Book Name:Imamay kay Fazail

(3)سیّدنا عبد اللّٰہ  بن بُسر کا زرد عمامہ

        حضرت سیّدنا عمران بن بِشر حَضْرَمِی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :    میں نے صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا عبد  اللّٰہ  بن بُسْر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کی زیارت کی آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے زرد عمامہ شریف سجا کر زدر چادر زیبِ تن کر رکھی تھی۔  (اتحاف الخیرۃ المہرۃ ، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس  المصبوغ بالصفرۃ ، ۶/ ۷۷، حدیث : ۵۵۰۳)

(4)سیّدنا عمرو بن عاص کا زرد عمامہ

       حضرت امام ابوعبد اللّٰہ  محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  معرکۂ فلسطین کے موقع پر حضرت سیّدنا عمرو بن عاص رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کی جانب اس شان سے تشریف لائے کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے زرہ پہن کر اس پر اونی جُبَّہ مبارک پہن رکھا تھاجبکہ سر مبارک پر یمن کا بنا ہوا زرد عمامہ شریف باندھ رکھا تھا اور اس کا شملہ بھی لٹکایا ہوا تھا۔  

(فتوح الشام، المعارک فی فلسطین، ۲/ ۱۷)

زعفرانی عمامہ

رسول  اللّٰہ  کا زعفرانی عمامہ

        (۱)حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن جعفر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَوْبَیْنِ مَصْبُوْغَیْنِ بِزَعْفَرَانَ وَ رِدَائٌ وَ عِمَامَۃٌ یعنی میں نے نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زعفران سے رنگے ہوئے دو کپڑے’’ چادر اور عمامہ ‘‘پہنے ہوئے دیکھا۔  (مستدرک حاکم، ذکر عبد اللّٰہ  بن جعفر الخ، سخاوۃ عبد اللّٰہ  بن جعفر، ۴/ ۷۳۹، حدیث : ۶۴۷۴)

        (۲)حضرت سیّدنا یحییٰ بن عبد اللّٰہ  بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْخَالِق فرماتے ہیں :  اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَصْبَغُ ثِیَابَہٗ بِالزَّعْفَرَانِ حَتَّی العِمَامَۃ یعنی  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم اپنے کپڑوں کے ساتھ عمامے کو بھی زعفران سے رنگا کرتے تھے۔  (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی الثیاب الصفر للرجال، ۱۲/۴۷۶، حدیث : ۲۵۲۴۳)

       (۳)حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن جَعفَر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتےہیں :  میں نے رسولِ کریم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی تو میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چادر اور عمامہ شریف دونوں زعفران سے رنگے ہوئے تھے۔  (مسند ابی یعلٰی، مسند عبد  اللّٰہ  بن جعفر الہاشمی، ۶/ ۳۴، حدیث : ۶۷۵۶)

صحابیٔ رسول کا زعفرانی عمامہ

       صحابیٔ رسول ، حضرتِ سیّدنازِبْرِقان بن بدر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ زعفران سے رنگا ہوازرد عمامہ شریف سجایا کرتے تھے۔  (اسدالغابہ، باب الزاء ، الزبرقان بن بدر، ۲/ ۲۹۱، رقم : ۱۷۲۸)

زعفران سے رنگے کپڑوں کا مسئلہ

       صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں : کُسُم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہو جائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے۔  عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں ، ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں ۔  اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔  (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۹۰)   

 اور یہ مُمانَعَت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تَشَبُّہ ہوتا ہے اس وجہ سے مُمانَعَت ہے، لہٰذا اگر یہ عِلّت نہ ہو تو مُمانَعَت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کُرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زَنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔  (بہارِشریعت، ۳/ ۴۱۵)

سفید عمامہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سفید رنگ نہایت پاکیزہ اور ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پسندیدہ رنگوں میں سے ہے۔  یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں سفید کپڑوں کے جو فضائل آئے ہیں وہ دیگر رنگ کے کپڑوں سے متعلق نہیں ملتے چنانچہ

       حضرت سیّدنا سَمُرَہ بِن جُندُب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  سفید کپڑوں کو اختیار کرو، پس تمہارے زندوں کو چاہئے سفید کپڑے پہنیں اور تم اپنے مردوں کو ان میں کفن دو کیونکہ وہ بہترین کپڑوں میں سے ہیں ۔  (نسائی، کتاب الزینۃ، باب الامر بلبس البیض من الثیاب، ص ۸۴۳ ، حدیث : ۵۳۳۳)

       حضرت سیّدنا سَمُرَہ بِن جُندُب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ ہی فرماتے ہیں :     

 رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اِلْبَسُوا الثِّیَابَ الْبِیضَ فَاِنَّہَا اَطْیَبُ وَاَطْہَرُ وَکَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ یعنی سفید لباس پہنو بے شک یہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔  (معجم الاوسط، باب العین ، من اسمہ علی، ۳/ ۷۹، حدیث : ۳۹۱۹)

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  خَیْرُ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضُ فَالْبَسُوْہَا وَ کَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ یعنی تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید ہیں ، پس اِنہیں پہنو اور اِن ہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔  (ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب البیاض من الثیاب، ۴/ ۱۴۵، حدیث : ۳۵۶۶)

        حضرت سیّدنا ابوقِلابہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اِنَّ مِنْ اَحَبِّ ثِیَابِکُمْ اِلَی  اللّٰہ  الْبَیَاضَ فَصَلُّوا فِیہَا وَکَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ یعنی بے شک  اللّٰہ  تعالٰی کے نزدیک تمہارے لباسوں میں پسندیدہ لباس سفید ہے ، تم اس میں نماز ادا کرو اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔(طبقات ابن سعد ، ذکر لباس رسول  اللّٰہ  وما روی فی البیاض، ۱/ ۳۴۸)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سفید لباس کی فضیلت میں چند روایات آپ نے ملاحظہ فرمائیں ان کے علاوہ کئی اور روایات بھی ہیں جن میں سفید لباس پہننے کی ترغیب دلائی گئی ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ سنّت کے مطابق سفید لباس پہننے کو اپنی عادت بنا لیں اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ دین و دنیا کی ڈھیروں بھلائیاں نصیب ہوں گی۔  شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا



Total Pages: 101

Go To