Book Name:Imamay kay Fazail

وَسَلَّممیں آپ کی قدر و منزلت دیکھی تو میری عقیدت میں دُونا دُوں اِضافہ ہو گیا۔  خیر اس کے کچھ عرصہ بعد میں خواب میں دوبارہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوا میں نے دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں ، آپ کی دائیں جانب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ موجود ہیں اور سامنے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ادب سے سر جھکائے دوزانو بیٹھے ہیں اور ایک کتاب کو سینے سے لگا رکھا ہے میں نے غور سے دیکھا تو اس پر ’’فیضانِ سنّت‘‘ لکھا ہوا تھا۔  ساتھ ہی کچھ اور اسلامی بھائی بھی حاضرِ خدمت ہیں ۔  مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہو رہی تھی کہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور یارِ غار رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سروں پر بھی سبز سبز عمامہ شریف جگمگارہا تھا پھر آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے فیضانِ سنّت لے کر سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہکو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  اے صدیق (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ) اس میں سے باب دُرُود و سلام پڑھ کر سناؤ، حکم کی تعمیل میں سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ دُرُود و سلام کا باب پڑھ کر سنانے لگے گویا کہ درس دے رہے ہیں ۔  اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی، اس خواب سے مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ امیرِاہلسنّت آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کتنے پیارے ہیں ۔  میں یہ حسین منظر زندگی بھر نہیں بھلا سکتا۔  

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!      صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

دعوتِ اسلامی اور سبز عمامہ

          ضلع رحیم یار خان (پنجاب پاکستان) کے ایک عالِم صاحب کی حلفیہ تحریر کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو پسند کرتا تھا مگر ذہن میں چند وَسوسے تھے جنہیں میں دُور کرنا چاہتا تھا مگر تَشَفِّی نہیں ہورہی تھی مَثَلاً :  

 (۱)دعوتِ اسلامی کے مُبلِّغِین ’’فیضانِ سنّت ‘‘سے ہی کیوں دَرس دیتے ہیں ؟

 (۲) امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا’’ اجتماعی بَیْعَت ‘‘کرانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔  

 (۳) امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی موجودگی میں بَیْعَت کا اعلان و ترغیب کیوں دی جاتی ہے؟

 (۴)عمامہ شریف’’ سبز رنگ ‘‘کا ہی کیوں ؟

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے ایک ایمان افروز خواب کے ذریعے ان کے جوابات مل گئے، تحدیثِ نعمت کے طور پروہ ’’خواب‘‘ تحریر کر رہا ہوں ۔  چنانچہ ایک رات جب میں سویا تو یہ خواب دیکھا کہ ایک بس کھڑی ہے جس میں سبز عمامے والے سُوار ہیں ۔  ایک باعمامہ اسلامی بھائی نے مجھے بغداد شریف میں ہونے والے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔  میں اُن کی دعوت پر لَبَّیک کہتا ہوا بس میں سُوار ہو گیا۔  دیکھتے ہی دیکھتے بغداد شریف آگیا اور ہم سب غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے مزار ِپُر انوار کے سامنے جا پہنچے۔  قریب ہی ایک وسیع میدان میں بہت بڑااجتماع جاری تھا۔  ہر طرف سبز عماموں کی بہار تھی۔  میں بھی اجتماع گاہ میں جاکربیٹھ گیا۔  میں نے دیکھا کہ روضۂ پاک کے ساتھ ’’تین منبر‘‘ رکھے ہیں ۔  ایک پر غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ جلوہ فرماہیں اور دوسرے پر امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور ان کے برابر والے منبر پر جو شخصیت جلوہ فرما تھیں میں انہیں پہچان نہ سکا۔  حیرت انگیز طور پَر میری تَشَفِّی کا سامان یوں ہوا کہ تینوں بزرگوں کے سروں پرسبز عمامہ شریف کا تاج سجا ہوا تھا اور غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے دستِ مبارک میں فیضان سنّت تھی اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرما رہے تھے، انداز بالکل سادہ اورعام فَہم تھا۔  بیان کے اختتام پر اجتماعی بَیْعَت کیلئے غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی موجودَگی میں ترغیب پَر مبنی اعلان ہوا۔  پھر حضورِ غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک ’’سنہری رَسی‘‘ پھینکی جو حَدِّ نگاہ تک جاپہنچی ، اُس رَسی کو امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، تمام شرکاء اجتماع اور میں نے بھی تھام رکھا تھا۔  جن الفاظ کے ساتھ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بَیْعَت کے کلمات ادا فرماتے ہیں کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ غوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے  بَیْعَت کروائی ، جب میری آنکھ کھلی اس وقت اذانِ فجر ہو رہی تھی۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے تمام وَسوسوں کی کاٹ ہو گئی اور اس مبارَک خواب کے ذریعے مجھے درسِ فیضانِ سنت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی موجودگی میں بیعت کا اعلان ، اجتماعی بیعت اور سبز عمامے کے متعلق وسوسوں کا جواب مل گیا۔   

مریدوں کو خطرہ نہیں بَحرِ غم سے

کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوثِ اعظم

سرِاقدس پر سبز عمامہ

        باب المدینہ (کراچی) کے علاقے ڈَرِگ روڈ میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں دین سے غافل معاشرے کا ایک بے حد بگڑاہوا شخص تھا، میرے نیکیوں پر گامزن ہونے کی صورت اس طرح بنی کہ مجھے ۱۴۱۳ھ بمطابق 1992ء میں دعوتِ اسلامی کے تحت کورنگی میں ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا اجتماع میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہونے والے رِقّت انگیز پُرتاثیر بیان نے میرے بدن پر لرزہ طاری کر دیا، مجھے اپنی زندگی کے انمول ہیروں کا یوں گناہوں بھری غفلت کی نذر ہو جانا ندامت دِلانے لگا۔  میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے گناہوں سے توبہ کی اور نمازوں کی پابندی شروع کردی نیز سنّت کے مطابق داڑھی شریف بھی رکھ لی لیکن عمامہ شریف سجانے کا ابھی تک ذہن نہیں بناتھا۔  کم وبیش ایک ماہ بعد میری قسمت کھل گئی کہ مجھے خواب میں سرکارِ مدینہصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہو گئی، میں نے دیکھا کہ آقائے نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سرِپُر انوار پر سبز سبز عمامۂ نُور بار بہارو اَنوار لُٹا رہا ہے۔  میرے دل



Total Pages: 101

Go To