Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

ان کا نام احمد رفاعی ہے اورروئے زمین کا ہر عبادت گزار ان کے سامنے عاجزی سے پیش آئے گا۔([1])

آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ   کی پیدائش سے چالیس دن پہلے آپ کے ماموں حضرت سید منصور بطائحی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  خواب میں پیارے آقا محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار سے مشرف ہوئے،دیکھا  کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  ارشادفرما رہے ہیں :اے منصور ! چالیس دن بعد تیری بہن کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوگا اس کا نام احمد رکھنا اور جب وہ کچھ سمجھدارہوجائے تو اُسے تعلیم کے  لئے  شیخ ابُوالفضل علی قاری واسطی کے پاس بھیج دینا اور اس کی تربیت سے ہرگزغفلت نہ برتنا۔اس خواب کے پورے چالیس دن بعدحضرت سَیِّدُنااحمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  اس دنیا میں جلوہ افروز  ہوگئے۔([2])

سات دَرْویشوں کی سات بشارتیں

بچپن میں آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کےقریب سے سات دَرْویشوں کاگزر ہوا تو وہ ٹھہر کرآپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھنے لگے۔ان میں سے ایک نےکلمۂ طیبہ لَا اِلٰهَ اِلَّا الله  مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ الله پڑھا اور کہنے لگا:اس بابرکت درخت کا ظہور ہوچکا ہے ، دوسرے نے کہا: اس درخت سے کئی شاخیں نکلیں گی،تیسرے نے کہا:کچھ عرصے میں اس درخت کا سایہ طویل ہوجائے گا،چوتھے نے کہا:کچھ عرصے میں اس

 



[1]طبقات الصوفية للمناوی  ،۴/۱۹۱،دارصادر بیروت

[2]سیرت سلطان الاولیا، ص۴۴،ملخصاً



Total Pages: 34

Go To