Book Name:Imamay kay Fazail

کے مدنی ماحول سے وابستہ لاکھوں عاشقانِ رسول سرکارِ نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وَسلَّم فرشتوں اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اپنے سروں پر سبز سبز عمامہ شریف سجاتے ہیں ۔  شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے مدنی مذاکروں میں عمامہ شریف کے حوالے سے وقتاً فوقتاً جن ملفوظات سے نوازتے ہیں ان میں سے کچھ کا خلاصہ یوں ہے کہ ’’وہ رنگ جس سے شریعت نے منع نہیں کیا اس کا عمامہ باندھنا جائز ہے البتہ شوخ رنگ جو عورتوں کے لئے مخصوص ہوتے ہیں استعمال نہ کئے جائیں ۔  باقی سفید، کتھئی ، پیلا ، سبز اور سیاہ میں سے کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھئے ان رنگوں کے عمامے بھی جائز ہیں ۔  البتہ سیاہ عمامہ شریف محرم الحرام کے دنوں میں نہ پہنیں تاکہ بدمذہبوں سے مشابہت نہ ہو ۔  البتہ جو دعوتِ اسلامی والا ہے وہ سبز ہی باندھتا ہے ۔  یاد رکھیں اگر کوئی صحیح العقیدہ سنّی سبز عمامہ شریف نہیں باندھتا تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ دعوتِ اسلامی والا نہیں ہے یا معاذ  اللّٰہ  سنّی ہی نہیں ہے ۔  ہم سفید یا کسی اور رنگ کا عمامہ باندھنے والے کو دعوتِ اسلامی سے نکال نہیں دیتے بلکہ ہم تو رنگین کپڑے پہننے والے کو بھی دعوتِ اسلامی سے نہیں نکالتے۔  خوب یاد رکھئے! ہم سبز عمامہ شریف کونہ تو فرض قرار دیتے ہیں اور نہ ہی واجب جانتے ہیں البتہ دعوتِ اسلامی والوں کو صرف سبز عمامہ شریف ہی پہننا چاہئے کیونکہ سبز عمامہ شریف پاک و ہند میں سُنّیت کی علامت اور پہچان بن چکا ہے۔  ‘‘

                                                امیرِ اہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ مزید فرماتے ہیں :  سبز رنگ بھی ایسا کھلتا ہوا ہو کہ دور سے دیکھنے والے کو غلط فہمی نہ ہو کہ یہ سبز ہی ہے یا سیاہ رنگ کا عمامہ باندھ رکھا ہے ۔  جیسا کہ بہت زیادہ گہرا سبز جسے ڈارک گرین کہا جاتا ہے وہ بھی نہ پہنیں ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سبز عمامہ شریف دعوتِ اسلامی کا شعار اور سنّیت کی علامت و پہچان بن چکا ہے اس لیے سبز عمامہ باندھنا چاہئے ، لیکن کوئی سُنّی سفید ، سیاہ یا کھتئی یا کسی اور رنگ کا عمامہ باندھتا ہے تو اسے معاذ  اللّٰہ  اجنبیت کی نظر سے نہ دیکھیں وہ بھی اپنا بھائی ہے۔  یاد رکھئے جو بھی سنی صحیح العقیدہ ہے وہ اپنے سر کا تاج ہے‘‘

                                                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز رنگ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّا ور اس کے پیارے حبیب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کتنا محبوب ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ

اہلِ جنّت کا لباس سبز ہو گا

                         اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اہلِ جنّت کا لباس، بچھونا وغیرہ سبز رنگ کا بنایا ہے چنانچہ ارشاد ِباری ہے :  

وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ

ترجمۂ کنزالایمان :  اور سبز کپڑے کریب (ریشم کے باریک) اور قنادیز (موٹے) کے پہنیں گے۔  (پ ۱۵، الکہف : ۳۱)

 اللّٰہ  تعالٰی کامحبوب ترین رنگ

        حضرت علّامہ اسماعیل حقّی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ سبزکپڑوں کو اس لیے خاص فرمایا ہے کہ یہی تمام رنگوں میں حسین ترین اور پُررونق اور  اللّٰہ  تعالٰی کے نزدیک محبوب ترین رنگ ہے ۔  (روح البیان، پ ۱۵، سورۃ الکہف، تحت الآیۃ :  ۳۱، ۵/ ۲۴۳)

       حضرت سیّدنا امام ابوعبد  اللّٰہ  محمد بن احمد قرطبی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : سبز رنگ کو اس لئے خاص کیا گیا ہے کہ یہ بصارت (نظر) کے لئے موزوں ہے ۔  سبز رنگ پر نظر قائم رہتی ہے، مُنتَشِر نہیں ہوتی اور یہ (آنکھوں سے نکلنے والی) شعاعوں کو جمع کرتا ہے۔  (التذکرۃ باحوال الموتی و امور الآخرۃ، باب نبذ من اقوال العلماء الخ، ص۴۸۰ملخصًا)

دوسری جگہ ارشادِ باری  تَعَالٰی  ہے :  

مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ(۷۶)

ترجمۂ کنز الایمان :  تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقّش خوبصورت چاندنیوں پر (پ ۲۷، الرحمٰن :  ۷۶)

سرکار کا پسندیدہ رنگ

          مدینے کے تاجدار، صاحبِ عمامۂ خوشبودار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو رنگوں میں سبز رنگ بہت زیادہ پسند تھا جیسا کہ حضرت علّامہ ابنِ عبدُ البَر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی تَصرِیح فرمائی ہے کہ کَانَ رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ مِنْ الاَلْوَانِ الْخُضرَۃ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو رنگوں میں سبز رنگ محبوب تھا۔  (الآداب الشرعیۃ، فصل فی انواع اللباس الخ، ۳/ ۴۹۹)

          امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے نزدیک بھی سبز رنگ سب رنگوں میں پسندیدہ رنگ تھا جیسا کہ اس روایت میں ہے :  حضرت سیّدُنا مالک اَشتَر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیّدنا علی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے پوچھا :  اَیُّ الاَلْوَانِ اَحْسَنُ ؟یعنی کون سا رنگ سب سے بہتر ہے ؟ تو آپ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  اَلْخُضْرَۃُ لِاَنَّہَا لَوْنُ ثِیَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ یعنی سبز رنگ(اور وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا) کیونکہ یہ اہلِ جنت کے لباس کا رنگ ہے ۔  (الآداب الشرعیۃ ، فصل فی انواع اللباس الخ، ۳/ ۴۹۹)

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی مروی ہے کہ  کَانَ اَحَبُّ الاَلْوَانِ اِلٰی رَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم الخُضْرَۃ یعنی نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو رنگوں میں سبز رنگ بہت زیادہ پسند تھا ۔   (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/ ۲۰۶، حدیث :  ۵۷۳۱، واللفظ لہ،  کنزالعمال، کتاب الشمائل ، اللباس، الجز۷، ۴/ ۴۵، حدیث : ۱۸۲۵۹)

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے سبز رنگ ہمارے پیارے پیارے آقا مکینِ گنبدِ خضرا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پسندیدہ رنگ ہے اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نہ صرف اسے پسند فرمایا بلکہ مختلف اوقات میں سبز رنگ کے کپڑے بھی زیبِ تن فرمائے جیسا کہ

سرکار کا سبز لباس

                        حضرت سیّدنا اَ بُورِمثَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اس حال میں زیارت کی کہ عَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَان یعنی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے  دو سبز چادریں زیبِ تن فرما رکھی تھیں ۔  (ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی الثوب الاخضر، ۴/ ۳۷۱، حدیث : ۲۸۲۱)

 



Total Pages: 101

Go To