Book Name:Imamay kay Fazail

ایمان کا اظہار ہے سرکار کی الفت

سرکار سے الفت کا ہے اظہار عمامہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

عمامے (TURBAN) کا تلفظ اور معنی

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  عِمامہ (عِ-مَ-ا-مَ-ہ) عربی زبان کا لفظ ہے اس کا درست تلفظ عین کی زیر کے ساتھ عِمامہ ہے اسے عین کے زبر کے ساتھ عَمامہ پڑھنا غلط ہے جیسا کہ علامہ ابو الفیض محمد بن محمد بن عبد الرزّاق الحسینی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اپنی لغت کی شُہرۂ آفاق کتاب’’ تَاجُ العُرُوس ‘‘میں فرماتے ہیں ’’عِمامہ عین کی زیر کے ساتھ ہے اور جو شَمائل کے بعض شارِحِین (شرح کرنے والوں ) نے اسے زبر کے ساتھ عَمامہ لکھاہے وہ غلط ہے۔  ‘‘(تاج العروس، باب المیم ، فصل العین، ۱/ ۷۸۳۰)     

عمامے کا لغوی معنٰی :  

        اسلامی ممالک میں مردوں کے سر کا لباس جس میں بِالعُمُوم ایک ٹوپی ہوتی ہے جس کے گرد کچھ کپڑا لپٹا ہوتا ہے ۔  لُغت میں ہر اس شے کو عمامہ کہا جاتا ہے جسے سر پر لپیٹا جائے ، جیسا کہ علامہ ابراہیم بیجوری (بَ-ی -جُو-رِی) عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  وَالعِمَامَۃُ کُلُّ مَا یُلَفُّ عَلَی الرَّأسِ یعنی ہر وہ چیز جسے سر پر لپیٹا جائے اسے عمامہ کہتے ہیں ۔

 (المواہب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی صفۃ عمامۃ رسول  اللّٰہ ، ص ۹۹)

عمامے کا شرعی معنٰی :  

        شرعی طور پر عمامے سے مراد سر پر باندھنے کا ایسا کپڑا ہے جس کے کم از کم تین پیچ سر پر باندھے جا سکیں چنانچہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  ’’ تین پیچ اگر اس کپڑے سے لپیٹے جائیں تو عمامہ کے حکم میں ہے ورنہ کچھ نہیں ۔ ‘‘ (فتاویٰ امجدیہ، ۱/ ۱۹۹)

عمامے کی وجہ تسمیہ :   

        حضرت علامہ محمد بن جعفر کَتَّانی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :   

  ’’عمامے کو ’’عمامہ‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پورے سر کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ ‘‘  (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۴)

عمامے کی ابتداء

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے شریف کی ابتداء حضرت سیّدنا آدم صَفِیُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے ہوئی۔  جس وقت آپ جنت سے دنیا میں تشریف لائے تو حضرت سیّدنا جبریل امین عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے آپ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو عمامہ شریف باندھا۔  (محاضرۃ الاوائل، ص۸۴)

حضرت ذوالقرنین کی دلچسپ حکایت

        حضرت سیّدنا آدم عَلٰی نَبِیّنَا وَ عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بعد حضرت سیّدنا ذوالقرنین ([1]) رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ نے عمامہ شریف باندھا۔  اس کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ ابوالشیخ عبد اللّٰہ  بن محمد بن جعفر اَصبَہَانی رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ (مُتَوَفّٰی ۳۶۹ھ) نقل فرماتے ہیں کہ آپ کے سر میں دو سینگ نکل آئے تھے جو کہ حرکت بھی کیا کرتے تھے آپ انہیں چھپانے کے لیے عمامہ شریف باندھنے لگے۔  ایک روز آپ حمام میں داخل ہوئے تو آپ کا کاتب بھی آپ کے ساتھ تھا، آپ نے سر سے عمامہ شریف اتارا اور فرمایا اس با ت (یعنی بادشاہ کے سینگوں )کے بارے میں سوائے تیرے اور کوئی نہیں جانتا اگر میں نے کسی سے اس کے متعلق سنا تو تیری گردن اڑا دوں گا۔  کاتب حمام سے نکلا تو اس پر موت کا خوف طاری تھاوہ صحر امیں گیا اور اپنا منہ زمین پر رکھ کر پکارا سنو ! بادشاہ کے دو سینگ ہیں ۔  سنو! بادشاہ کے دو سینگ ہیں ۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اس کے کلمات سے دو بانس اُگا دئیے۔  ایک چرواہے کا وہاں سے گزر ہوا اسے یہ پسند آ گئے اس نے بانسوں کو کاٹ کر ایک بانسری بنا لی۔  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قدرت دیکھئے وہ جب بھی بانسری بجاتا تو اس سے آواز آنے لگتی :  سنو! بادشاہ کے دو سینگ ہیں ۔  اس طرح یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی۔  بادشاہ نے کاتب سے کہا :  سچ سچ بتا کیا معاملہ ہے؟ ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔  کاتب نے سارا واقعہ سنا دیا۔  حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ نے فرمایا :

 ’’  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اس بات کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے‘‘ پھر آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ نے اپنے سر سے عمامہ شریف اتار دیا۔

 (کتاب العظمۃ ، قصۃ ذی القرنین ، ص ۳۳۹، رقم :  ۹۷۶، تفسیردرِمنثور ، پ ۱۶، الکہف ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۵/ ۴۳۶ ، الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۵)

        مُحَاضَرَۃُ الْاَوَائِل میں مذکورہے کہ حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ پہلے تاج پہنا کرتے تھے نیز یہ کاتب آپ کا ہمراز تھا۔  (محاضرۃ الاوائل، ص۸۴)

حضرت ذوالقرنین نبی تھے نہ فرشتے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  مذکورہ روایت میں حضرت سیّدنا ذوالقرنین رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ کے سینگوں کا ذکر ہے جس سے گمان ہوتاہے کہ ان کے جانوروں کی طرح سینگ تھے حالانکہ ایسا نہیں ، یہ سینگ کیا تھے؟ کیسے پیدا ہوئے؟ اس کی تفصیل بابِ مدینۃُ العلم حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ، شیرِ خدا کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے بیان فرمائی ہے چنانچہ حضرت سیّدنا ابوطفیل عامر بن واثِلہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں :  میں حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔  آپ نے دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا : سَلُونِی فَوَ اللّٰہ  لَا تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ یَکُونُ اِلٰی یَومِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُم بِہٖ یعنی مجھ سے سوال کرو ،  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے کسی بھی معاملے کے متعلق پوچھو میں جواب دوں گا۔  مجھ سے کتابُ  اللّٰہ  کے



1      اسکندر ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ خضر عَلَیْہِ السَّلام کے خالہ زاد بھائی ہیں ۔ حضرت خضر  عَلَیْہِ السَّلام ان کے وزیر اور صاحب ِ لواء تھے۔ (تفسیر خزائن العرفان تحت سورئہ کہف آیت ۸۳) یہ تمام دنیا کے حکمران تھے چنانچہ اللّٰہ تعالٰی فرماتاہے: سورئہ کہف کی آیت ۸۴ ، ترجمہ کنزالایمان :’’بے شک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔



Total Pages: 101

Go To