Book Name:Imamay kay Fazail

شفاعت کرو گے میں تمہاری شفاعت اس کے حق میں قبول کروں گا اور یہ سب انعامات اس لئے ہیں کہ لوگ میری بارگاہ میں تمہارے مقام و مرتبے کو جان لیں ۔  جب صبح ہوئی توان بزرگ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنا یہ خواب علماء کی مجلس میں بیان کیا اور اس طرح یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی، امام مالک رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  جب یہ خبر ان لوگوں تک پہنچی جو ہمارے ساتھ پہلے علم حاصل کر رہے تھے اور پھر چھوڑ گئے تھے وہ دوبارہ تحصیلِ علم کے لیے حاضر ہو گئے اور علمِ دین حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے، آج وہ ہمارے شہر کے علماء میں سے ہیں ، پھر امام مالک رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  اے یحییٰ ! تم بھی تحصیلِ علم دین کے لیے کوشش کرو۔

 (شرح صحیح بخاری لابن بطال ، کتاب العلم ، ۱/  ۱۳۴)

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!           صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

مصطفٰی کے پیارے

       دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ایک خلیجی ملک کے مشہور عربی عالمِ دین اپنا روح پرور خواب کچھ یوں بیان فرماتے ہیں :  میں نے اپنے ملک میں سفید لباس زیب تن کیے ، سبز عمامے والوں کو دیکھتا تو بہت اچھا لگتا مگر چونکہ اس وقت میں دعوتِ اسلامی سے واقف نہ تھا اس لیے سوچتا کہ یہ سنّتوں کے آئینہ دار کون ہیں ؟ ایک دن سویا تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، سر کی آنکھیں توکیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں روشن ہوگئیں ، ایک ایمان افروز منظر میری آنکھوں کے سامنے تھا کہ نبیٔ کریم، رؤوف ورحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ فرما ہیں اورآپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نورانی جلوؤں سے ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے کہ َدرِیں اَثنا کیا دیکھتا ہوں کہ سبز عمامے والے انتہائی ادب و احترام کے ساتھ نظریں جھکائے جوق در جوق حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عر ض کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نظرِ رحمت فرماتے ہوئے جواب ارشاد فر مارہے ہیں ۔  میں نے عر ض کی یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ سبز عمامے والے کون ہیں ؟ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری طرف نظرِکرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ  ’’یہ دعوتِ اسلامی کے مبلّغین ہیں اور میں اِن سے محبت کرتا ہوں ‘‘ جب میں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا ، اتفاق سے کچھ دن بعد دعوتِ اسلامی کے مبلّغین کا ایک قافلہ ملاقات کے لیے آیا تو میں نے دعوتِ اسلامی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دعوتِ اسلامی تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ہے جس کے امیر حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا پیغام کئی ممالک میں پہنچ چکا ہے مزید سفرجاری ہے ۔  یہ سن کر میں بہت متأثر ہوا۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کو خوب خوب تر قّی اور عروج عطا  فرمائے۔  

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!     صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

سبز عماموں والے بزرگ

       رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان انتظامی کابینہ حاجی ابورجب محمد شاہد عطاری  مُدَّظِلُّہُ العَالِی  نے 31 دسمبر 2012ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مدنی مذاکرے کے دوران ایک مدنی بہار بیان کی جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے :  فرماتے ہیں ایک مرتبہ میری ملاقات حَکِیمُ الْاُمَّت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الحَنَّان کے نواسے سے ہوئی جو کہ مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی ہیں ، انہوں نے بتایا کہ میری امی جان (یعنی مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہزادی )نے مجھے بتایا کہ ایک رات خواب میں مجھے اپنے والدِ ماجد (یعنی مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) کی زیارت ہوئی ان کے ساتھ دو بزرگ اور بھی تھے تینوں نے سر پر سبز سبز عماموں کے تاج سجا رکھے تھے۔  میں نے حیرت سے کہا کہ ابو جان! آپ نے سبز عمامہ شریف پہنا ہوا ہے ؟ توآپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ میرے ساتھ جو دو بزرگ ہیں انھوں نے بھی سبز سبز عمامہ پہن رکھا ہے اِن میں سے ایک بابا کانواں والی سرکار (یہ ولی  اللّٰہ  ہیں ان کا مزار گجرات میں ہے) اور دوسرے حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ہیں ۔  اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سبز عمامہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہو چکا ہے۔  

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!        صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

آقاصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیارا

        حیدرآباد (سندھ، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کا تحریری بیان بَتَصَرُّف پیشِ خدمت ہے :  میرے پاؤں میں فریکچرہو گیا تھا جس کی وجہ سے پاؤں میں سخت تکلیف محسوس کیا کرتا تھا، ایک دن اسی تکلیف کے عالم میں سرورِذیشان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں درود و سلام کے گلدستے پیش کر رہا تھا کہ میری پلکیں نیند کے باعث بوجَھل ہو گئیں اور بالآخر غنودگی نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا، سر کی آنکھیں تو کیا بند ہوئیں میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی، عالمِ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جانب سے سرکارِ دوجہاں ، سرورِ ذیشاں صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لا رہے ہیں ، آپ کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہے جسکی تابانیوں (روشنیوں ) سے ہر طرف نور ہی نور پھیل گیا۔  مجھ پرایک وَجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی ، اسی کیف و سرور میں مَیں نے عرض کی یارسول  اللّٰہ  (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) میں بہت تکلیف میں ہوں ۔  اچانک میری نظر آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برابر موجود شخص پر پڑی تو میں حیران رہ گیاکہ یہ تو امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہہیں جو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے سر جھکائے رو رہے ہیں ۔  حتی کہ روتے روتے آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔  اسی اَثناء میں سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائے ، آپ کے دَہنِ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔  آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا نورانی چہرہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف پھیرا، لبہائے مبارکہ کو جُنبِش ہوئی پھول جھڑنے لگے اور ’’آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرِ اہلسنّت کے لیے انتہائی محبت بھرے کلمات ارشاد فرمائے ‘‘۔  اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے عقیدت تو رکھتا تھا مگر ان سے مرید نہ تھا، جب بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



Total Pages: 101

Go To