Book Name:Imamay kay Fazail

  (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مقدام، ۶/ ۳۱۸، حدیث :  ۸۹۰۱ ، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی العمائم، ۵/ ۲۰۹، حدیث : ۸۴۹۸)

        مُحَرِّرِ مَذہَبِ حَنَفِی ، امامِ ربّانی حضرت سیّدنا امام محمد بن حسن شیبانی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں :  وَ اِنَّمَا فَعَلَ ذٰلِکَ اِکْرَامًا لَہُ خَصَّہُ بِہٰذِہِ الْکَرَامَۃِ مِنْ بَیْنِ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ  اللّٰہ  عَنْہُمْ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو عمامہ شریف باندھ کران کی عزّت افزائی فرمائی اور انہیں اس کے ذریعے صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان میں ممتاز فرمایا۔  اسی حدیثِ پاک کے تحت شَمسُ الاَئِمَّہ حضرت سیّدنا امام محمد بن احمد سَرَخسِی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  اس میں عمامہ کھول کر دوبارہ باندھنے کی دلیل ہے ، عمامہ ایک ہی بار سر سے نہیں اتارنا چاہئے بلکہ جس طرح باندھا تھا اتارتے وقت بھی اسی طرح ایک ایک کر کے پیچ کھولنا چاہے۔  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ اسی طرح کھولا لہٰذا ایک ہی بار کھول کر زمین پر ڈال دینے سے یہ طریقہ بہتر ہے۔  (شرح سیر الکبیر، باب العمائم فی الحرب، ۱/ ۶۷)

سیّدنا صِدِّیقِ اکبر نے خواب میں عمامہ سجا دیا

        حضرت سیّدنا شریف نعمانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ (جو کہ حضرت شیخ محمد حنفی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے مُتَوَسِّلِین میں سے تھے) فرماتے ہیں :  میں نے خواب میں اپنے جَدِّ اَمجد حضور نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا، ایک بڑے خیمے میں جلوہ گر ہیں اور اُمّت کے اولیاء کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام حاضر ہو کر یکے بعد دیگرے سلام عرض کر رہے ہیں اور کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہ فلاں وَلیُ  اللّٰہ  ہیں اور یہ فلاں ہیں اور آنے والے حضرات سلام عرض کر کے ایک جانب بیٹھتے جاتے ہیں ۔  حتی کہ ایک جانب سے جَمِّ غَفِیر آتا دکھائی دیا تو ندا دینے والا کہنے لگا یہ محمد حنفی (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ) آ رہے ہیں ۔  جب وہ نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آقائے دو جہاں  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انھیں اپنے پاس بیٹھا لیا ، پھر آپ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْھُمَا کی طرف متوجہ ہوئے اور شیخ محمد حنفی  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں سوائے اس کے عمامہ کے جو بغیر شملے کے ہے۔  یہ سن کر حضرت سیّدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  یَا رَسُوْلَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اجازت ہو تو میں ان کے سر پر عمامہ شریف باندھ دوں ؟ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہاں ۔  حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا عمامہ شریف لے کر حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے سر پر باندھ دیا اور عمامہ کا شملہ بائیں جانب لٹکایا۔  

        حضرت سیّدنا شریف نعمانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے جب یہ خواب حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو سنایا تو وہ اور ان کے ہمنشیں سب آبدیدہ ہو گئے۔  پھر حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے شیخ شریف نعمانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا :  آئندہ جب آپ کو سیّدِ دو عالم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہو تو عرض کیجئے گا یہ نظرِ عنایت محمد حنفی (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) کے کون سے عمل کی وجہ سے ہے؟ کچھ دنوں کے بعد شیخ شریف نعمانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ زیارت کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہ عرض پیش کر دی۔  رسولِ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  وہ روزانہ بعد نمازِ مغرب خَلوَت میں مجھ پر یہ درودِ پاک پڑھتے ہیں :  

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِہٖ وََصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ عَدَدَ مَاعَلِمْتَ وَزِنَۃ مَاعَلِمْتَ وَمِلْئَ مَا عَلِمْتَ ۔

