Book Name:Imamay kay Fazail

        پھر ایک آواز سنائی دی :  ’’کیا تم ہی لقمان ہو؟ ‘‘آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا :  ’’جی ہاں ! میں ہی لقمان ہوں ۔ ‘‘ پھر آواز آئی : ’’ کیا تم حکیم ہو ؟‘‘ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا : ’’ مجھے ہی لقمان حکیم کہا جاتاہے۔ ‘‘ پھر آواز آئی :  ’’ تمہارے اس نا سمجھ بیٹے نے تم سے کیا کہا ہے ؟‘‘ حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا : ’’ اے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے بندے! تو کون ہے ؟ ہمیں صرف تیری آواز سنائی دے رہی ہے اور توخود نظر نہیں آرہا۔ ‘‘ پھر آواز آئی : ’’میں جبرائیل (عَلَیہِ السَّلاَم) ہوں اور مجھے صرف انبیاء کرام عَلَیہِمُ السَّلاَم اور مقرّب فرشتے ہی دیکھ سکتے ہیں ، اس وجہ سے میں تجھے نظر نہیں آرہا ، سنو! میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فلاں شہر اور اس کے آس پاس کے لوگو ں کو زمین میں دھنسا دوں ۔  مجھے خبر دی گئی ہے کہ تم دونوں بھی اُسی شہر کی طرف جا رہے ہو تو میں نے اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ وہ تمہیں اس شہر میں جانے سے روکے۔  لہٰذا اُس نے تمہیں اِس آزمائش میں ڈال دیاا ور تیرے بیٹے کے پاؤں میں ہڈی چبھ گئی، اِس طرح تم اِس چھوٹی مصیبت کی و جہ سے ایک بہت بڑی مصیبت (یعنی زمین میں دھنسنے ) سے بچ گئے ہو ۔ ‘‘

         پھر حضرت سیّدنا جبرائیل عَلَیہِ السَّلاَم نے اپنا ہاتھ اُس زخمی لڑکے کے پاؤں پر پھیرا تو اُس کا زخم فوراً ٹھیک ہو گیا۔  پھر آپ عَلَیہِ السَّلاَم نے اپنا ہاتھ اس بر تن پر پھیرا جس میں پانی بالکل ختم ہوچکا تھا تو ہاتھ پھیر تے ہی وہ بر تن پانی سے بھر گیا اور جب کھانے والے بر تن پر ہاتھ پھیرا تو وہ بھی کھانے سے بھر گیا ۔  پھر حضرت سیّدنا جبرائیل عَلَیہِ السَّلاَم نے حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ، آپ کے بیٹے اور آپ کی سواریوں کو سامان سمیت اٹھایا اور کچھ ہی دیر میں آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ اپنے بیٹے اور سارے سامان کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھے حالانکہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کا گھر اس جنگل سے کافی دن کی مسافت پر تھا۔  (عیون الحکایات ، الحکایۃ الثانیۃ و التسعون الخ، ص ۱۰۹)

جبریلِ امین کا ریشمی عمامہ

        حضرت علامہ بدرالدین عینی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے اِستِیعَاب کے حوالے سے حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام کے ریشمی عمامے کا ذکر بھی کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا سَعد بن مُعاذ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے جنازے میں حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام اِستَبرَق (یعنی موٹے ریشمی کپڑے) کا عمامہ شریف باندھے تشریف لائے۔

  (عمدۃ القاری ، کتاب الہبۃ و فضلہا، باب قبول الہدیۃ من المشرکین، ۹/ ۴۴۰، تحت الحدیث : ۲۶۱۵)

مردوں کو ریشمی عمامہ منع ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے ہمارے لئے ریشمی عمامہ باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔

  (ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب کراہیۃ لبس الحریر، ۴/ ۱۵۵، حدیث :  ۳۵۸۹)

             بعض دوسری روایات سے ریشم کی تھوڑی سی مقدار کے بارے میں جو رعایت ثابت ہوتی ہے اس کا بیان کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صَدرُالشَّریعہ، بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں :  ’’مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار اُنگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار اُنگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں ۔  اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔  (درمختارو ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۰) یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار اُنگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔  عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے، لہٰذا یہ پلّو بھی چار اُنگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔  (بہارِ شریعت، ۳/ ۴۱۱) مزید فرماتے ہیں :  ٹوپی میں لیس لگائی گئی یا عمامہ میں گوٹا لچکا لگایا گیا، اگر یہ چار اُنگل سے کم چوڑا ہے جائز ہے ورنہ نہیں ۔  (بہارِ شریعت، ۳/ ۴۱۲)

عمامہ شریف کے فضائل (احادیث کی روشنی میں )

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عُشّاق کیلئے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ عمامہ شریف نبیٔ اکرم، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سُنّت ہے اگرچہ عمامہ شریف کی فضیلت میں کثیر احادیث وَارِد ہیں آپ کی ترغیب و تَحرِیص کے لئے ’’حضور نے سبز عمامہ بھی باندھا ‘‘کے 23 حروف کی نسبت سے عمامہ شریف کے فضائل پر مشتمل 23 روایات درج ذیل ہیں :  

(1)حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس ایک شخص آیا اور سوال کیا :  ’’اے ابوعبدالرحمن کیا عمامہ باندھنا سنّت ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا :  ہاں (سنّت ہے)۔

 (عمدۃ القاری ، کتاب اللباس، باب العمائم، ۱۵/ ۲۲)

بُردبار بننے کا آسان عمل

(2)حضرت سیّدنا ابن عبا س رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما روایت فرماتے ہیں : رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اِعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا یعنی عمامہ باندھو تمہارا حِلْم بڑھے گا۔  (معجم کبیر، عبد  اللّٰہ  بن العباس ، ۱۲/ ۱۷۱، حدیث : ۱۲۹۴۶)  یہی روایت سیّدنا اُسامہ بن عُمیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے بھی مروی ہے ۔  (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز :  ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث :  ۴۱۱۲۷)

        حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  (عمامہ باندھو) تمہارا حلم بڑھے گا اور تمہارا سینہ کشادہ ہو گا کیونکہ ظاہری وضع قطع کا اچھا ہونا انسان کو سنجیدہ اور باوقار بنا دیتا ہے نیزغصے ، جذباتی پن اورخسیس حرکات سے بچاتا ہے ۔ (فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱/ ۷۰۹، تحت الحدیث : ۱۱۴۲)

حِلم ایک بے بہا دولت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلا شبہ حِلم(بُردباری) ایک ایسی بے بہا دولت ہے کہ لاکھوں بلکہ اربوں روپے میں بھی خریدی نہیں جا سکتی لیکن نبیٔ اکرم ، نُورِمُجَسَّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر قربان کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت پر شفقت و احسان فرما تے ہوئے انتہائی آسان عمل ارشاد فرمادیا کہ جس کی بدولت ہم غصے اور جذباتی پن سے نجات پا کر اپنے اندر قوتِ برداشت پیدا کر سکتے ہیں ۔  جیسا کہ حضرت علامہ محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی حدیث نقل فرماتے ہیں کہ  

(3)حضرت سیّدنا اُسامہ بن عُمیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاًروایت ہے وَاعْتَمُّوا تَحلِمُوا یعنی عمامے باندھو بُردبار ہو جاؤ گے۔  (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص۱۰ مختصراً)

 



Total Pages: 101

Go To