Book Name:Imamay kay Fazail

(کراچی) میں ہونے والے مدنی مذاکرے کے دوران ایک مدنی بہار بیان کی جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے، فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں سنتوں کی خدمت کے لیے ساؤتھ افریقہ کے دورے پر تھا۔  وہاں ایک

 اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی جو اچھے خاصے تعلیم یافتہ تھے ، چونکہ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار بھی تھے لہٰذا مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے لیکن وہ اپنے دفتر میں عمامہ شریف پہن کر جانے سے کتراتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں عمامہ شریف باندھ کر جاؤں گاتو ’’لوگ کیا کہیں گے ؟‘‘ نجانے عمامہ باندھ کر میں کیسا لگوں گا؟ آپ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے خیر خواہی کرتے ہوئے اس اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کی اور کہا کہ آپ ایک مرتبہ باعمامہ دفتر جائیں تو سہی۔  میری تھوڑی دیر کی انفرادی کوشش پر انھوں نے ہامی بھرلی کہ میں عمامہ باندھ کر دفتر جاؤں گا (نگران شوریٰ فرماتے ہیں کہ)  اس کے بعد میں وہاں سے دوسرے شہر چلا گیا۔  کچھ دنوں بعد واپسی پر اس اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی تو انہوں اپنے دفتر میں پہلی مرتبہ مکمل مدنی حلیے میں جانے کا واقعہ بیان کیا، کہنے لگے چونکہ اس دن میں پہلی مرتبہ مکمل مدنی حلیے یعنی سر پر سبز سبز عمامہ سجائے اور سفید مدنی لباس زیب تن کئے اپنے دفتر جارہا تھا لہٰذا سوچ رہا تھا کہ آج تو میرے دوست میرا خوب مذاق اڑائیں گے اور مجھ پر طنز کے تیر چلائیں گے کافی حد تک میں نے اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ بھی کر لیا تھا مگر اس لمحے مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ جب میں دفتر میں داخل ہوا، کیونکہ نتیجہ میرے وہم و گمان کے بالکل برعکس نکلا تھا، مجھ پر نظر پڑتے ہی میرے دوستوں نے میری دل آزاری کرنے اور مجھ پر آوازے کسنے کے بجائے مجھے مبارکباد دینی شروع کر دی، نیز مجھے دیکھ کر کہیں سے سُبحٰنَ اللہ تو کہیں سے مَا شَآءَ  اللّٰہ  کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور تو اور جب میرا سامنا غیر مسلم منیجر سے ہوا تو پہلے اس نے سر سے پاؤں تک بغور میرا جائزہ لیا اور پھر بے اختیار بول اُٹھا (You are looking smart) یعنی تم بہت اچھے لگ رہے ہو۔  غرض ہر طرف سے حوصلہ اَفزا جملے سن کر میں خوشی سے پھولا نہ سمایا ، میری بہت ڈھارس بندھی بس وہ دن تھا اور آج کا دن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوََجَلَّ میں پابندی سے مکمل مدنی حلیے میں اپنے دفتر جاتا ہوں اور مدنی کاموں کے سلسلے میں بھی پہلے سے کہیں زیادہ بھاگ دوڑ کرنے لگا ہوں ۔  

سنَّت کی بہار آئی فیضانِ مدینہ میں          رحمت کی گھٹا چھائی فیضانِ مدینہ میں

داڑھی ہے عمامے ہیں زلفوں کی بہاریں ہیں      شیطان کو شرم آئی فیضانِ مدینہ میں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عمامہ شریف پہننے سے کوئی پر وقار اسی وقت نظر آ سکتا ہے جبکہ عمامہ شریف خوب صاف ستھرا ہو اگر صورتِ حال برعکس ہوئی تو نفرت کا سبب بن سکتا ہے ۔  یوں بھی ہمیں اپنے لباس کو میل کچیل وغیرہ سے پاک و صاف رکھنے کا نہ صرف حکم دیا گیا ہے بلکہ حضوراکرم ، نورِ مجسم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : بے شک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نظیف ہے اور نظافت کو پسند فرماتا ہے۔  (ترمذی ، کتاب الادب، باب ماجاء فی النظافۃ، ۴/ ۳۶۵، حدیث : ۲۸۰۸، مختصراً) اس لیے ہمیں اپنا عمامہ شریف ، ٹوپی اور دیگر لباس صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔

