Book Name:Imamay kay Fazail

مشقَّت اور خرچ زیادہ ہونے سے ثواب اور فضیلت بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔  (شرح مسلم للنووی ، ۱/ ۳۹۰) حضرتِ سیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  فضل ترین عمل وہ ہے جس کیلئے نفسوں کو مجبور ہونا پڑے ۔  (اتحاف السادۃ للزبیدی، ۱۱/ ۱۰) حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْاَکْرَم فرماتے ہیں : جو عمل دنیا میں جس قَدَر دشوار ہو گا بروزِ قِیامت میزانِ عمل میں اُسی قَدَر وزن دار ہو گا۔ (تذکرۃ الاولیاء ، ص۵ ۹ مُلَخصاً، پردے کے بارے میں سوال جوا ب ، ص ۱۹۸ تا ۱۹۹ ) ہمارے لیے بہترین موقع ہے کہ آگے بڑھیں اور ان سنتوں پرخود بھی عمل شروع کریں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ان پر عمل کی ترغیب دلائیں اور اس ثوابِ عظیم کے مستحق بن جائیں ۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

راہِ حق کی پہچان

       حضرتِ سیِّدُنا ابو حمزہ بغدادی علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الہَادِی فرماتے ہیں :  مَنْ عَلِمَ طَرِیْقَ الْحَقِّ سَہُلَ سُلُوْکُہٗ وَلَا دَلِیْلَ عَلَی الطَّرِیْقِ اِلَی  اللّٰہ  تَعَالٰی اِلَّا مُتَابَعَۃَ الرَّسُوْلِ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اَحْوَالِہٖ وَاَفْعَالِہٖ وَاَقْوَالِہٖ یعنی جو شخص راہِ حق کو جان لے اس کے لیے اس راستے پر چلنا آسان ہو جاتا ہے اور راہِ حق کی معلومات صرف رسول اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احوال ، اقوال اور افعال میں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع سے ہوتی ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ، ابوحمزہ البغدادی البزاز ، ص ۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کی پیروی ایمان کے کامل ہونے، دل میں محبتِ مصطفی کا چراغ جلانے ، سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قرب پانے اورراہِ حق اپنانے کا ذریعہ ہے اور یقیناًہر مسلمان کی یہی دلی تمنا ہے کہ وہ ان نعمتوں سے سرفراز ہو ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اقوال، افعال، حالات اور سیرتِ طَیِّبہ کا بغور مطالعہ کرکے اپنی زندگی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت اور آپ کی سنّتوں پر عمل کرتے ہوئے گزاریں ، صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  المُبِیْن سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر ہر سنّت پر عمل کی کوشش کیا کرتے تھے اور ہر معاملے میں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کیا کرتے تھے چاہے ان کا تعلق آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتِ عادیہ ہی سے کیوں نہ ہو۔  

بزرگانِ دین کی سنّت سے محبت

        صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  المُبِیْن کی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں سے محبت کا اندازہ مندرجہ ذیل منتخب واقعات سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ

(1)بات کرتے وقت مسکرایا کرتے

        حضرت سیّدتنا اُمِّ درداء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرت سیّدنا ابودرداء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب بھی بات کرتے تو مسکراتے ۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  میں نے سیّدنا ابو درداء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی آپ (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ) اس عادت کو ترک فرما دیجئے ورنہ لوگ آپ کو احمق سمجھنے لگیں گے۔  تو حضرت سیّدنا ابودرداء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’میں نے جب بھی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو بات کرتے دیکھا یا سنا آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مسکراتے تھے۔ ‘‘ (یعنی میں بھی اسی سنّت پر عمل کی نیت سے ایسا کرتا ہوں )۔

 (مسند احمد، مسند الانصار، باقی حدیث ابی الدرداء رضی  اللّٰہ  تعالٰی عنہ، ۸/ ۱۷۱، حدیث :  ۲۱۷۹۱)

(2)سرکار کی پسند اپنی پسند

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ ایک درزی نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت کی ، (حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : )آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ میں بھی دعوت میں شریک ہو گیا، درزی نے آپ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے سامنے روٹی ، کدّو (لوکی شریف) اور گوشت کا سالن رکھا ۔ میں نے دیکھا نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم برتن سے کدّو شریف تلاش کر کے تناول فرمارہے ہیں (اس کے بعدآپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اپنا عمل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں ) فَلَمْ اَ زَلْ اُحِبُّ الدُّبَّاء َ مِنْ یَوْمِئِذٍ یعنی اس دن کے بعد میں کدّو شریف کو پسند کرتا ہوں ۔  (بخاری، کتاب البیوع ، باب ذکر الخیاط، ۲/ ۱۷، حدیث :  ۲۰۹۲)

       مسلم شریف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت سیّدنا ثابت رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سُنا :  فَمَا صُنِعَ لِی طَعَامٌ بَعْد اَقْدِرُ عَلَی اَنْ یُصْنَعَ فِیہِ دُبَّائٌ اِلَّا صُنِعَ اس کے بعد اگر کدّو شریف دستیاب ہوجاتا تو میرے کھانے میں وہ ضرور شامل ہوتا ۔  (مسلم، کتاب الاشربہ، باب جواز اکل المرق الخ، ص۱۱۲۹، حدیث : ۲۰۴۱)

        حضرت  حافظ ابوشیخ عبد اللّٰہ  بن محمد اَصبَہانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔  فَاَنَا اُحِبُّ الْقَرْعَ لِحُبِّ رَسُوْلِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہ یعنی میں کدّو شریف کو صرف اس لیے پسند کرتا ہوں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پسند فرمایا ہے۔  (اخلاق النبی ، ذکر اکلہ للقرع ومحبتہ لہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم، ص ۱۲۵، حدیث : ۶۳۱)

       ترمذی شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کدّو شریف تناول فرماتے ہوئے فرما رہے تھے یَا لَکِ شَجَرَۃً مَا اُحِبُّکِ اِلاَّ لِحُبِّ رَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِیَّاکِ یعنی میرا تیرے ساتھ کیا تعلق ؟ میں تجھے صرف اس لئے محبوب رکھتا ہوں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تجھ سے محبت فرماتے ہیں ۔  

(ترمذی ، کتاب الاطعمۃ عن رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم، باب ما جاء فی اکل الدباء ، ۳/ ۳۳۶، حدیث : ۱۸۵۶)

کاش ہمیں بھی سرکارصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں سے ایسی محبت ہو جائے کہ ہم بھی کہیں ’’ہمیں داڑھی، عمامے اور زلفوں سے اس لئے محبت ہے کہ یہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسند اور سنّت ہیں ۔ ‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)سنّت میں عظمت ہے

 



Total Pages: 101

Go To