Book Name:Imamay kay Fazail

        حضرت سیّدنا عبد العزیز بن عبد اللّٰہ  مَاجِشُون رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ روایت فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام غزوۂ خندق کے روز گھوڑے پر سوار شہنشاہِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔  آپ نے سیاہ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جس کا شملہ آپ کے کندھوں کے درمیان تھا نیز آپ کے سامنے والے دانتوں پر (سفر کی وجہ سے ) کچھ گرد کے آثار بھی تھے۔  (طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ و سلم إلی بنی قریظۃ ۲/ ۵۸)

جبریلِ امین زرد عمامے میں

         حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام غزوۂ بدر میں زرد (پیلے) رنگ کا عمامہ باندھ کر تشریف لائے تھے چنانچہ حضرت سیّدنا عُروَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام بدر کے روز حضرت سیّدنا زبیر بن عَوَّام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی طرح زرد عمامہ باندھ کر آئے تھے۔  (معجم کبیر، نسبۃ الزبیر بن العوام رضی  اللّٰہ  عنہ ، ۱/ ۱۲۰، حدیث : ۲۳۱)

جبریلِ امین کا سفید عمامہ

        حضرت علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ’’تفسیر دُرِّ مَنثور ‘‘ جلد6 صفحہ514 پر نقل فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا لقمان حکیم  رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام کو گھوڑے پر سوار سفید عمامے میں دیکھا۔  (درِ منثور، پ ۲۱، لقمان، تحت الآیۃ :  ۱۳، ۶/ ۵۱۴ملتقطاً)

حضرت لقمان حکیم کی سبق آموز حکایت

       دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’عُیُونُ الحکایات (مُتَرجَم)‘‘ حصہ اوّل صفحہ 175 پر ہے : حضرت سیّدنا سعید بن مُسَیَّب رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ حضرت سیّدنا لقمان حکیم  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الرَّحِیم نے اپنے بیٹے کو (نصیحت کرتے ہوئے ) فرمایا :  ’’اے میرے پیارے بیٹے! جب بھی تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو تُو اسے اپنے حق میں بہتر جان اور یہ بات دِل میں بٹھالے کہ میرے لئے اسی میں بھلائی ہے اگر چہ بظاہر وہ مصیبت ہی نظر آرہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تیرے حق میں بہتر ہو گی۔ ‘‘

        یہ سن کر آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کا بیٹا کہنے لگا :  ’’جو کچھ آپ (رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ ) نے فرمایا میں نے اس کو سن لیا اور اس کا مطلب بھی سمجھ لیا لیکن یہ بات میرے بس میں نہیں کہ میں ہر مصیبت کو اپنے لئے بہتر سمجھوں ، میرا یقین ابھی اتنا پختہ نہیں ہوا ۔ ‘‘

        جب حضرت سیّدنا لقمان حکیم عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الرَّحِیم نے اپنے بیٹے کی یہ بات سنی تو فرمایا : ’’ اے میرے بیٹے !   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے دنیامیں وقتاً فوقتاً انبیاء کرام عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم مَبعُوث فرمائے ، ہمارے زمانے میں بھی   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے نبی عَلَیہِ السَّلَام کو مبعوث فرمایا ہے آؤ، ہم اس نبی عَلَیہِ السَّلاَم کی صحبت بابر کت سے فیضیاب ہونے چلتے ہیں ، ان کی باتیں سن کر تیرے یقین کو تقویت حاصل ہو گی۔ ‘‘ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کا بیٹا   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے نبی  عَلَیہِ السَّلاَم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہو گیا ۔

