Book Name:Imamay kay Fazail

یعنی اِعتِجار کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اس لیے کہ نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم نے اعتجار سے منع فرمایا ہے۔  اعتجار کے بارے میں ( علما ء کا) اختلاف ہے ۔  پہلاقول :  اعتجار یہ ہے کہ سر کے گرد رومال اس طرح باندھا جائے کہ سر کا درمیانی حصہ کھلا چھوڑ دیا جائے اس صورت میں اہلِ کتاب کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔  دوسرا قول :  (اعتجار یہ ہے )  کہ بالوں کو رومال کے ذریعے سر پر لپیٹ لیا جائے پس یہ ایسے ہو جائے گا کہ جیسے کسی نے اپنے بالوں کا جُوڑا بنا لیا ہو، اور بالوں کاجوڑا بنانا (مردوں کو) مکروہ ہے۔  تیسرا قول :  امام محمد رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کا ہے کہ ِاعتِجار میں نقاب کا ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ عمامہ کا کچھ حصہ تو سر پر لپیٹ لیا جائے اور اس کا ایک سرا چہرے پر عورتوں کے دوپٹے کی طرح ڈال لیا جائے ،  (عمامے کے سرے کا نقاب کی طرح ڈالنا ) چاہے گرمی و سردی سے بچاؤ کے لیے ہو یا تکبر کیلئے ۔  (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ ، فصل واما بیان ما یستحب فیہا وما یکرہ ، ۱/ ۵۰۷)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فُقَہائے کرام نے اعتجار کی جو صورتیں بیان فرمائی ہیں ان کی تفصیل اور احکام بالترتیب یہ ہیں چنانچہ     

(1)اعتجار کی پہلی صورت

        بغیرٹوپی پہنے سرکے اردگرد رومال یا عمامہ لپیٹ لے اور اس کا اوپر والا حصہ کھلا رہنے دے یہ اعتجار ہے چنانچہ فَقِیہُ النَّفْس علّامہ قاضی حسن بن منصور اَوزجَندِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ’’فتاویٰ قاضی خان ‘‘ میں فرماتے ہیں :  یُکرَہُ الاِعتِجَارُ وَ ھُوَ اَن یَّشُدَّ رَاسَہٗ بِالمِندِیلِ وَ یَترُکُ وَسطَ رَاْسِہٖ یعنی اعتجار مکروہ ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ سر پر رومال اس طرح باندھا جائے کہ سر کا درمیانی حصہ کھلا چھوڑ دے۔  (فتاوی قاضی خان ، کتاب الصلوۃ ، باب الحدث فی الصلوۃ الخ، فصل فی ما یکرہ فی الصلوۃ الخ، ۱/ ۵۸)

        خَاتَمُ المَحَقِّقِین حضرت علامہ محمد امین ابن عابدین شامی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ارشاد فرماتے ہیں :  ’’(قَولُہ وَالِاعتِجَار) لِنَہْیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہُ ، وَہُوَ شَدُّ الرَّاْسِ، اَوْ تَکْوِیرُ عِمَامَتِہِ عَلَی رَاْسِہِ وَتَرْکُ وَسْطِہِ مَکْشُوفًا یعنی نماز میں اِعتِجار اس لئے مکروہ ہے کہ حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔  اِعتِجار یہ ہے کہ سر کو باندھا جائے یا سر پر عمامہ اس طرح باندھنا کہ سر کا درمیانی حصہ کھلا رہے۔ ‘‘ (ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب :  الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/ ۵۱۱)

