Book Name:Imamay kay Fazail

        اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرء وف مناوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ نمازِجمعہ کے بارے میں سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا طریقہ تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام عمامہ باندھ کر ہی ادا فرماتے ، حتی کہ مَنقُول ہے کہ اگر حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کبھی جمعہ کے وقت عمامہ شریف نہ پاتے تو مختلف کپڑے جوڑ کر ان کا عمامہ باندھ لیا کرتے۔  

(فیض القدیر، حرف الصاد، ۴/ ۲۹۷، تحت الحدیث : ۵۱۰۱)

(6) حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جمعہ کے دن ہمارے پاس عمامہ شریف باندھ کر ہی تشریف لاتے اور (عام دنوں میں ) کبھی کبھار تہبند و چادر مبارک میں تشریف لاتے اور اگر (جمعہ کے روز) کبھی عمامہ شریف نہ پاتے تو مختلف کپڑے جوڑ کر ان کا عمامہ باندھ لیا کرتے۔

 (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۱)

باعمامہ اسلامی بھائی لُٹنے سے بچ گئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بالیقین عمامہ شریف سجانے سے نیکیوں میں خوب اضافہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات تو عمامہ شریف کی سنّت پر عمل کی برکات کا یوں ظہور ہوتا ہے کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  دنیوی نقصان سے بھی محفوظ فرمادیتا ہے جیسا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی شہرۂ آفاق تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘کے باب ’’نیکی کی دعوت ‘‘میں فرماتے ہیں :  داڑھی، زلفوں سے مُزَیَّن سنّتوں بھرے لباس میں ملبوس با عِمامہ رہنے والے ایک مبلِّغِ دعوتِ اسلامی جوکہ ’’ مَدَنی اِنعامات ‘‘ کے عامل ہونے کے ساتھ ساتھ تنظیمی طور پر اِس کے ذِمّے دار بھی ہیں ۔ ان کا کچھ اِس طرح بیان ہے کہ ایک بار میں جیب میں کافی رقم لئے حیدرآباد( بابُ الاسلام سندھ پاکستان) سے بابُ المدینہ کراچی آنے کیلئے بس میں سُوار ہوا۔ بس ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ چلی ہو گی کہ اچانک مختلف نِشَستوں سے چار پانچ افراد ایک دم اسلحہ (اَس۔ لَ۔ حہ) تان کر کھڑے ہو گئے۔  ان میں جو سب سے قد آور تھا اُس نے لپک کر ڈرائیور کو ایک زور دار طمانچہ جَڑ دیا اور اسے دھکیل کر ڈرائیونگ سیٹ پر قَابِض ہو گیا، بَس ایک کچّے راستے میں اُتار دی گئی، اب ڈاکوؤں نے چلتی بس میں ہرایک کی جامہ تلاشی لینی اورلوٹناشُروع کر دیا۔ بس میں شدیدخوف وہراس تھا، میں بھی ایک دم سہما ہوا تھا، میری اگلی نِشَست پر مضبوط قدوقامت کے نوجوان بیٹھے تھے اور مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ڈاکوؤں کے خلاف مُزاحَمَت کریں اور وہ گولی چلا دیں ۔  بہرحال میں نے احتیاطاً تجدیدِ ایمان کرنے کے بعد آنکھیں بند کرلیں ، میرے برابر جو صاحِب بیٹھے ہوئے تھے ایک ڈاکو نے اُن کی تلاشی لی او ر جوہاتھ آیا چھین لیا۔ مگر مجھے ہاتھ نہ لگایا، دوسرا ڈاکو آیا اُس نے بھی انہیں صاحِب کی تلاشی لی، مزید اُن کی کسی جیب سے 100 روپے کا نوٹ برآمد ہوا وہ بھی لُوٹ لیا اور مجھے چَھیڑے بِغیر جانے لگا ، تیسرے ڈاکو نے میری طرف اشارہ کرکے آواز دی مولانا صاحِب کو مت لُوٹنا یہ دیکھ کر میرے پیچھے بیٹھے ہوئے کسی مُسافر نے موقع پا کر اپنی رقم کی گڈّی میری پیٹھ کی طرف کُرتے کے اندرسَرکا دی ، کسی خاتون نے پیچھے سے سونے کا لاکِٹ نیچے میرے پاؤں کی طرف پھینک دیا( اِس کا علم مجھے بعد میں ہوا) بہرحال ڈاکو لوٹ مار کرنے کے بعد بس سے اُترے اور فِرار ہوگئے۔  اب بس کے لُٹے ہوئے مُسافروں کی آواز نکلی ، شور وغُل اور وَاویلا شُروع ہو گیا ، کسی نے میری طرف اشارہ کر کے چِلّا کر کہا :  اِس مولانا کو پکڑ لو یہ ڈاکوؤں کا آدمی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ہم سب کو لُوٹا اس کو نہیں لوٹا، میں ڈر گیا کہ اب گئے! یہ لوگ کہیں مجھے توڑ پھوڑ نہ ڈالیں ، یکایک غیبی مدد یوں آئی کہ انہیں مسافِروں میں سے کسی نے کچھ اس طرح کہا :  نہیں نہیں بھائیو! یہ شریف آدمی ہے ، اِ س کا لباس اور چِہرہ نہیں دیکھتے! بس اِس کی نیکی آڑے آ گئی اور بچ گیا، ہم لوگ گنہگار ہیں ، ہمیں گناہوں کی سزا ملی ہے۔  ان اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے :  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ پہلے ڈاکوؤں سے حفاظت ہوئی اور بعد میں لُٹے ہوئے مسافروں کی طرف سے آنے والی شامت دُور ہوئی۔  یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت کی ’’ مَدَنی بہار‘‘ ہے کہ میں داڑھی، زلفوں اور عمامہ شریف کا تاج سجائے سنتوں بھرے لباس میں ملبوس رہتا ہوں ورنہ مجھے بھی شاید بے دردی سے لوٹ لیا جاتا۔  مَدَنی ماحول سے وابَستگی سے قبل میں فُل ماڈَرن رہتا اور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا کرتا تھا۔  اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کرم ہوا کہ مجھ گنہگار کو دعوتِ اسلامی نے توبہ کا راستہ دکھایا ، نَمازی بنایا، سنّتوں کا رنگ چڑھا یا، حُضُور غوثِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سلسلے میں مُرید بننے کا شَرَف دلایا، نیک بننے کے نُسخے یعنی مَدَنی اِنعامات کا عامِل اور اپنے پیر صاحِب کی طرف سے ملنے والے ’’ شجرہ ٔ قادِریہ رضویہ‘‘ کے کچھ نہ کچھ اَوراد پڑھنے والا بنایا جِس میں ایک وِرد یہ بھی ہے :   بِسْمِ اللہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللہِ عَلیٰ نَفسِیْ وَ وُلْدِیْ وَ اَھلِیْ وَ مَالِیْ یعنی اللہ تَعَالٰی کے نام کی بَرَکت سے میرے دین، جان ، اولاد اوراہل ومال کی حفاظت ہو۔ (ترجمہ پڑھنا ضروری نہیں ، اوّل آخِر ایک بار درود شریف پڑھ لیجئے) فضیلت :  یہ دعا جو روزانہ صبح و شام تین تین بار پڑھ لے اُس کے دین ، ایمان ، جان ، مال ، بچّے سب محفوظ رہیں