        جب یہ واقعہ حضرت محمد حنفی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا :   اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ کے حبیب  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حق فرمایا، پھر عمامہ شریف لیا ، اسے سر پر باندھا اور اس کا شملہ چھوڑا ۔  پھر آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں حاضر سب ہی لوگوں نے اپنے اپنے عمامے اتارے اور دوبارہ شملے والے باندھے۔  (الطبقات الکبری ، الجزء الثانی، ۱۲۵، سعادۃ الدارین ، ص ۱۴۸)

سیّدنا صِدِّیقِ اکبر نے خواب میں کُلاہ عطا فرمائی

         دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ کے صفحہ 445 پر ہے حضرت (سیّدنا) ابوبکر ھوار رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ پہلے رَہزن ( یعنی ڈاکو) تھے ، قافلے کے قافلے تنہا لُوٹا کرتے تھے۔  ایک بار ایک قافلہ اُترا ۔  آپ وہاں تشریف لے گئے، ایک خیمہ کی طرف گئے۔  اُس خیمے میں عورت اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی :  ’’شام قریب ہے اور اس جنگل میں ابوبکر ھوار کا دخل ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ آ جائیں !‘‘ بس یہ کہنا ان کا ہادی ( یعنی ہدایت کا سبب) ہو گیا۔  خود فرمایا :  ’’ابوبکر تیری حالت یہ ہوگئی کہ خیموں میں عورتیں تک تجھ سے خوف کرتی ہیں اور تُو خدا سے نہیں ڈرتا!‘‘ اسی وقت تائب ہوئے ا ور گھر کو لوٹ آئے۔  شب کو سوئے خواب میں زیارتِ اقدس (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے مشرف ہوئے ۔  حضورِ اقدس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم کے ساتھ ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے ۔  آپ نے عرض کیا :  بیعت لیجئے! ارشاد فرمایا :

 ’’ تجھ سے تیرا ہم نام بیعت لے گا۔ ‘‘ ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے بیعت لی اور اپنی کُلاہ (یعنی عمامہ) مبارک انکے سر پر رکھی۔  آنکھ کھلی تو کُلاہ اقدس موجود تھی ۔  یہ سلسلہ ھواریہ آپ سے شروع ہوا۔  (جامع کرامات الاولیائ، حرف الالف، ابوبکر بن الھوار، ۱/ ۴۲۵)

اولیاء  اللّٰہ  کی دستار بندی کے واقعات

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علماء کرام اور اولیاء عظام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلَام کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہونہار اور قابلِ فخر شاگردوں اور مریدین کو ان کے کسی کارنامے یا منازلِ سُلوک طے کرنے پر عمامے شریف سجاتے اور اپنی اَسناد سے نوازتے ہیں ایسے ہی چند واقعات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

سیّدنا غوثِ اعظم کی دستار بندی

        حضرت سیّدنا غوثِ اعظم کے پیرومرشد، حضرت سیّدنا ابوسعید مَخزومی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کُلاہ ، عمامہ ، اور خرقہ ہمدست حضرت خضرعَلَیْہِ السَّلام جامع مسجد میں لے کر حاضر ہوئے، دیکھتے ہی سیّدنا غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الاَکرَم نے آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قدم بوسی فرمائی اور نمازِ جمعہ سے فراغت کے بعد روزِ جمعہ ماہِ صفرالمظفر  ۵۱۱ ھ کو اسی مسجد میں تمام مُعاصِر اولیاء کرام کی موجودگی میں سیّد عبدالقادر جیلانی کو اپنے ہاتھ پر بیعت و ارشاد سے مشرف کر کے اپنی کلاہ ان کے سر پر اُوڑھا دی اور اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھ کر خرقہ انہیں پہنا دیااور خلافت نامہ اہلِ مجلس کو سُنا کر عطا فرمایا۔

  (تاریخ مشائخ قادریہ ، ۱/ ۱۴۰)

سیّدنا اعلٰی حضرت کی دستار بندی

 



Total Pages: 101

Go To