تکمیل میں گزار رہا تھا ۔  میرے سدھرنے کے اسباب یوں بنے کہ 2008 ء کی ایک شب خوش قسمتی سے مجھے اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں جانے کا اتفاق ہواتووہاں پر ایک مبلغ دعوت اسلامی سنتوں بھرا بیان فرما رہے تھے بیان بڑا دلنشیں تھا لہٰذا میں بھی بیٹھ کر بیان



Total Pages: 101

Go To