Book Name:Imamay kay Fazail

        جیسا کہ ثابت ہوچکا کہ روایتِ مذکور میں مُہاجِرِین اَوَّلین کے مطلق ذکر کے اعتبار سے اس میں خلفائے راشدین رَضِیَ  اللّٰہ  عَنْہُم بھی داخل و شامل ہیں اور یہ وہ حضرات ہیں جن کی سنّت ِمبارکہ کو رسولِ کریمعَلَیْہِ السَّلَامنے اُمت کے لیے اپنی سنّت پاک کی طرح قرار دیاچنانچہ حدیث ِرسول صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے :  عَلَیکُم بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ المَھْدِیِّین ۔  

(ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ، ۴/ ۲۶۸، حدیث : ۴۶۰۷)

        ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ کے بارے میں فرمایا :  اَصحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِاَیِّھِم اِقتَدَیتُم اِھتَدَیتُم (یعنی) میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے چلو گے راہ پاؤ گے۔  

(مشکوۃ المصابیح ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابۃ، الفصل الثالث، ۲/ ۴۱۴، حدیث : ۶۰۱۸)

        معلوم ہوا کہ سبز رنگ کے عمامے استعمال کرنے میں راہِ ہدایت کے ستارے صحابۂ کرام (رَضِیَ  اللّٰہ  عَنْہُم) کی پیروی ہے اور ان کی پیروی کو محبوبِ خدا عَلَیْہِ السَّلَام نے امت کے لیے ذریعۂ ہدایت قرار دیا لہٰذا ان حضرات کی پیروی میں سبز عمامہ استعمال کرناا ور ان حضرات کے استعمال فرمانے کی وجہ سے اس پر سنّت کا اطلاق کرنا جائز ہے، اور اس کے سُنّتِ مُستَحَبَّہ ہونے کی وجہ سے اِلتِزام ضروری نہیں ، بلکہ مناسب یہ ہے کہ سبز عمامہ کے علاوہ سفید وغیرہ رنگ کے عمامے بھی استعمال کیے جائیں تاکہ ایسے رنگ کے عمامہ باندھنے میں بھی سنّت پاک پر عمل ہو سکے اور ثواب حاصل ہو جائے۔  (سبز عمامہ کا جواز، ص۵تا۹)

        قبلہ مفتی صاحب دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بھی سبز عمامے کے جوازپر ۱۷ صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘ تحریر فرمایا اور سبز عمامے کے متعلق پیدا ہونے والے وَساوِس کے جواب میں بھی ۲۴ صفحات پر مشتمل ایک اور علمی و تحقیقی رسالہ بنام’’سبز عمامہ کے جواز و اِستِحباب پر اِعتراضات کا علمی و تحقیقی مُحاسَبہ ‘‘ تحریر فرمایا جس میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سبز عمامے کے جواز و اِستِحباب پر دلائل وبراہین قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متعلق پیدا ہونے والے شیطانی وساوس کے تسلی بخش جوابات بھی دئیے ہیں ۔  

سبز عمامے کے متعلق مُبَشرات

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خواب برحق ہیں اگرچہ یہ شرعاً حجت نہیں ہوا کرتے (مطالع المسرات مترجم، ص۱۲۲) لیکن بسا اوقات ان کے ذریعے کسی کو تنبیہ کی جاتی توکسی کو نوید سنائی جاتی ہے۔  

  اسی لئے حضورِانور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خواب کو اَمْرِعظیم (اہم بات )جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے ، بیان فرمانے میں نہایت اِہتما م فرماتے چنانچہ

        حضرت سیّدنا سَمُرہ بن جُنْدب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پُرنُور، شَافعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نمازِصبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے : ’’آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھاہے؟‘‘ جس نے دیکھا ہوتا عرض کرتا، حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تعبیر ارشاد فرما دیتے۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المشرکین، ۱/ ۴۶۷، حدیث : ۱۳۸۶)

خواب مبشرات و بشارات ہیں

        حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  لَم یَبقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا المُبَشِّرَات یعنی اب نبوت باقی نہیں رہی (ہاں اس کا فیض) مُبَشِّرات کی صورت میں باقی ہے۔  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی :  وَمَا المُبَشِّرَات؟ یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُبَشِّرات سے کیا مراد ہے؟ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اَلرُّؤیَا الصَّالِحَۃَ یعنی مُبَشِّرات  سے مراد نیک خواب ہیں ۔  (بخاری، کتاب التعبیر، باب المبشرات، ۴/ ۴۰۴، حدیث : ۶۹۹۰) گویا اب قیامت تک کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو کرے گا وہ کافر و مُرتد ہو گا۔  فیضانِ نبوت مُبَشِّرات  یعنی خوشخبریوں کی صورت میں قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔  

        اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’اچھے خواب پر عمل خوب ہے اور اچھاوہ کہ مُوافِقِ شرع ہو۔ ‘‘

 (فتاویٰ رضویہ، ۲۸/ ۳۶۶)

سیرت و تاریخ کی کتب میں کئی واقعات موجود ہیں بلکہ قراٰنِ مجید فرقانِ حمید میں حضرت سیّدنا یوسف عَلَیہِ السَّلام کے خواب اور اس کی تعبیر کا بھی ذکرہے۔  اچھے خواب بیان کرنے کی تو خود ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی ترغیب دلائی ہے چنانچہ

        حضرتِ سیّدنا ابوسعید خُدرِی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے سَیِّدُالْمُرسَلین، خَاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا :  ’’اچھاخواب  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اسے چاہئے کہ ِاس پر  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرے اور اس خواب کو کسی کے سامنے بیان بھی کر دے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے جب کوئی ایسا خواب دیکھے تو اس کے شر سے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگے اور اسے کسی کے سامنے ذکرنہ کرے۔  بے شک یہ خواب اس کو کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔ ‘‘ (بخاری، کتاب التعبیر، باب الرؤیا من  اللّٰہ ، ۴/ ۴۲۳، حدیث : ۷۰۴۵) یہاں سبز عمامے سے متعلق چندمُبَشِّرات  ذکر کئے گئے ہیں چنانچہ

سبز عماموں والی فوج

       حضرت سیّدنا ابوعُبیدہ بن جراح رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ سے قبل ایک خواب دیکھا ، جس میں آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے سفید نورانی لباس میں ملبوس سبز سبز عمامے سجائے ، زرد جھنڈے اٹھائے گھڑسواروں کو مُلاحَظہ فرمایا جو حضرت سیّدنا ابو عُبیدہ بن جراح رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے فرمارہے تھے :  آگے بڑھو ، دشمن سے ہرگز خوف مت کھاؤ،  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  تمہاری مدد فرمائے گا۔  

(فتوح الشام ، نساء المسلمین فی المعرکۃ، ۱/ ۱۹۱)

بعدِ وصال سبز عمامے میں

        اَسمَائُ الرِّجَال کی مشہور و معتبر کتاب تَھذِیبُ الْکَمال میں مذکور ہے کہ جلیل القدر مُحدِّث حضرت سیّدنا ابوعمار حسین بن حُریث رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو وصال کے بعد حضرت سیّدنا ابو بکر بن خُزَیمہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خواب میں دیکھا کہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ منبرِ رسول پر موجود ہیں ، سفید لباس پہنا ہوا ہے اور سر پر سبز سبز عمامہ جگمگا رہا ہے اور آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک آیتِ



Total Pages: 101

Go To