Book Name:Imamay kay Fazail

ہوتی ہیں ، بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔  (3) جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑدیتے ہیں تو  اللّٰہ  تَعَالٰی اُن سے بارش روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔  (4) جب لوگ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کے عہدکو توڑ دیتے ہیں تو  اللّٰہ  تعالٰی ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے تو وہ ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لیتے ہیں اور(5)  جب مسلمان حکمران کِتابُ  اللّٰہ  سے فیصلے کرنا چھوڑ دیں گے تو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا۔  پھر آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو ایک جنگ کے لئے لشکر تیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔  تو حضرت سیّدنا عبدالرحمن رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سوتی سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے حاضر ہوئے ۔  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے انہیں قریب بلایا ان کا عمامہ اُتارا اور سفید رنگ کا عمامہ شریف یوں باندھا کہ اس کا چار انگل یا اس سے کچھ زائد شملہ ان کی پشت پر لٹکا دیا اور فرمایا :  اے ابن عوف ! اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین ہے۔   (المستدرک، کتاب الفتن و الملاحم، ذکر خمس بلاء الخ، ۵/ ۷۴۹، حدیث : ۸۶۶۷)

       حضرت  علامہ علی بن بُرہانُ الدِّین حَلَبِی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اور علامہ  ابوعبد اللّٰہ  محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی  نے یوں روایت نقل فرمائی کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو قریب بلا کر اپنے سامنے بٹھایا اور ان کا سیاہ عمامہ کھول کر اسے ہی دوبارہ باندھ دیا اور اس کا چار انگل یا اس سے کچھ زائد شملہ ان کی پشت پر لٹکا 

 دیا اور فرمایا :  اے ابن عوف ! اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین ہے۔  

(کتاب المغازی ، سریۃ امیرہاعبدالرحمن بن عوف ، ۲/ ۵۶۰ ، سیرت حلبیہ، باب سرایاہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم الخ، سریۃ عبد الرحمن بن عوف، ۳/ ۲۵۵)

حضرت عبد الرحمٰن کے سر پر دو شملوں والا عمامہ

         حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے مجھے عمامہ شریف باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے لٹکا دیا۔

 (ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی العمائم، ۴/ ۷۷ ، حدیث : ۴۰۷۹، شعب الایمان، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۴، حدیث : ۶۲۵۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ ، سیّدنا عبدالرحمن بن عوف اورسیّدنامُعاذ بن جبل رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُم کا شماران خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جن کے سر پر خوددو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے عمامہ شریف باندھا۔  حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو جب کبھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا ، یا کوئی بڑا معاملہ در پیش ہوتا تو اس عمامہ شریف کو زیبِ سر فرماتے چنانچہ   

        حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب خلافتِ سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے وہ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جو سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر سجایا تھا۔  (البدایۃ و النہایۃ، خلافۃ امیرالمومنین عثمان بن عفان الخ، ۵/ ۲۲۷)

دستارِ فضیلت کا ثبوت

       آج کل دینی جامعات میں ایک مخصوص تقریب کااہتمام کیا جاتا ہے جس میں فارغُ التحصیل طلبہ کے سروں پر کوئی بزرگ عمامہ باندھتے ہیں جیسا کہ تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت جامعات المدینہ سے فارغُ التحصیل بارہ ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کر چکنے والے مدنی اسلامی بھائیوں کے سروں پر شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمامہ شریف سجاتے ہیں ، اس کی اصل بھی یہی حدیثِ مبارکہ ہے چنانچہ

         مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیہ رَحمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  آج کل فارغ التحصیل طلباء کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسمِ دستار بندی کہا جاتا ہے۔  اس کی اصل یہ حدیث ہے۔   

  مزید فرماتے ہیں کہ (نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت عبدالرحمن رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو عمامہ شریف) اس طرح (باندھا) کہ عمامہ کا پہلا شملہ تو سینہ پر ڈالا اور آخری شملہ پیٹھ پر ڈالا۔  یہ ہی سنّت ہے۔  مزید فرماتے ہیں کہ (عمامہ) کھڑے ہو کر باندھنا سنّت ہے۔  مسجد میں باندھے یا کہیں اور۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۱۰۵ ملتقطاً)

        حضرت علامہ احمد بن حسین بن حسن بن علی المعروف اِبنِ رِسلان (مُتَوَفّٰی ۸۴۴ ھ) اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ سینے پر عمامے کا شملہ لٹکانا عاملِ سنّت صالحین کا شِعَار  ہے۔  

(الموسوعۃ الفقہیہ ، ذوابۃ ، ۲۱/ ۱۶۸)

       حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  مندرجہ بالا روایت نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں کہ :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو عمامہ اس لئے باندھا تھا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے شملہ نہیں چھوڑ رکھا تھا۔  (درالغمامۃفی در الطیلسان والعذبۃ والعمامۃ ، الفصل الاول ، ص ۴ مخطوط مصور)

دونوں کندھوں پر شملے

       امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے غدیر خُم کے مقام پر میرے سر پر عمامہ باندھا جس کا شملہ میری پشت پر لٹکایا۔  دوسری روایت میں ہے کہ’’سَدَلَ طَرَفَیہَا عَلٰی مَنْکِبَیَّ‘‘ یعنی دو شملے میرے دونوں کندھوں پر لٹکائے۔

  (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز : ۱۵، ۸/ ۲۰۵، حدیث : ۴۱۹۰۲ مختصراً)

سرکار نے چار انگل شملہ چھوڑا

       حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہا فرماتی ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر عمامہ شریف باندھا تو چار انگل شملہ چھوڑا اور فرمایا میں جب آسمانوں پر گیا تو میں نے اکثر فرشتوں کو عمامے سجائے دیکھا تھا۔

 



Total Pages: 101

Go To