Book Name:Imamay kay Fazail

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نبیٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دارِ آخرت اختیار فرمانے کے بعد سے عادتِ جاریہ ہے کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے اپنے پیارے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلاموں میں اولیاء کرام اور علماء عظام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کو پیدا فرماتا ہے تاکہ وہ دینِ متین کی خدمت سرانجام دیں ۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ان مبارک ہستیوں کو غیرمعمولی علوم اور صلاحیتوں سے نوازتا اور انہیں اعلیٰ اخلاق وکردار کا پیکر بناتا ہے تاکہ لوگ ان کے قریب آئیں ، ان کے ملفوظات وبیانات سنیں ، بدعملی سے کنارہ کشی اختیار کریں اور اپنی زندگی کو میٹھے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں سے روشن و منوّر کریں ۔  ایسی ہی نمونۂ اسلاف شخصیات میں سے پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ہیں ۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے جہاں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو عشقِ رسول کی انمول نعمت سے نوازا ہے وہیں اِحیائِ سنّت کے عظیم جذبے سے بھی مالامال فرمایا ہے۔  فرائض و واجبات سے بے اعتنائی کے اس پُرفتن دور میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے لاکھوں نوجوانوں کو نہایت احسن انداز میں نہ صرف آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کا گرویدہ بلکہ مستحبات کا بھی عامل بنا دیا ہے۔  احیائِ سنّت کے سلسلے میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمات اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کردار وگفتار میں ایسی تاثیر عطا فرمائی ہے کہ لاکھوں لاکھ مسلمان آپ کے پُرسوز بیانات اور مدنی مذاکرات سن کر سنّتوں کے عاشق بن گئے، جو کل تک داڑھی شریف جیسی عظیم سنّت سے اپنے آپ کو محروم کر کے عملاً شیطان کو خوش کرتے تھے آج ان کے چہرے داڑھی شریف کے نور سے جگمگا رہے ہیں ، کل تک جو فیشن کے طور پر ننگے سر رہنے اور مختلف انداز سے انگریزی بال بنا کر اپنے آپ کو لوگوں میں نمایاں کرنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے آج ان کے سروں پر سُنت کے مطابق زلفیں بہاریں لُٹا رہی ہیں اورسبز سبز عمامہ شریف کا تاج ان کے لباس کا جُزوِلاَ یُنفَک بن چکا ہے نیز انہوں نے فیشن پرستی سے ناطہ توڑ کر سنّتوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے یقینا یہ سب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مخلصانہ کاوِشوں ہی کا ثمر ہے شاید یہی وجہ ہے کہ آج اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے جذبۂ احیاء سنّت کی ہر سو دھوم ہے، عوام و خواص سبھی آپ کی خدمتِ احیائِ سنّت کے معترف ہیں حتی کہ علماء ومشائخِ اہلسنّت کَثَّرَ ھُمُ  اللّٰہ  تَعَالٰی اپنے تأثرات میں اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ’’ آج تک ہم ٹوپی کو جن لوگوں کے لباس کا حصہ نہ بنا سکے امیرِ ہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ان کے سروں پر عمامے سجا دئیے ہیں ۔ ‘‘ یقینا آج کے نوجوانوں کے برہنہ سروں کو آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمامہ شریف جیسی عظیم سنّت سے ڈھانپ دینا آپ کا فیضان ہے۔  