 (اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  

         اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  میں روزانہ صبح و شام یہ وِرد پڑھتا ہوں ، میرا حُسنِ ظن ہے کہ ڈاکوؤں سے حفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت سے اِسی وِرد کی بَرَکت سے ہوئی ہے۔ جب دنیا میں اِس کا یہ ثَمَر( یعنی فائدہ) ہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مرتے وَقت ایمان بھی سلامت رہے گا۔ میری تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے مَدَنی التجا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہیں اور مکتبۃُ المدینہ سے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ حاصِل کر کے اُس کے مطابِق زندَگی گزارنے کی کوشِش کریں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں جہانوں میں بیڑاپار ہو گا۔   (نیکی کی دعوت، ص ۲۹۹)

صبح و شام کی تعریف

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی  ماحول کی بھی کیا خوب مَدَنی بہاریں ہیں ! مذکورہ وِرد کرنے کے اوقات یعنی ’’ صبح و شام‘‘ کی تعریف بھی سمجھ لیجئے، چُنانچِہ مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ ’’اَلوَظِیفَۃُ الکَرِیمَہ‘‘ صَفحہ 12پر ہے : آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک ’’صُبح ‘‘ہے۔  اس سارے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے صُبح میں پڑھنا کہیں گے اوردوپَہَر ڈھلے (یعنی ابتِدائے وقتِ ظُہر) سے لے کر غُرُوبِ آفتاب تک ’’شام ‘‘ہے۔  اِس پورے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے شام میں پڑھنا کہیں گے۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 101

Go To