        ملک العلماء امام کاسانی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے اِعتِجار کو اہلِ کتاب سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ قرار دیا ہے۔  دیگر فقہائے کرام نے بھی اسے  فُسّاق (یعنی بدکردار) اور شریر لوگوں سے مشابہت کی علّت کے باعث مکروہ قرار دیا ہے جیسا کہ صَاحبِ فَتحُ القَدِیر حضرت علامہ ابن ہمام عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ الاَنَام لکھتے ہیں :  وَیُکْرَہُ الِاعْتِجَارُ اَنْ یَلُفَّ الْعِمَامَۃَ حَوْلَ رَاْسِہِ وَیَدَعَ وَسطَہَا کَمَا تَفْعَلُہُ الدَّعرَۃُ وَمُتَوَشِّحًا لَا یُکْرَہُ یعنی :  اعتجار مکروہ ہے اور وہ یہ ہے کہ سر کے گرد عمامہ باندھ لیا جائے اوراس کے درمیان کو کھلا چھوڑ دیا جائے جیسا کہ شرارتی اور فُسّاق لوگ کرتے ہیں اور پورا سر ڈھکا ہونے کی صورت میں کراہت نہیں ہے۔  (فتح القدیر، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ، فصل ویکرہ للمصلی ان یعبث بثوبہ الخ، ۱/ ۳۵۹)

اعلٰی حضرت اور مسئلۂ اعتجار

        امام اہلسنّت ، مجدد ِدین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو نہ چھ گز سے زیادہ، اور اس کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے، عرب شریف کے لوگ جیسا اب باندھتے ہیں طریقہ سنّت نہیں اسے اِعتِجار کہتے ہیں کہ بیچ میں سر کھلا رہے اور اعتجار کو علماء نے مکروہ لکھا ہے۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، ۲۲/ ۱۸۶)

صدر الشریعہ اور مسئلۂ اعتجار

        صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں : ’’ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اِعتِجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اِعتِجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔ ‘‘ (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/ ۳۹۹)

           فقیہِ ملّت اور مسئلۂ اعتجار

        فقیہ ملِّت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اِعتِجار کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال (عمامہ سر پر اس طور پر باندھا کہ بیچ میں ٹوپی زیادہ کھلی رہی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی؟) کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :  حضرت صدر الشریعۃ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اِعتِجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اِعتِجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔ ‘‘(فتاویٰ امجدیہ ، ۱/ ۳۹۹) اس کے حاشیہ میں فقیہِ اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز تحریر فرماتے ہیں ’’اختار ما فی الظھیریۃ واما العمامۃ لا مکشوف اصلاً لانہ فعل مالا یفعلہ ففیہ نظر لان کثیراً من جفات الاعراب یلفون المندیل و العمامۃ حول الراس مکشوف الھامۃ بغیر قلنسوۃ‘‘ اس سے ظاہر ہوا کہ صورتِ مسؤلہ میں نماز مکروہ تنزیہی ہو گی نہ کہ تحریمی تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمگیری و شامی وغیرہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وَسطِ رَأس (یعنی سر کا درمیانی حصہ) بالکل مَکشُوف (یعنی کھلا) ہو ٹوپی وغیرہ کوئی چیز بیچ میں نہ ہو۔  و اللّٰہ  تَعالٰی اعلم (فتاویٰ فقیہ ملت ، ۱/ ۱۸۴)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا اگر کسی نے ٹوپی پر عمامہ یوں باندھا کہ صرف ٹوپی کا اوپر والا حصہ کھلاہو اور ٹوپی دکھائی دے رہی ہو تو یہ اِعتجار نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں نہ تو اہلِ کتاب اور مشرکین سے کوئی مشابہت ہے اور نہ ہی فُّسّاق اور اوباش لوگوں کے عمل سے کوئی مشابہت ہے۔  

(2)اعتجار کی دوسری صورت

       بالوں کو رومال سے سر پر لپیٹ لے اور یہ صورت عَاقِصِ شَعَر (یعنی بالوں کاجُوڑا بنانے) کی طرح ہو گی اور عَقصِ شَعَر مکروہ ہے جیسا کہ حدیث مبارک ہے حضرت سیّدنا ابو رافع  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  نَہٰی رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَ سَلَّم اَنْ یُّصَلِّی الرَّجُلُ وَ رَاْسُہ مَعقُوصٌ ، یعنی :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے بالوں کو سر پر (جُوڑے کی طرح) باندھ کر نماز پڑھنے سے مردوں کو منع فرمایا ہے۔  (مصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب کف الشعر والثوب، ۲/ ۱۲۰، حدیث : ۲۹۹۵)

(3)اعتجار کی تیسری صورت

 



Total Pages: 101

Go To