Book Name:Imamay kay Fazail

         اَحسنُ العُلَماء مولانا سید مصطفی حیدر حسن برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف نے۶ شعبان المعظم ۱۴۰۳ ھ کو سرزمین گولا ضلع پیلی بھیت پر حسّان الہند قاری محمد امانت رسول رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کو تمام سَلاسِل وغیرہ کی اجازتیں عطا فرمائیں ، عرس قاسمی (مارہرہ ) کے موقع پر خانقاہ برکاتیہ میں مولانا سید مصطفی حیدر حسن میاں برکاتی نے اپنا عمامہ شریف قاری امانت رسول کے سر پر باندھا اور فرمایا :  خلافت تو گولا میں دے چکا، دستار رہ گئی تھی وہ یہاں باندھی گئی۔  (مفتی ٔاعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۲۰۹)

عمامہ شریف کیوں عطا نہ فرمایا؟

       جناب سید ایوب علی صاحب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ علامہ شِیرِیں زباں ، واعظِ خوش بیاں ، مولانا مولوی حاجی قاری شاہ عبدالعلیم صاحب صدیقی قادری رضوی میرٹھی( خلیفۂ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) حرمین شریفین سے واپسی پر اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی شان میں ایک منقبت نہایت ہی خوش آوازی سے پڑھ کر سنائی۔ جس کا مَطلَع اور مَقطَع یوں ہے

تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سوا تم ہو

قسیمِ جامِ عرفان اے شہِ احمد رضا تم ہو

’’علیمِ ‘‘ خستہ اک ادنیٰ گدا ہے آستانے کا

کرم فرمانے والے حال پر اس کے شہا تم ہو

ابھی آپ نے چند ہی اشعار پڑھے تھے کہ مجمع میں ایک جوش و جذبہ پیدا ہوا، بعض وجد میں آگئے، اعلیٰ حضرت خود بھی ان اشعار پر محظوظ ہورہے تھے، لیکن شاہ عبدالعلیم میرٹھی نے منقبت کو جاری رکھا جب مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی اشعار پڑھ چکے تو اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا : مولانا! میں آپ کی خدمت میں کیا پیش کروں ( اپنے عمامہ شریف (جو کہ بیش قیمت تھا) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) اگر اس عمامہ کو پیش کردوں توآپ اُس دیارِ پاک سے تشریف لارہے ہیں ، یہ عمامہ آپ کے قدموں کے لائق بھی نہیں ، البتہ میرے کپڑوں میں سب سے بیش قیمت ایک جُبّہ ہے وہ حاضر کیے دیتا ہوں ، چنانچہ آپ نے کاشانۂ اقدس سے سرخ کاشانی مخمل کا ’’جبہ مبارکہ‘‘ لا کر عطا فرمادیا جو ڈیڑھ سو روپے سے کسی طرح کم قیمت کا نہ ہوگا۔  مولانا ممدوح نے سرو قد کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ پھیلاکر لے لیا، آنکھوں سے لگایا ، لبوں سے چوما ، سر پر رکھا۔  پھر سینے سے دیر تک لگائے رہے۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱/ ۱۳۲)

حضور کو عمامہ باندھنے والے صحابۂ کرام

        حضرت علامہ محمد بن سعد عَلَیہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الاَحَد نقل فرماتے ہیں کہ (غزوۂ اُحد پر روانگی سے قبل) جب نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے نمازِ عصر پڑھائی اور اپنے دولت خانہ میں تشریف لے گئے تو حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق اور حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما  بھی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے ساتھ داخل ہوئے ۔  ان دونوں خوش نصیب صحابۂ کرام نے آقائے نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے مبارک سر پر عمامہ شریف باندھا۔  (طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ و سلم احداً ، ۲/ ۲۹)

        حضرت سیّدنا جَعفَر بِنْ بُرقان فرماتے ہیں :  مجھے اہلِ مکہ میں سے ایک شخص نے حدیث بیان کی کہ حضرت سیّدنا فضل بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں مرضِ وفات میں حاضر ہوئے تو سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا :  یَا فَضلُ شُدَّ ہٰذِہِ العِصَابَۃَ عَلٰی رَاسِی یعنی اے فضل ! یہ عمامہ لو اور میرے سر پر باندھ دو۔  تو انہوں نے سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے سرِاقدس پر عمامہ شریف باندھا۔ (طبقات ابن سعد، ذکر ما اوصی بہ رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ و سلم فی مرضہ الذی مات فیہ ، ۲/ ۱۹۶)     

عمامہ شریف کے طبّی و دنیوی فوائد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام دینِ فطرت ہے۔  بنظرِ غائر دیکھا جائے تو گناہوں کی معافی ، حصولِ ثواب اور بلندیٔ درجات جیسے اخروی فوائد کے ضمن میں یہ ہماری ظاہری فلاح اور بدنی صحت کے لئے بھی مکمل ضابطۂ حیات ہے۔  فرائض و واجبات کی پابندی کی ساتھ ساتھ نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی، روحانی اور معاشی زندگی میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہو سکتے ہیں ۔  یقیناً نبیٔ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتیں اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اندازِ زندگی بنی نوعِ انسان کی کامیابی کے لئے حفظانِ صحت کے اُصولوں کے عین مطابق ہے۔  جنہیں قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ نے آج سے کم و بیش چودہ سو سال پہلے بیان فرما دیا تھا اور جدید سائنس اب کہیں جا کر ان زَرِیں اُصولوں کی اِفادِیت سے آگاہ ہوئی ہے۔  سائنس دانوں نے آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیل و نہار کے معمولات پر تحقیقات کر کے ان میں حکمتیں تلاش کیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں انہیں مختلف انداز سے اپنانا بھی شروع کر دیا ہے۔  اسلام علاج سے زیادہ حفظانِ صحت اور اِحتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے جیسا کہ طہارت ، نماز، روزہ اور مسواک کے اپنانے سے حاصل ہونے والے طبّی فوائدشیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ نے بھی اپنے رسائل و کتب میں ذکر فرمائے ہیں ۔  

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف بھی ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاری سنّت ہے۔  اس سنّت پر عمل کرنے سے حاصل ہونے والے فضائل و برکات آپ نے ملاحظہ فرمائے۔  مُحَقِّقِیْن نے اس کے جو طبّی اور دنیوی فوائد ذکر کیے ہیں ان کاخلاصہ ذیل میں بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے۔  

عمامہ خوبصورتی کا باعث

٭جمالیاتی نُقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عمامہ شریف چہرہ کو بارُعب، خوبصورت اور پُرکشش بنا دیتا ہے۔  جس کا اندازہ درجِ ذیل مدنی بہار سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ

       دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حضرت مولانا حاجی ابوحامد محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی  نے 31 دسمبر 2012 ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ



Total Pages: 101

Go To