Book Name:Imamay kay Fazail

بن حجر مکی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے سبز عمامے کو بدعت نہیں فرمایا بلکہ مصر کے بادشاہ الاشرف شعبان بن حسین([1]) نے ۷۷۳ ھ میں جو ساداتِ کرام کی عزّت و تکریم کے لیے اُن کے عماموں پر سبز رنگ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا علامت کے طور پر لگانے کا اہتمام کیا تھا تاکہ سیّد اور غیر سیّد میں امتیاز ہو جائے([2]) اس علامت کو بدعت فرمایا نہ کہ سبز عمامہ کو،  جیسا کہ ان حضرات کی عبارات سے ظاہر ہے چنانچہ حضرت سیّدنا امام سیوطی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سے کیا گیا سوال اور اس کا جواب بالترتیب یوں ہے :  ہَل یَلبَسُونَ العَلاَمَۃَ الخَضْرَاء ؟ والجواب :  اَنَّ ہٰذِہِ الْعَلاَمَۃَ لَیسَ لَہَا اَصلٌ فِی الشَّرعِ وَلاَ فِی السُّنَّۃِ وَلاَ کَانَت فِی الزَّمَنِ القَدِیمِ، وَاِنَّمَا حَدَثَتْ فِی سَنَۃِ ثَلاَثٍ وَّسَبعِینَ وَسَبعِ مِائَۃٍ بِاَمرِ المَلِکِ الاَشرَفِ شَعبَانَ بنِ حُسَین یعنی کیا سبز علامت (جو کہ ساداتِ کرام کے لئے مقرر کی گئی ہے) کا پہننا جائز ہے ؟ جواب :  اس کی قراٰن و سنّت اور زمانۂ قدیم میں کوئی اصل نہیں ہے (یعنی نبیٔ کریم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانو تابعینِ عُظَّام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے اسے ساداتِ کرام کے لئے مقرر نہیں فرمایا) بلکہ اسے (یعنی سبز علامت کو نہ کہ سبز عمامے کو) بادشاہ الاشرف شعبان بن حسین نے ۷۷۳ ھ میں مقرر کیا تھا۔  

        حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  اس پر کئی شعراء نے اشعار بھی کہے جیسے صاحبِ شرح الفیہ علامہ جابر بن عبد اللّٰہ  اُندلُسی کہتے ہیں :  ’’لوگوں نے نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اولاد کے لیے علامت مقرر کی ہے، علامت تو اس شخص کے لیے ہوتی ہے جو مشہور نہ ہو ، ان کے چہروں میں نورِ نبوت کی چمک دمک، ساداتِ کرام کو سبز علامت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔  ‘‘(الحاوی للفتاوی ، العجاجۃ الزرنبیۃ الخ، ۲/ ۴۰)

سادات کو سبز علامت  پہنانے کا شرعی حکم

        حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی مزید فرماتے ہیں :  لُبسُ ہٰذِہِ العَلَامَۃِ بِدعَۃٌ مُبَاحَۃٌ لَا یُمنَعُ مِنہَا مَن اَرَادَہَا مِنْ شَرِیفٍ وَغَیرِہٖ وَلَا یُؤمَرُ بِہَا مَنْ تَرَکَہَا مِنْ شَرِیفٍ وَغَیرِہٖ یعنی اس سبز علامت کا پہننا بدعتِ مباحہ ہے اگر کوئی سیّد یا غیرِ سیّد اسے پہننا چاہے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی سیّد یا غیرِ سیّد اسے نہ پہننا چاہے تو اسے اس علامت کے پہننے کا حکم بھی نہیں دیا جائے گا۔  (الحاوی للفتاوی ، ص ۲۹۷ مخطوط مصور)

یہ اچھا طریقہ ہے

        حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی مزید فرماتے ہیں :  (اس سبز علامت کے بارے میں ) زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے اَشراف (یعنی ساداتِ کرام ) اور غیر سادات میں فرق کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس سلسلے میں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے تائید حاصل کی جاسکتی ہے :  

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ

تر جمۂ کنزالایمان :  اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منھ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں ۔

(پ ۲۲، الاحزاب ، الآیۃ : ۵۹)

        بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ’’ علماء کا مخصوص لباس بڑی بڑی آستینیں ، چادر اوڑھنا وغیرہ ہونا چاہیے تاکہ لوگ انہیں پہچان سکیں اور علم کی بنا پر ان کی تعظیم کی جائے، یہ اچھاطریقہ ہے۔ ‘‘ (الحاوی للفتاوی، ص۲۹۷ مخطوط مصور)     

       حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ساداتِ کرام کے لئے مقرر کردہ اسی سبز علامت کے بارے میں فرماتے ہیں :  فَاِذَا کَانَت حَادِثَۃٌ فَلَا یُؤمَرُ بِہَا الشَّرِیفُ وَلَا یُنْہٰی عَنہَا غَیرُہ یعنی جب (یہ علامت ) ایک نئی چیز ٹھہری تو نہ تو کسی سیّد کو اس کا حکم دیا جائے گا اور نہ ہی غیرِ سیّد کو اس سے منع کیا جائے گا۔  

(فتاوی حدیثیۃ، مطلب فی ان العلامۃ الخضراء للاشراف الخ، ص ۲۲۵)

سبز رنگ تمام رنگوں سے افضل

        فَنَا فِی الرَّسُول ، حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نَبہَانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں :  اولاً بادشاہ شعبان بن حسین نے ۷۷۳ ھ میں ساداتِ کرام کی عزّت و تکریم کے لیے یہ اہتمام کیا کہ صرف ان کے عماموں پر سبز رنگ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا علامت کے طور پر لگایا جانے لگا تاکہ سیّد اور غیر سیّد میں امتیاز ہو جائے ثُمَّ تُوسَعُ فِیہَا حَتّٰی جُعِلَتِ العِمَامَۃُ کُلُّہَا خَضرَائَ یعنی پھر اس علامت میں توسیع کی گئی حتی کہ پورے عمامے کو سبز کر دیا گیا۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ مزید فرماتے ہیں کہ سبز رنگ ہی کو اختیار کرنے کا سبب ممکن ہے یہ ہو کہ یہ تمام رنگوں سے افضل ہے یا اس لیے کہ قیامت کے دن ہمارے نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اسی رنگ کا حُلَّہ پہنایاجائے گا یا اس لیے کہ جنتیوں کے لباس کا بھی یہی رنگ ہو گا۔  (الشرف المؤبد ، ص ۴۴)

علامہ نبہانی کی اہم وضاحت

        حضرت علامہ نبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  کی مذکورہ بالا عبارت نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں کہ جس علاقے میں سبز عمامہ صرف ساداتِ کرام ہی پہنتے ہوں وہاں کسی غیرِ سیّد کو سبز عمامہ نہیں پہننا چاہئے کیونکہ اِس طرح اُس کے بھی سیّد ہونے کا گمان ہو گا لیکن اگر کسی علاقے میں سبز عمامہ سیّدوں کا شِعَار نہیں ہے تو پھر غیرِ سیّد کے پہننے میں بھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ قُسطُنطُنیَہ وغیرہ شہروں میں سبز علامت سیّد ہونے پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ وہاں عمامے استعمال کرنے والے لوگ اور علماء و طلباء کی بڑی تعداد بعض اوقات سبز عمامہ باندھتی ہے اور سردیوں میں خاص طور پر بکثرت استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں میل ظاہر نہیں ہوتا بلکہ کاروباری اور تجارت کرنے والے لوگ بھی اسی سبب سے سبز عمامے بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔  (الشرف المؤبد، ص۴۵)

 



1     سلطان اشرف ابوالمعالی زین الدین شعبان ثانی مملوک سلطنت مصر کا حکمران تھا۔ ۱۵شعبان ۷۶۴ ھ مطابق 30  مئی 1363 ء میں سلطان منتخب کیا گیا۔ 13 سال حکومت کرنے کے بعد ۷۷۸ھ مطابق 1376 ء میں شہیدکر دیاگیا۔ یہ رحم دل تھا اپنی رعایا سے حسن سلوک کیا کرتا تھا۔ (اردو دائرئہ معارف الاسلامیہ ،۱۱/ ۷۳۶)

2     فاصلہ ان ملک مصر الاشرف شعبان بن حسین امر فی سنۃ ثلاث وسبعین وسبع مائۃ بتقدیم الموحدۃ فیہما بتخصیصہم بعلامۃ خضراء توضع علی عمامۃ احدہم للفرق بین الشریف وغیر الشریف ثم توسع فیہا حتی جعلت العمامۃ کلہا خضراء (الشرف المؤبد، ص۴۴)[2]



Total Pages: 101

Go To