Book Name:Imamay kay Fazail

(۱)کبھی عمامہ مبارک کے دو شملے ہوتے جو پشتِ اطہر پر نور برساتے تھے جیسا کہ   حضرت سیّدنا جَعْفَر بِن عَمْرْو بِن حُرَیْث رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :  میں گویا اب بھی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس طرح دیکھ رہا ہوں کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر سیاہ عمامہ شریف سجائے اس طرح تشریف فرما ہیں کہ اس کے دونوں شملے پشت مبارک پر لٹک رہے ہیں ۔  (مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ۱/ ۴۴۰)

پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا

دیکھیں موسیٰ طور سے اُترا صحیفہ نور کا

(۲)کبھی کبھار عمامے کے دو شملوں میں سے ایک سامنے کی جانب جبکہ دوسرا پشتِ مُنَوَّر پر ہوا کرتا تھا چنانچہ

        حضرت سیّدنا ثوبان رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب عمامہ شریف باندھتے تو اپنے آگے اور پیچھے شملہ لٹکاتے۔  (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد، ۱/ ۱۱۰، حدیث : ۳۴۲،  مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی العمائم، ۵/ ۲۰۹، حدیث : ۸۴۹۹)

جبریلِ امین کے عمامے کے دو شملے

       حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ   

سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سیاہ عمامہ باندھے حاضر ہوئے ، آپ کے عمامے کے دو شملے تھے جنہیں آپ نے پشت مبارک پر لٹکا رکھا تھا۔

  (مسند الرویانی، ۱/ ۳۷۲، حدیث : ۵۶۹)

اعلٰی حضرت کا دو شملوں والا عمامہ

       میرے آقا  اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن عمامے کے دو شملے چھوڑنے کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :  (عمامے کے دو شملے چھوڑنا) حدیث سے میرے خیال میں ہے کہ خود حضورِ اَقدس صَلَّی  اللّٰہ  تَعالٰی عَلیہ وَسَلَّم نے دو شملے چھوڑے ہیں ۔  (مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ۱/ ۴۴۰)  خیال ہے کہ (حضرت سیّدنا) معاذ بن جبل رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر دستِ اقدس سے عمامہ باندھا اور دو شملے چھوڑے اور (حضرت سیّدنا) عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر اپنے دستِ انور سے عمامہ باندھنا اور آگے پیچھے دو شملے چھوڑنا سنن ابی داؤد میں ہے۔  (ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی العمائم، ۴/ ۷۷، حدیث : ۴۰۷۹)  تو یہ (دو شملے چھوڑنا) سنّت ہوا نہ کہ معاذ اللّٰہ  بدعتِ سیئہ (بُری بدعت)۔  فقیر اسی سنّت کے اِتِّباع سے بارہا دو شملے رکھتا ہے۔  مگر شملہ ایک بالشت سے کم نہ ہونا چاہئے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۱۹۹)     

شملے کی ایک صورت تحنیک

        ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کبھی تحنیک فرمایا کرتے تھے۔  اس کی صورت یہ ہے شملے کو بائیں جانب سے ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر دائیں جانب عمامے میں اَٹکا لینا۔  (مدارج النبوت ، باب یازدہم درعادات شریف، نوع دوم در لباس آنحضرت ، وصل عمامہ شریف ، ۱/ ۴۷۱)

        بعض تابعینِ عُظّام اور علماء و محدثینِ کرام رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے اس سنّت کو اپنا معمول بنا لیا تھا جیسا کہ حضرت سیّدنا امام مالک رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی مسجد میں ایسے ستر افراد دیکھے کہ جنہوں نے عمامے کو یوں باندھ رکھا تھا کہ شملہ ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر دائیں جانب عمامے میں اَٹکا رکھا تھا وہ ایسے امانت دار تھے کہ ان میں سے کسی کو بھی بیتُ المال پر مامور کیا جا سکتا تھا۔  دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جاتی تو لوگ ضرور سیراب کیے جاتے۔  

(سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۸۰)

       امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی حافظ عبدالحق اِشبِیلی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ تحنیک اولیٰ ہے اس لیے کہ یہ طریقہ گردن کو سردی اور گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔  نیز گھوڑے، اونٹ پر سواری اور دشمن پر حملے کرتے ہوئے عمامے میں تحنیک اَثبَت ہے۔

 (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۸۱)

صحابۂ کرام کے عماموں کے شملے

 (1)حضرت سیّدنا سَائِب بن یزید عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  المَجِید فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا آپ نے اپنے عمامے کا شملہ اپنی پشت پر لٹکا رکھا تھا۔

  (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز۱۵، ۸/ ۲۰۵، حدیث : ۴۱۹۰۱)

 (2)حضرت سیّدنا حسن بن صالح رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ’’مجھے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا عمامہ دیکھنے والے نے بتایا کہ آپ نے شملہ آگے اور پیچھے لٹکا رکھا تھا۔ ‘‘ (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۸)

 (3)حضرت سیّدنا ابو اَسد بن کُریب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عباس رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما کو عمامہ باندھتے دیکھا تو آپ نے اپنے عمامے کا ایک بالشت شملہ کندھوں کے درمیان اور ایک بالشت اپنے سامنے لٹکایا۔  (ایضاً)

حضرت علامہ محمد بن عثمان ذہبی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے اسی روایت میں عمامے کے رنگ کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ وہ سیاہ عمامہ شریف تھا۔

 (سیر اعلام النبلاء ، من صغار الصحابۃ، عبد  اللّٰہ  بن عباس البحر، ۴/ ۴۵۴)

 (4)حضرت سیّدنا محمد بن قیس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما کی یوں زیارت کی کہ آپ رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما نے عمامہ شریف باندھاہوا تھا جس کا ایک شملہ آگے اور ایک پیچھے لٹکایا ہوا تھا۔ حضرت سیّدنا محمد بن قیس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  میں نہیں جانتا ان میں سے کون سا شملہ لمبا تھا۔  (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ



Total Pages: 101

Go To