         چنانچہ ان دونوں نے اپنا سامانِ سفر تیار کیا، اور خچروں پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طر ف روانہ ہو گئے ۔  کئی دن ، رات انہوں نے سفر جاری رکھا، راستے میں ایک ویران جنگل آیا وہ اپنے سامان سمیت جنگل میں داخل ہوگئے ،  اللّٰہ    تَعَالٰی  نے ان کو جتنی ہمت دی اتنا انہوں نے جنگل میں سفر کیا ، پھر دو پہر ہو گئی ، گرمی اپنے زور پر تھی، گرم ہوائیں چل رہی تھیں ، دَرِیں اَثناء (یعنی اسی دوران) ان کا پانی اور کھانا وغیرہ بھی ختم ہوگیا ، خچر بھی تھک چکے تھے، پیاس کی شدت سے وہ بھی ہانپنے لگے، یہ دیکھ کر حضرت لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ اور آپ کا بیٹا خچروں سے نیچے اتر آئے اور پیدل ہی چلنے لگے۔  چلتے چلتے حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کو بہت دور ایک سایہ اور دھواں سا نظر آیا، آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے گمان کیا کہ وہاں شاید کوئی آبادی ہے ، اور یہ کسی درخت وغیرہ کاسایہ ہے، چنانچہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ اسی طرف چلنے لگے ۔  راستے میں آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کے بیٹے کو ٹھوکر لگی اور اس کے پاؤں میں ایک ہڈی اس طرح گھسی کہ وہ پاؤں کے تلوے سے پار ہوکر ظاہر قدم تک نکل آئی آپ َرحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کابیٹادرد کی شدت سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑاآپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے اسے اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اپنے دانتوں سے ہڈّی نکالنے لگے۔  کافی مُشَقَّت کے بعد بالآخر وہ ہڈی نکل گئی۔  

        بیٹے کی یہ حالت دیکھ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ شَفقَت ِپِدرَانَہ کی وجہ سے رونے لگے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے  اپنے عمامے سے کچھ کپڑا پھاڑا اور اسے زخم پر باندھ دیا۔  حضرت لقمان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جب اُن کے بیٹے کے چہرے پر گرے تو اسے ہوش آ گیا، جب اس نے دیکھا کہ میرے والد رو رہے ہیں توکہنے لگا :  ’’اے ابا جان! آپ تو مجھ سے فرما رہے تھے کہ ہر مصیبت میں بھلائی ہے ۔ لیکن اب میر ی اس مصیبت کو دیکھ کر آپ رونے کیوں لگے ؟‘‘ اور یہ مصیبت میرے حق میں بہتر کس طرح ہوسکتی ہے؟ حالانکہ ہماری کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہوچکی ہیں ، اور ہم یہاں اس ویران جنگل میں تنہا رہ گئے ہیں ، اگر آپ مجھے یہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے تو آپ کو میری اس مصیبت کی وجہ سے بہت رنج وغم لاحِق رہے گا ، اور اگر آپ یہیں میرے ساتھ رہیں گے تو ہم دو نوں یہاں اس ویرانے میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے ، اب آپ خود ہی بتائیں کہ اس مصیبت میں میرے لئے کیا بہتری ہے ؟‘‘

        بیٹے کی یہ باتیں سن کر حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا : ’’ اے میرے بیٹے! میرا رونا اس وجہ سے تھا کہ میں ایک باپ ہوں اور ہر باپ کااپنی اولاد کے دکھ درد کی وجہ سے غمگین ہوجانا ایک فِطری عمل ہے، باقی رہی یہ بات کہ اس مصیبت میں تمہارے لئے کیا بھلائی ہے؟ تو ہو سکتا ہے اس چھوٹی مصیبت میں تجھے مبتلا کر کے تجھ سے کوئی بہت بڑی مصیبت دو ر کردی گئی ہو ، اور یہ مصیبت اس مصیبت کے مقابلے میں چھوٹی ہو جو تجھ سے دور کر دی گئی ہے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کا بیٹا خاموش ہو گیا۔  

         پھر حضرت سیّدنا لقمان رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے سامنے نظر کی تو اب وہاں نہ تو دھواں تھا اور نہ ہی سایہ وغیرہ ، آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ دل میں کہنے لگے :  ’’میں نے ابھی تو اس طر ف دھواں او رسایہ دیکھا تھا لیکن اب وہ کہاں غائب ہو گیا ، ہوسکتا ہے کہ ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ہماری مدد کے لئے کسی کو بھیجا ہو، ابھی آپ اسی سوچ بِچار میں تھے کہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کو دور ایک شخص نظر آیا جو سفید لباس زیب تن کئے، سفید عمامہ سر پر سجائے، چتکبرے گھوڑے پر سوار آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا چلا آرہا ہے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ اس سوار کو اپنی طرف آتا دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آپ کے بالکل قریب ہوگیا ، پھر وہ سوار اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔  

 



Total Pages: 101

Go To