Book Name:Imamay kay Fazail

رہتا۔ اَ لْحَمدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اب مزاج میں نرمی بلکہ حلیمی پیدا ہوچکی ہے، اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا رخسار پیش کرسکتا ہوں ۔  

دو درد سنّتوں کا پئے شاہِ کربلا

امت کے دل سے لذتِ فیشن نکال دو

سر کی حفاظت کا ذریعہ

       عمامہ شریف بیرونی چوٹوں سے بطور سِپر (ڈھال) سر کو محفوظ رکھتا ہے۔  شاید اسی وجہ سے حکومتی طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ (Helmet) کا استعمال لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی صورت میں سر چوٹ لگنے سے محفوظ رہے۔  

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ناگہانی طور پر ہونے والے حادثات میں عمامہ شریف چوٹ لگنے سے کس طرح سر کو محفوظ رکھتا ہے اس کا اندازہ اس سچے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ

       ٹیکسلا (واہ کینٹ ، پنجاب) کے محلہ عزیز آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ خوش قسمتی سے 1990ء میں میرے بڑے بھائی کو دعوت اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول کی بہاریں نصیب ہوئیں ۔  جس کے باعث گھر بھر میں شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان یوں جاری ہو گیاکہ سب گھر والے مدنی ماحول کی برکتوں اور بہاروں سے مالامال ہوگئے۔  مرشد کی نظر فیض اثر سے میرے بڑے بھائی نے مکمل طور پر مدنی حلیہ اپنا لیا۔ بھائی جان ہمہ وقت سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے رکھتے ۔  مدنی ماحول کی برکت سے عمامہ شریف کی پابندی نے انہیں ایک سنگین حادثے میں کس طرح مامون و محفوظ رکھا اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1997ء میں بھائی جان عزیزو اقارب سے عید ملنے شکر گڑھ (ضلع نارووال ، پنجاب) گئے۔  واپسی پر عید کی وجہ سے مسافرین کی کثرت کے سبب گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں ، بہت کوشش کے بعد بالآخر بھائی جان کو آخری سے آگے والی سیٹ پرجگہ مل ہی گئی۔  گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔  دوران سفر آخری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے بھائی جان سے کہا کہ مجھے بہت نیند آرہی ہے اورسامنے سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں سر رکھ کر سو نہیں سکوں گا، آپ برا نہ مانیں تو میری جگہ پر آجائیں مجھے اپنی سیٹ دے دیں تاکہ میں اگلی سیٹ کے پشتے پر سر رکھ کے کچھ نیند پوری کر سکوں ۔  بھائی جان نے خیر خواہی کے جذبے کے تحت انہیں اپنی سیٹ دے دی اورخود پیچھے آکر بیٹھ گئے۔  بس بڑی تیزی سے فراٹے بھرتی جا رہی تھی کہ اچانک بریک لگنے کی آواز بلند ہوئی اور سواریاں اچھل کر آگے جاگریں اور آن کی آن میں ایک زبردست تَصَادُم (ٹکر) کی بدولت گاڑی آگے سے اٹھی اورستون کی ماند کھڑی ہوگئی اچانک بریک لگنے کی وجہ سے سواریاں جوآگے اچھلی تھیں بس سیدھی کھڑی ہونے سے وہ پیچھے ایک دوسرے پر دھڑام دھڑام گریں ، کچھ لوگ بھائی جان پر بھی آ گرے ، مسافروں کی چیخ و پکا ر سے بس میں ایک کُہرام بر پا تھا، بس فی الفور رآگے کی جانب گری اور دروازے کی طرف الٹ کر دور تک گھسٹتی چلی گئی۔  غرض بس کے اندر کا منظر مضبوط سے مضبوط اَعصاب رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لئے کافی تھا، بھائی جان کا کہنا ہے کہ اس قیامت خیز حادثے میں کثیر مسافر شدید زخمی ہوئے، متعدد افراد کے سروں پر بھی گہری چوٹیں آئیں میری سیٹ پر بیٹھنے والے شخص کی اگلی سیٹ دبنے کی وجہ سے دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔  اتنا کچھ ہونے کے باوجود  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے کرم اور مدنی ماحول کی برکت سے عمامہ شریف کی پیاری پیاری سنّت اپنانے کا فیض تھا کہ حادثے کے دوران اگرچہ میرا سر کئی بار اِدھر اُدھر زورسے ٹکرایا مگرچوٹ لگنے سے بالکل محفوظ رہا۔   

  اب بھی کبھی مجھے اس ہولناک حادثے کا خیال آتا ہے تو میرے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے  اللّٰہ   تَعَالٰی  سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔  آمین

دائمی نزلہ سے نجات

       مستقل عمامہ شریف باندھنے سے دائمی نزلہ نہیں ہوتا، اگر ہو بھی جائے تو اس کے اثرات کم ہوجاتے ہیں ۔  اس کا منہ بولتا ثبوت یہ سچا واقعہ ہے کہ جسے سن کر سنّت کی عظمت اجاگر ہوتی ہے اور عمامہ شریف سجانے کو جی چاہتا ہے چنانچہ ایک ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ میں دائمی نزلہ کا مریض تھا، میرے تمام ڈاکٹری نسخے مجھے نزلے سے شفا یاب نہ کرسکے، خوش قسمتی سے مجھے دعوتِ اسلامی کی برکتیں میسر آگئیں ، میں نے ادائے سنّت کی نیت سے مستقل طور پر عمامہ شریف کا تاج سجالیا۔  عمامے شریف کی سنّت پر عمل کی برکات کا یوں ظہور ہوا کہ مجھے دائمی نزلے کے مرض سے نجات مل گئی۔  

داڑھی ہے عمامے ہیں سنّت کی بہاریں ہیں

فیشن کو حیاء آئی فیضانِ مدینہ میں

عقل میں اضافہ

٭ عمامہ شریف سے دماغ کو تقویت ملتی اور حافِظہ مضبوط ہوتا ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا ربیع رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  عمامہ باندھنے سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے ۔  

(شرح بخاری لابن بطال، کتاب اللباس، باب العمائم، ۹/۸۹)

عمامہ لو لگنے سے بچاتا ہے

        جو شخص عمامہ باندھنے کا عادی ہو گاوہ لُو (Sun stroke) لگنے اور دماغی فالج جیسے امراض سے محفوظ رہے گا۔  کیونکہ جسمِ انسانی میں سر کا پچھلا حصہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔  اس جگہ سے دماغ پر سردی اور گرمی کا بہت جلد اثر ہوتا ہے۔  اگر موسم گرما میں تیز دھوپ کے وقت ننگے سر گھوما جائے تو لُو (Sun stroke) لگ جاتی ہے۔  جس سے سر میں درد اور اُبکائیاں شروع ہوجاتی ہیں ، جسم کادرجہ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے اور بسا اوقات انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔  ا س بیماری سے بچاؤ کے لیے حتی الامکان شدید گرمیوں میں دھوپ کے وقت نہ نکلا جائے اگر عندالضرورت جانا ہی پڑے تو سر اور گردن کو ڈھانپ کر باہر نکلیں ۔  اس مقصد کے لیے سنّت کے مطابق عمامہ باندھنا بہت ہی احسن ہے۔  اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس طرح سراور گردن کے ڈھک جانے سے نہ صرف اس موذی مرض سے حفاظت ہوگی بلکہ سنت پر عمل کاثواب بھی ملے گا۔  

جنگ میں عمامہ شریف کا استعمال

 



Total Pages: 101

Go To