Book Name:Imamay kay Fazail

عمامے سے مراد) ایسا دھاری دار سرخ کپڑا ہے کہ جس میں کچھ کھردرا پن ہوتا ہے۔  یہ عمان اور سیف البحر کے درمیانی علاقے ’’قطر‘‘ کی جانب منسوب ہے ۔  

(شرح ابی داؤد ، باب المسح علی العمامۃ، ۱/ ۳۴۷، تحت الحدیث :  ۱۳۶)

صحابۂ کرام کے سرخ عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے شریف سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سرخ عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے دو کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ

(1)سیّدنا ابو دُجانہ کا سرخ عمامہ

        خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  غزوۂ اُحد کے موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دستِ مبارک میں ایک تلوار تھی جس پر یہ شعر کندہ تھا کہ   ؎

فِی الْجُبْنِ عَارٌ وَفِی الْاِقْبَال مَکْرُمَۃٌ

وَالْمَرْئُ بِالْجُبْنِ لاَ یَنْجُوْ مِنَ الْقَدْرٖ

یعنی بزدلی میں شرم ہے اور آگے بڑھ کر لڑنے میں عزت ہے اور آدمی بزدلی کرکے تقدیر سے نہیں بچ سکتا۔ تاجدارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے یہ سن کر بہت سے لوگ اس سعادت کے لئے لپکے مگر یہ فخر و شرف حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے نصیب میں تھا کہ تاجدار دو عالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی یہ تلوار اپنے ہاتھ سے حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں دے دی۔  وہ یہ اعزاز پا کر جوشِ مسرت میں مست و بے خود ہو گئے اور عرض کیا کہ یارسول  اللّٰہ ! صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ ’’تو اس سے کافروں کو قتل کرے یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔  حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا :  یارسول  اللّٰہ ! صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔  پھر وہ اپنے سر پر ایک سرخ رنگ کا عمامہ باندھ کر اکڑتے اور اتراتے ہوئے میدان جنگ میں نکل پڑے اور دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اور تلوار چلاتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے کہ ایک دم ان کے سامنے ابوسفیان کی بیوی ’’ہند‘‘آ گئی۔  حضرت سیّدنا ابودُجانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارادہ کیا کہ اس پر تلوار چلا دیں مگر پھر اس خیال سے تلوار ہٹالی کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُقَدَّس تلوار کے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی عورت کا سر کاٹے۔  (مدارج النبوت، قسم سوم، باب سوم، ۲/ ۱۱۵)

        حضرت سیّدنا خالد بن رَباح رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بنی ساعدہ کے کچھ بزرگوں سے راویت فرماتے ہیں :  قَتَلَ اَبُو دُجَانَۃَ الْحَارِثَ اَبَا زَیْنَبَ وَکَانَ یَوْمئِذٍ مُعَلّمًا بِعِمَامَۃٍ حَمْرَائَ یعنی حضرت سیّدنا ابو دُجانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے جس دن ابو زینب حارث کو قتل فرمایا اس دن آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سرخ عمامہ شریف باندھا ہوا تھا۔  (کتاب المغازی ، غزوۃ خیبر، ۲/ ۶۵۴)

(2)سیّدنا خالد بن ولید کا سرخ عمامہ

        حضرت علامہ  امام ابوعبد اللّٰہ  محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سرخ رنگ کا عمامہ شریف باندھا اور یہ وہ عمامہ مبارک تھا کہ جو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جنگ میں باندھا کرتے تھے۔  (فتوح الشام، معرکۃ حمص، ۱/ ۱۴۶)

تابعین کِرام کے سرخ عمامے

        حضرت سیّدنا اَسوَد بن شَیبان رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ الشَّعْبِیَّ بِالْکُوفَۃِ عَلَیْہِ دُرَّاعَۃٌ حَمْرَاءُ لَیْسَ عَلَیْہِ رِدَائٌ وَعِمَامَۃٌ حَمْرَاءُ یعنی میں نے حضرت سیّدنا شعبی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِیکو کوفہ میں دیکھا، آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سرخ جبہ زیبِ تن کیے ہوئے تھے ، آپ نے چادر تو نہیں اوڑھی تھی البتہ سرخ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔

  (طبقات ابن سعد ، طبقات الکوفیین، الطبقۃ الثانیۃ ممن روی عن عبد  اللّٰہ  بن عمر الخ، عامر بن شرحبیل ، ۶/ ۲۶۴)

سبز عمامہ

آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سبز عمامہ

                                                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اَلْحَمدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سبز عمامہ شریف بھی سبز سبز گنبد کے مکین رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے پہننا ثابت ہے۔ (1) نیز مہاجر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے بھی سبز عمامے شریف پہننے کا ثبوت ملتا ہے ([1]) اور غزوئہ حنین کے موقعہ پر فرشتے بھی سر پر سبز عمامے کا تاج سجائے مسلمانوں کی مدد کیلئے تشریف لائے تھے۔ ([2])

                        خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں ، ’’دستار مبارک آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم در اکثر اوقات سفید بود و گاہے سیاہ و احیاناً سبز یعنی سرکارِ نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)

                                                مزید فرماتے ہیں :  ’’بہترین لباس سفید ست و بدستارِ سیاہ یا سبز‘‘ یعنی بہترین لباس سفید ہے اور عمامہ میں سیاہ و سبز رنگ (باندھنا)۔  ( کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۹)

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مرکزالاولیاء لاہور کی بادشاہی مسجد میں رکھے ہوئے سبز گنبد والے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب عمامہ مبارکہ کا رنگ بھی سبز ہے جس کا جی چاہے زیارت کر کے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔  

                        حضرت حاجی اِمدَادُ اللّٰہ  مہاجر مکی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نے حضور ِاکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی خواب میں زیارت کے حصول کا طریقہ یوں بیان کیا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد پوری پاکی



    مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ )[1]

    تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲[2]



Total Pages: 101

Go To