Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی  عَلٰی مُحَمَّد

 ریاضت ومُجاہد ہ

حضرت سیِّد احمد کبیررفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے تَقْویٰ،پرہیز گاری اور قَناعت کا عالم یہ تھا کہ کبھی اپنے پاس دو قمیصیں نہ رکھتے، جب قمیص دھونی ہوتی تو دریا میں اترکر اس کا میل کچیل دور کرتے اوردھوپ میں کھڑے ہوکر اسے  خشک کرلیتے، دو تین دن بعد ہی کوئی ایک آدھ لقمہ کھاتے البتہ اگر کوئی مہمان آجاتا تو مریدوں کے گھر سے اس کے کھانے کا بند و بست کردیتے۔([1])

نَوافل کی کثرت

آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ     روزانہ چارسورَکعات نوافل  پڑھاکرتے  جن میں ایک ہزار مرتبہ سورۃُ الاخلاص پڑھتے  نیزروزانہ دو ہزار مرتبہ اِسْتِغْفاربھی کرتے۔ ([2])

اے کاش! ہم بھی فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات ،تلاوتِ قرآن، کثرت سے اِسْتِغْفاراور دُرُودِ پاک پڑھنے کے عادی بن جائیں ۔   

ایک سال تک نصیحت کی تکرار

آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   فرماتے ہیں کہ اىک دفعہ مىں عارف باللہ شىخ عبد الملک الخرنوتىعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے  پاس سے گزراتو  آپ نے مجھ سے فرمایا : اے احمد! مىں تجھ سے جو کہتا ہوں اسے ىاد رکھنا، مىں نے عرض کى : جی ہاں ، فرماىا :  غیر کی جانب متوجہ رہنے والاحق کو نہیں پا سکتا اورپِھسل جانے والاکبھی کامیاب نہیں ہوسکتا،  جس نے اپنے نَفْس کے نُقْصان کو نہ جانا اس کے تمام اوقات ناقص ہىں۔ پھر میں وہاں سے  رخصت ہوااور اىک سال تک اس کى تکرار کرتا رہا، پھردوبارہ آپ کى بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کى : مجھے وصىّت فرمائىں توآپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    نے  فرماىا :  عقل مندوں مىں جہالت ، طبىبوں مىں بىمارى اور دوستوں مىں بے وفائى بہت بری بات ہے۔ میں اىک سال تک   اس کى بھی تکرار کرتا رہا اورآپ کى نصىحتوں سے مجھے بہت فائدہ ہوا ۔([3])

 مخلوقِ خدا پر شَفْقت 

جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   کے جسم پر مچھر بىٹھ جاتا تو اسے نہ ہی خود اڑاتے اورنہ کسى کو اڑانے دىتےبلکہ  فرماتے :

  اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  نے جو خون اس کے حصے میں لکھ دیا ہے وہی پی رہا ہے اور جب آپ دھوپ میں چل رہے ہوتے اورکوئی ٹِڈی آپ کے کپڑوں میں سایہ دار جگہ پر بیٹھ جاتی توجب تک  اُڑنہ جاتی آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    اُسی جگہ ٹھہرے رہتےاور فرماتے : اس نے ہم سے سایہ حاصل کیا ہے۔ اسی طرح  جب آستىن پر بلى سو جاتى اور نماز کا وقت ہوجاتا تو آستىن کو کاٹ دىتےمگر بلى کو نہ جگاتے اور نماز سے فَراغت کے بعد آستین دوبارہ سی لیتے۔([4])

خارش زَدہ کتے کی خبر گیری

 اىک مرتبہ آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   نے اىک خارش زَدہ کتے کودىکھا جسے بستى والوں نےباہر نکال دیا تھا، آپ اسے جنگل مىں لےگئے اور اس پرسائبان بنایا نیز اسے   کھلاتے پلاتےاور ہر طرح سے اس کا خیال رکھتے رہے حتّی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    کی بھرپور توجُّہ کے نتیجے میں  جب وہ تَندُرُسْت ہوگیا توآپ نے اسے گرم پانى سے نہلاکر اجلا کردیا ۔([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی بُزرگانِ دین رَحمَہُمُاللّٰہُالْمُبِین کا طرزِ عمل ہمارے لئے قابلِ تقلید ہے لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ انسان تو انسان جانوروں سے بھی بدسُلوکی نہ کریں اوران کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئیں کیا خبرہمارا یہی عمل اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ    کی بارگاہ میں قبول ہوجائے اورہماری دنیا وآخرت سنورجائے۔

 حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ایک فاحشہ عورت کی صرف اس لئے مغفرت فرما دی گئی کہ اس کا گزر ایک  کتے کے پاس سے ہو ا جو کنویں کی مُنْڈیر کے پاس پیا س کے مارےہانپ رہا تھا ،قریب تھا کہ شدتِ پیا س سے مرجاتا ۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتا ر کر دوپٹے سے باندھا اور پا نی نکال کر اسے پلایا تو یہی عمل اس کی بخشش کا سبب ہو گیا۔([6])

کوڑھیوں اور اَپاہجوں  کى خدمت

حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   کا یہ بھی معمول تھا کہ مریضوں  اور اپاہجوں کے پاس جاتےاور ان سے ہمدردی بھراسلوک کرتے  ان کے کپڑے دھوتے، ان کے سر اور داڑھیوں سے میل  صاف کرتے، ان کے پاس کھانا لے جاتے اوران کے ساتھ مل کر کھاتےاوربطورِ عاجزی  ان سے دُعائیں کرواتے ، اىک دن آپ  کا گزر  چند بچوں کےپاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے،آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    کو دیکھا تو  ہیبت کی وجہ سے بھاگ گئے آپ ان کے پىچھے گئے اورفرمایا :  مىرى وجہ سے تم ہیبت میں مبتلا ہوئے لہٰذا مجھے مُعاف کردو اوراپنا کھیل جاری رکھو ۔ ([7])

تم نے مجھے آداب سکھا ئے ہیں

اىک مرتبہ  آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ    کا گزر ایسی جگہ سے ہواکہ جہاں  بچے آپس میں جھگڑ رہے تھے ،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی  عَلَیْہنے انہیں ایک دوسرے سے الگ کردیا پھر  ایک بچے سے پوچھا : تم کس کے بیٹے ہو ؟بچے نے کہا :  اس کا کوئی مَقْصد نہیں پھر آپ  کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ آپ نے یہ الفاظ بار بار دہرائےاور فرمایا : اے بچے! تم نے مجھے آداب سکھادیئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    تمہیں  جزائے خىر عطا



[1]      سیر اعلام النبلاء ، ۱۵/  ۳۱۹، بتغیر ، دارالفکر بیروت

[2]     طبقات الصوفیة للمناوی ، ۲/ ۲۲۵

[3]      طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۱۹۷، دارالفکر بیروت

[4]     طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۲۰۰

[5]     طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۰ملخصاً

[6]     بخاری، كتاب بدء الخلق ، باب اذا وقع الذباب في شراب    الخ ، ۲/ ۴۰۹، حدیث:۳۳۲۱

[7]      طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۲۰۰، مفہوماً



Total Pages: 9

Go To