Book Name:Imamay kay Fazail

فرما ہوتے ، جب کہ عُذر کی بنا پر چار زانوں ہو کر اور کبھی کبھی اِحْتِبَاء کی حالت میں (یعنی گھٹنے کھڑے کر کے کپڑے کے ذریعے پیٹھ اور گھٹنوں کو باندھ کر) تشریف فرما ہوتے تھے۔  یہ سب سُننِ زَوَائِد (یعنی سنّت ِغیر مؤکدہ ) ہیں ان کو اپنانے والا ثواب کا حقدار ہوتا ہے اور ترک کرنے والے پر گرفت نہیں ، یہ سنّت ، مستحب کی طرح ہے لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ مستحب وہ ہے جس کو علماء کرام پسند فرمائیں جب کہ سننِ زوائد رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عاداتِ مبارکہ ہیں ۔  (نور الانوار ، مبحث الاحکام المشروعیۃ ، ص۱۷۱)

خلاصہ یہ ہے کہ عما مہ شریف باندھنا سُنَنِ زَوَائِد (یعنی سنّت ِغیر مؤکدہ ) میں سے ہے چنانچہ عمامہ باندھنے والا ثواب کا حقدار ہے اور نہ باندھے تو گناہگار نہیں ۔  البتہ عُشّاق کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّتِ مبارک ہے جیسا کہ

         حضرت سیّدنا حسن رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کَانَ رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَسَلَّم یَعتَمُّ وَیَرخٰی عِمَامَتَہ بَینَ کَتِفَیہِ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف باندھتے اور عمامہ شریف کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔  (طبقات ابن سعد ، ذکر لباس رسول  اللّٰہ  الخ، ۱/ ۳۵۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تصوُّر ہی ذَوق افزا ہے کہ ہم پیارے سرکار، مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ایک پیاری پیاری سُنّت ادا کر رہے ہیں ۔  عاشِقوں کی تودُھن یِہی ہوتی ہے کہ فُلاں فُلاں کام ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کیا ہے بس اسی لئے ہمیں بھی کرنا ہے۔  

ا ونٹنی پر پھیرے لگانے کی حکمت

        حضرت سیِّدُنا عبد اللّٰہ  ابنِ عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما بہت زیادہ متَّبِع سنّت تھے۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کوجب بھی کوئی سُنّت معلوم ہو جاتی تو اُس کی بَجَاآوری میں کسی قسم کی پَس و پَیش کا مُظاہَرہ نہ فرماتے۔  چُنانچِہ ایک بار کسی مقام پر آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اونٹنی کے ساتھ پَھیرے لگارہے تھے یہ دیکھ کر لوگوں کوتعجُّب ہوا۔  پوچھنے پر ارشادفرمایا :  ایک بار میں نے مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہاں اسی طرح کرتے دیکھا تھا ، لہٰذاآج میں اِس مقام پراُسی ادائے مصطَفٰے صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کوادا کر رہا ہوں ۔

(شرح الشفاء ، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واما ورد عن السلف والائمۃ من اتباع سنتہ، ۲/ ۳۰)

بتاتا ہوں تم کو میں کیا کر رہا ہوں

میں پھیرے جو ناقے کو لگوا رہا ہوں

مجھے شادمانی اسی بات کی ہے

میں سنّت کا ان کی مزا پا رہا ہوں

عمامہ شریف قرآن کے آئینے میں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف انبیاء و صا لحین اور فرشتوں کی ایسی قدیم سنّت ہے کہ اس کا ذکر انبیائے کرام عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تبرکات کے ضمن میں قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے چنانچہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتاہے :
وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠(۲۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور اِن (بنی اسرائیل ) سے ان کے نبی نے فرمایا :  اس (طالوت) کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت ، جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین (سکون) ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ، معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔  بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے، اگر ایمان رکھتے ہو ۔ ( پ ۲، البقرۃ :  ۲۴۸)

تابوتِ سکینہ کیا تھا؟

       حضرت  صَدرُالافاضِل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی عَلَیہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :  ’’یہ تابوت شَمشَاد کی لکڑی کا ایک زر اَندود (یعنی سونے کا کام کیا ہوا) صندوق تھا۔  جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا۔  اس کو  اللّٰہ    تَعَالٰی  نے حضرت آدم عَلَیہِ السَّلام پر نازل فرمایا تھا۔  اس میں تمام انبیاء عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصویریں تھیں ۔  ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سیدِ انبیاء صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہ وَسَلَّم کی اور حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی دولت سرائے اَقدَس کی تصویر ایک یاقوت ِسرخ میں تھی کہ حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ کے آپ کے اصحاب، حضرت آدم  عَلَیہِ السَّلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا، یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ عَلَیہِ السَّلام تک پہنچاآپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی چنانچہ اس تابوت میں اَلواحِ توریت (یعنی توریت شریف کی تختیوں ) کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون عَلَیہِ السَّلام کاعمامہ اور ان کا عصا اور تھوڑا سا’’ مَنّ ‘‘جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا، حضرت موسیٰ عَلَیہِ السَّلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی۔  آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں مُتَوارِث (بطورِ وِرَاثت منتقل)ہوتا چلا آیا۔  جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے، جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور  اللّٰہ   تَعَالٰی  نے ان پر عَمَالَقَہ (قوم) کو مُسَلَّط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حُرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے اَمراض و مَصائِب میں مبتلا ہوئے ۔  ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اِہانَت (بے حُرمتی) ان کی بربادی کا باعث ہے تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اس کو بنی اسرائیل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لئے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اس کی بادشاہی کے مُقِر (اقرار کرنے والے) ہوئے اور بے دَرَنگ (فوراً) جہاد کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا۔  طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت (سیّدنا)



Total Pages: 101

Go To