امیرِ اہلسنّت کا عمامہ شریف سے قلبی لگاؤ

        عمامہ شریف کی سنّت سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قلبی لگاؤ اور محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہمہ وقت عمامہ شریف سجائے رکھتے ہیں بلکہ ہر مسلمان کے لئے عمامہ شریف اپنانے کا خواب آنکھوں میں سجائے رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ وقتاً فوقتاً عمامہ شریف کی رغبت دلاتے رہتے ہیں ، یوں تو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کثیر بیانات اور مدنی مذاکروں میں عمامہ شریف کے فضائل اور ترغیبات موجود ہیں لیکن مدنی مذاکرہ نمبر ۱۴، ۵۹، ۱۴۶، ۱۶۰، ۱۷۴، ۲۲۳ میں بالخصوص آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے عمامہ شریف کے حوالے سے کثیر معلومات عطا فرمائی ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے دلکش و دلنشین انداز میں ترغیب دلانے پر بسا اوقات ایک ہی وقت میں سینکڑوں نوجوان اپنے سروں پر عمامہ شریف کا تاج سجا لیتے ہیں نیز کئی لوگ آپ کے ایک اشارے پر عمامہ شریف کے پابند بن چکے ہیں ۔  ایک مَدَنی مذاکرے کے دوران ارشاد فرمایا : ’’میں نے اپنے سینکڑوں استعمالی عمامے لوگوں میں تقسیم کئے ہیں تاکہ وہ عمامے باندھیں ۔  ‘‘آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بارہا اپنے مبارک ہاتھوں سے اسلامی بھائیوں کے سروں پر عمامہ شریف باندھ کر انہیں دُعائے اِستقامت سے بھی نوازا۔  اسی طرح اگر کوئی عالم صاحب عمامہ شریف بندھوانے کی خواہش کرتے ہیں تو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اٹھ کر فوراً عمامہ شریف باندھ دیتے ہیں جیسا کہ ایک بار ملکِ شام سے تشریف لائے ہوئے جامع المغربیۃ دمشق کے مدیر اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم بُزرگ پیر طریقت حضرت علامہ مولانا شیخ رجب دیب حَفِظَہُ  اللّٰہ  تَعَالٰی اور دیگر شامی علمائے کرام جب امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی رہائش گاہ پر ملاقات کیلئے تشریف لائے تو انہوں نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے عمامہ شریف بندھوانے کی فرمائش کی تو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سب کو سبز عمامے باندھ دیئے۔  جب کسی اسلامی بھائی کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہ عمامہ شریف کا تاج سجاچکا ہے تو آپ بے حد خوش ہوتے اور دُعائیں دیتے ہیں ۔  یہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی کا فیضان ہے کہ ہر طرف عمامہ شریف کی بہاریں ہیں ، کیا بوڑھے کیا بچے اور کیا نوجوان لاکھوں لاکھ مسلمان عمامہ شریف باندھنے کی سعادت حاصل کرکے بارگاہ الٰہی سے اجر وثواب کے حقدار بن رہے ہیں ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آج ننھے ننھے مدنی منّوں کی زبان پر بھی اس نعرے کی گونج سنائی دیتی ہے ’’سر پہ عمامہ سجا رہے گا اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ‘‘

        امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کی عمامہ شریف کو عام کرنے کی کوششوں کو علماء و مفتیانِ کرام نے جس انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے ان میں سے چند کے تأثرات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی

(رئیس مرکزی دار الافتاء جامعہ اشرفیہ مبارکپور ، ہند)

        مولانا محمد الیاس صاحب اس زمانے میں فی سبیل  اللّٰہ  بغیر مشاہرے اور نذرانے کی طرف طمع کے خالص  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اور اس کے حبیب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا جوئی کے لئے اتنا عظیم الشان کام عالمگیر پیمانے پر کر رہے ہیں ۔  جس کے نتیجہ میں بدعقیدہ، صحیح العقیدہ سنّی ہوگئے اور لاکھوں شریعت سے بیزار افراد شریعت کے پابند ہوگئے۔  بڑے بڑے لکھ پتی، کروڑ پتی، گریجویٹ (حضرات) نے داڑھیاں رکھیں ، عمامہ باندھنے، پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرنے اوردینی باتوں میں دلچسپی لینے لگے۔  کیا یہ کارنامہ اس لائق نہیں کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قبول ہو۔  حضورِ اَقدَس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْنے فرمایا : ’’مَن تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِندَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہٗ اَجرُمِائَۃِ شَھِیدٍ‘‘ (مشکوٰۃ ، ص۳۸ حدیث : ۶۷۱ المکتب الاسلامی بیروت)یعنی میری امّت کے بگڑنے کے وقت جو میری سنّت کا پابند ہوگا اس کو  سو۱۰۰  شہیدوں کا ثواب ملے گا ۔  جب امت کے بگڑنے کے وقت سنّت کی پابندی کرنے والے کیلئے سوشہیدوں کا ثواب ہے تو جو بندۂ خدا سنّت کا پابند ہوتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو ایک نہیں اکثر سنّتوں کا پابند بنادے اس کا اجرکتنا ہوگا۔  

 



Total Pages: 101

Go To