Book Name:Imamay kay Fazail

        حضرت سیّدنا اِسماعیل بن عبدالملک رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلٰی سَعِیْدِ بنِ جُبَیْرٍ عِمَامَۃً بَیْضَاء یعنی میں نے حضرت سیّدنا سعید بن جُبَیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سفید عمامہ شریف باندھے دیکھا۔  (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس، فی لبس العمائم البیض، ۱۲/ ۵۴۱، حدیث : ۲۵۴۷۳)

(4)سیّدنا عِکرِمہ کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا عبدالحمید بن بَہرام رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عِکْرِمَۃَ اَبْیَضَ الْلِحْیَۃِ عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ بَیْضَآئُ طَرَفُھَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ قَدْ اَدَارَہَا تَحْتَ لِحْیَتِہٖ یعنی میں نے حضرت سیّدنا عِکرِمہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سفید داڑھی  اور سفید عمامہ میں دیکھا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہنے عمامہ کو ٹھوڑی کے نیچے سے گھما کر باندھا ہوا تھا (یعنی تحنیک کی ہوئی تھی) اور اس کا شملہ دونوں شانوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔  (سیر اعلام النبلاء ، الطبقۃ الاولی من التابعین، عکرمۃ، ۵/ ۵۰۶)

(5)سیّدنا نافع بن جُبَیر کا سفید عمامہ

        حضرتسیّدنا اَ بُوالغُصن رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ : اَ نَّہٗ رَاٰی نَافِعَ بْنَ جُبَیْرٍ یَلْبَسُ قَلَنْسُوَۃً اَسْمَاطًا وَعِمَامَۃً بَیْضَائَ یعنی آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدنا نافع بن جُبَیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہکو اونی ٹوپی اور سفید عمامہ شریف پہنے ہوئے دیکھا۔  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من اھل المدینۃ من التابعین ، نافع بن جبیر ، ۵/ ۱۵۸)

(6)سیّدنا سالِم کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا خالد بن ابو بکر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلٰی سَالِمٍ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَائَ وَرَاَیْتُ عَلَیْہِ عِمَامَۃً بَیْضَائَ یَسْدِلُ خَلْفَہُ مِنْہَا اَکْثَرَ مِنْ شِبْرٍیعنی میں نے حضرت سیّدنا سالِم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سفید ٹوپی اور سفید عمامہ شریف پہنے دیکھا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اس کا ایک بالشت سے زائد شملہ اپنے پیچھے لٹکایا کرتے تھے۔

  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من اہل المدینۃ من التابعین، سالم بن عبد اللّٰہ ، ۵/ ۱۵۱)

(7)سیّدنا قاسم بن محمد کا سفید عمامہ

       اسی طرح کی ایک روایت ان ہی سے حضرت سیّدنا قاسم بن محمد رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق بھی مروی ہے ، فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلَی الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عِمَامَۃً بَیْضَائَ وَقَدْ سَدَلَ خَلْفَہُ مِنْہَا اَکْثَرَ مِنْ شِبْرٍ یعنی میں نے حضرت سیّدنا قاسم بن محمدرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کوسفید عمامہ شریف پہنے دیکھا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  عمامے شریف کا ایک بالشت سے زائد شملہ اپنے پیچھے لٹکائے ہوئے تھے۔  (تاریخ الاسلام ، ۷/ ۲۲۲)

(8)سیّدنا محمد بن سیرین کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا اَ بُوخَلدَہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ یَتَعَمَّمُ بِعِمَامَۃٍ بَیْضَائَ لاطِیَّۃٍ قَدْ اَرْخٰی ذُوَابَتَہَا مِنْ خَلْفِہِ یعنی میں نے حضرت سیّدنا محمد بن سِیرِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ  المُبِیْن کو سفید عمامہ شریف باندھتے دیکھا جو کہ سر سے چمٹا ہوا تھا، آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے شملہ پیٹھ کے پیچھے لٹکا رکھا تھا ۔

 (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ ممن روی عن عثمان و علی الخ ، محمد بن سیرین ، ۷/ ۱۵۳)

        حضرت سیّدنا مَہْدِی بن مَیْمُوْن رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا محمد بن سِیرِین رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو طیلسان پہنے دیکھا۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سردیوں میں سفید چادر ، سفید عمامہ شریف استعمال فرماتے اور اونٹ کے بالوں سے بنا کمبل اوڑھا کرتے تھے۔  (سیراعلام النبلاء ، محمد بن سیرین، ۵/ ۴۹۵، رقم : ۶۱۳)

(9)سیّدنا امام شَعبِی کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلَی الشَّعْبِیِّ عِمَامَۃً بَیْضَائَ قَدْ اَرْخٰی طَرَفَہَا وَلَمْ یُرْسِلْہُ یعنی میں نے حضرت سیّدناامام شعبی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کو سفید عمامہ شریف باندھے دیکھا، آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کا شملہ تو چھوڑرکھا تھا مگر اس میں اِرسال نہیں کیا ہوا تھا۔  

(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب فی لبس العمائم البیض، ۱۲/ ۵۴۱، حدیث : ۲۵۴۷۲)

(10)سیّدنا خارجہ بن زید کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا زید بن سائب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ خَارِجَۃَ یَعْتَمُّ بِعِمَامِۃٍ بَیْضَاء یعنی میں نے حضرت سیّدنا خَارِجہ (بن زید) رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو سفید عمامہ باندھتے دیکھا۔

  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من اھل المدینۃ من التابعین ، خارجۃ بن زید ، ۵/ ۲۰۲)

(11)سیّدنا مَکحُول کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا ابو فَروَہ حاتِم بن شقی بن مَرثَد رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ مَکْحُولًا یَعْتَمُّ عَلٰی قَلَنْسُوَۃٍ وَیَرْخٰی مِنْ خَلْفِہٖ شِبْرًا اَوْ اَقَلَّ مِنَ الشِّبْرِ بِعِمَامَۃٍ بَیْضَائَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا مَکحُول رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہکو ٹوپی پر سفید عمامہ باندھتے دیکھا اور آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پیچھے بالشت بھر یا بالشت سے کم شملہ لٹکایا کرتے تھے ۔

(تاریخ ابن عساکر ، حرف الحاء المہملۃ ، حاتم بن شقی بن یزید ویقال مرثد، ۱۱/ ۳۵۶)

 بعدِ وصال سفید عمامہ اور سفید لباس

        حضرت سیِّدُناا بو علی حسن بن احمد بن حسین بصری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کہتے ہیں کہ میں نے شیخ ابوبکر خطیب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَــیْہ کو خواب میں دیکھا کہ خوبصورت سفید رنگ کا عمامہ شریف اور سفید لباس پہنے ہشاش بشاش مسکرا رہے ہیں ۔  میں نہیں جانتا کہ میرے ’’ مَا فَعَلَ  اللّٰہ  بِکَ یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا ؟‘‘ سوال کرنے پر یا پھر انھوں نے خود ہی مجھے بتایا کہ’’  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفرت فرما دی ۔ ‘‘ یا فرمایا : ’’مجھ پر رحم فرمایا اور ہر اس شخص کی مغفرت یا ہر اس شخص پر رحم فرمایا جس نے توحید و رسالت کی گواہی دی۔  پس تم سب خوش ہو جاؤ۔ ‘‘

(تاریخ ابن عساکر، احمد بن علی خطیب بغدادی، ۵/ ۴۰)

 



Total Pages: 101

Go To