عمامہ دھوپ اور سردی سے بچاتا ہے

ٍ        حضرت سیّدنا ابو الاسود دؤلی سے عمامے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا عمامہ جنگ میں ڈھال کا کام دیتا ہے ، دھوپ کی شدّت سے بچاتا ہے ، سردی سے محفوظ رکھتا ہے ، محفل و مجلس میں عزّت بڑھاتا ہے ، درازیٔ قد کا سبب ہے نیزا س میں سر کی تعظیم ہے اور اسے عربوں کا تاج شمار کیا جاتا ہے ۔ (ربیع الابرار، الباب الخامس والسبعون اللباس والحلی من القلائد الخ، ۴/ ۴۳۵)

عمامہ کی برکت سے حرام مغز محفوظ

        فزیالوجی کی تحقیق اور ریسرچ کے مطابق جب حرام مغز (Spinal cord) محفوظ رہے گاتو جسم کا اعصابی نظام اور عضلاتی نظام درست و منظم رہے گالہٰذاجو شخص عمامہ شریف باندھتے وقت شملہ لٹکاتا ہے اس کا حرام مغز محفوظ رہتا ہے۔  

حساس طبیعت لوگوں کے لیے فائدہ مند

       عمامہ شریف سر، کان اور گردن وغیرہ کو گرمی ، سردی اور بارش کی مضرتوں (نقصانوں ) سے بچاتا ہے، خصوصاً حساس طبیعت لوگ جو بہت جلد گرمی یا سردی سے متأثر ہوجاتے ہیں ان اسلامی بھائیوں کے لیے عمامہ شریف اور اسلامی بہنوں کے لیے اوڑھنی (دوپٹہ) کسی نعمت سے کم نہیں ۔  چنانچہ اسی کمی یا ضرورت کوپورا کرنے کے لیے لوگ اکثر گلو بند، رومال اور چادر وغیرہ سے سر ڈھانپتے ہیں اورموسمِ گرما میں ان کے باعث دھوپ اور لُو سے بچاؤ رہتا ہے۔  یہ تمام فوائد عمامہ شریف کی پیاری سنّت میں بدرجہ اَتَم موجود ہیں ۔  

بیماریوں سے بچنے کا ذریعہ

       عمامے شریف کاشملہ جسم کے نچلے حصّے (Lower Half of the body) کو فالج سے محفوظ رکھتا ہے ۔  کیونکہ عمامے شریف کا شملہ حرام مغز کو سردی، گرمی اور موسمی تغیرات سے بچاتاہے۔  اس لئے ایسے آدمیوں کو سَرسَام کے خطرات بہت کم رہتے ہیں ۔  (دماغ کی سُوجن کے مَرَض کو سرسام کہتے ہیں ۔   

٭عمامہ شریف کاشملہ ریڑھ کی ہڈی کے وَرَم سے بھی بچاتا ہے۔  

٭عمامہ شریف دردِ سر کے لئے بہت مفید ہے۔  جو عمامہ باندھے گا اسے دردِ سر کا خطرہ بہت کم ہو جائے گا۔  

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کئی اسلامی بھائیوں کے اس طرح کے واقعات ملتے ہیں کہ عمامہ شریف سجانے کی برکت سے دردِ سر جاتا رہا ایسی ہی ایک ایمان افروز مدنی بہار ملاحظہ فرمائیے اور عمامہ شریف سجانے کی نیّت فرما لیجئے، چنانچہ :  

        گوجرانوالہ (پنجاب ، پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ

 میرے سر میں تین سال سے در د تھا۔  بڑے علاج کروائے مگر بے سود، خوش قسمتی سے مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آگیا۔  میں نے داڑھی شریف بڑھانی شروع کردی اور اپنے سر پر مستقل طور پر عمامہ شریف سجالیا، اَلحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ گنبدِ خضریٰ کی یادوں سے معمور سبز سبز عمامہ شریف کی برکت سے میرا دردِ سر ہمیشہ کے لیے کافور ہوگیا۔  ان ہی اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے کہ عمامہ شریف کی دوسری برکت جو میں نے دیکھی وہ یہ کہ عمامہ شریف سجانے سے پہلے میں انتہائی غصیلا اور چڑچڑ ے پن کا مالک تھا۔  میری حالت یہ تھی کہ بات بات پر لڑنے مرنے مارنے کے لئے تیار



Total Pages: 101

Go To