Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

حضرت سَیِّدُناخواجہ غرىب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے آستانہ مُبارکہ پر روزانہ اس قدرلنگر کااہتمام ہوتا کہ  شہر بھر سے غُرباو مَساکىن آتے اور سىرہو کر کھاتے۔

خادم جب اَخْراجات کے لیے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بارگاہ میں دست  بستہ عرض کرتاتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمُصلّے کا کنارہ اُٹھادیتے جس کے نىچے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے خزانہ ہی خزانہ نظر آتا۔چنانچہ خادم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حکم سے حسبِ  ضرورت لے لیتا ۔ ([1])

وصالِ پُر ملال

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کی شب بعض بزرگوں نے خواب مىں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب،  دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:میرے دین کا مُعین حسن سَنْجری آرہا ہے مىں اپنے مُعىنُ الدّىن کے اِستقبال  کے لیے آىا ہوں۔چنانچہ۶رجبُ المرجب ۶۳۳ھ بمطابق 16 مارچ 1236ء بروز پیر فجر کے وقت محبین انتظار میں تھے کہ پیرومُرشد آ کر نمازِ فجر پڑھائیں گے مگر افسوس!ان کا انتظار کرنا بے سُودرہا ۔کافی دیرگزرجانے کے بعد جب خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی  عَلَیْہ  کے حجرے شریف کا دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو غم کا سمندر اُمنڈ آیا، حضرت سَیِّدُنا خواجہ خواجگان سُلطانُ الہند مُعىنُ الدّىن حسن چشتى اجمىری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی وصال فرما چکے تھے۔اور دیکھنے والوں نے یہ حیرت انگیز و روحانی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی نورانی پیشانی پر یہ عبارت نقش تھی:حَبِیْبُ اللهِ مَاتَ فِیْ  حُبِّ اللهِ (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا محبوب بندہ محبتِ الٰہی میں وصال کرگیا) ۔  ([2])

مزار شريف  اور عرس مبارک

سُلطانُ الھند خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا مزار اقدس ہند کے مشہورشہر اجمیرشریف  (صوبہ راجستھان شمالی ہند ) میں ہے۔ جہاں ہر سال آپ کا عرس مبارک ۶رجبُ المرجب کو نہایت تُزک و اِحتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ کی نسبت سےعُرس مُبارک کو ” چھٹی شریف“ بھی کہاجاتا ہے اس عُرس میں ملک و بیرون ملک سے ہزاروں افرادبڑے جوش و جذبے سے شرکت کرکے خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے  اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔

خواجہ کے صدقے صحت یابی  

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسُنَّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: حضرت خواجہ (غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے مزار سے بہت کچھ فُیُوض و برکات حاصل ہوتے ہیں،  مولانا برکات احمد صاحب مرحوم جو میرے پیر بھائی اور میرے والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگرد تھے اُنہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ ایک غیرمسلم جس کے سر سے پیر تک پھوڑے تھے،  اللہعَزَّ  وَجَلَّ   ہی جانتا ہے کہ کس قَدْر تھے ، ٹھیک دوپہر کو آتا اور درگاہ شریف کے سامنے گرم کنکروں اور پتھروں پرلَوٹتا اور کہتا ”کھواجہ اگن (یعنی اے خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  جلن) لگی ہے“۔تیسرے روز میں نے دیکھا کہ بالکل اچھا ہوگیا ہے ۔ ([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مجلس مزاراتِ اولیا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے، سنتوں کی خوشبوپھیلانے، عِلْمِ دین کی شمعیں جلانے اور لوگوں کے دلوں میں اولیاءُاللہ کی محبت و عقیدت بڑھانے میں مصروف ہے۔تادمِ تحریردنیا کے کم وبیش200 ممالک میں اس کا مَدَنی پیغام پہنچ چکاہے۔ساری دنیا میں مَدَنی کام کومنظم کرنے کے لئے تقریباً 92سے زیادہ مجالس قائم ہیں، انہی میں سے ایک’’مجلسِ مزاراتِ اولیا‘‘بھی ہے جودیگر مدنی کاموںکے ساتھ ساتھ بُزرگانِ دین کے مزاراتِ مبارکہ پر حاضر ہوکر  مُختلف دینی خِدمات سرانجام دیتی ہے۔مثلاًحتَّی المَقدُورصاحبِ مزارکے عُرس کے موقع پراِجتماعِ ذکرونعت  کااِنعقادکرتی ہے، مزارات سے مُلْحِقہ مساجِد میں عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفرکرواتی اوربالخصوص عُرس کے دنوں میں مزارشریف کے اِحاطے  میں سُنّتوں بھرےمَدَنی حلقے لگاتی ہے جن میں وُضو، غُسل، تیمم، نمازاور ایصالِ ثواب



[1]     اقتباس الانوار، ص۳۷۶

[2]     اللہ کے خاص بندے عبدہ ، ص ۵۲۱ملخصاً وغیرہ

[3]     ملفوظات اعلی حضرت،  ص۳۸۴



Total Pages: 11

Go To