Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

فرماتا ہے۔حضرت سیدنا احمد کبیررفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بھی انہی بندگانِ خدا میں سے ایک کثیر الکرامات بزرگ ہیں آپ کی ذات سے وقتا فوقتا ایسے ایسے کمالات ظاہر ہوتے رہے جنہیں پڑھنے اور سُننے سے عقل دَنگ رہ جاتی ہے اور زبانِ شوق  سے بے اختیار سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔آئیے ہم بھی حصولِ برکت کے لئےآپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی چند  کرامات سنتے ہیں۔

﴿۱﴾دنیا میں جنّتی محل کی ضَمانت

ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا امام احمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  اپنے مرید خاص حضرت سَیِّدُنا جمال الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی خواہش پر ان کے لیے ایک باغ کی خریداری  کے لئے گئے توباغ کے مالک  شیخ اسماعیل نے کہاکہ اگراس باغ کے بدلے مجھے میری منہ مانگی چیز نہ ملی تومیں ہرگز نہ بیچوں گا،آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے اسماعیل !مجھے بتاؤاس کی  کیا قیمت چاہتے ہو؟ اس نے کہا:یاسَیِّدی!میں جنتی محل کے بدلے ہی یہ باغ آپ کو دے سکتا ہوں،آپ نے فرمایا:میں بھَلا کون ہوتا ہوں جو  مجھ سے جنّتی محل مانگ  رہے ہو، مجھ سے دنیا کی جو چیز چا ہومانگ لو،اس نے کہا: مجھے  دنیا کی کوئی چیزنہیں چاہیے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپناسر جھکایا چہرے کی رنگت تبدیل ہوکر پیلی پڑ گئی تھوڑی دیر بعدسر اٹھایا تو پیلاہٹ سُرخی میں تبدیل ہوگئی۔پھرفرمایا:اسماعیل!جو تم نے مانگا تھا میں نے اس  کے بدلے یہ باغ خریدلیا ہے۔ اس نے عرض کی: یاسَیِّدی !یہ بات مجھے لکھ کر عطا فرمادیں ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک کاغذ پر بِسْمِاللهشریف لکھنے کے بعد یہ عبارت تحریر فرمادی:

 



Total Pages: 34

Go To