Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے )تھوڑی دیر سر مبارک جھکایا پھر مجھ سے فرمایا: اے خضر! لویہ ہیں شیخ احمد ۔ اب جو میں دیکھوں  تواپنے آپ   کو حضرت احمد رفاعی کے پہلو میں پایا اورمیں نے اُن کو دیکھا کہ رُعب دار شخص ہیں میں کھڑا ہوا اورانہیں سلام کیا۔ اس پرحضرت رفاعی نے مجھ سے فرمایا : اے خضر! وہ جو شیخ عبدالقادرکو دیکھے جو تمام اولیا کے سردار ہیں وہ میرے دیکھنے کی تمنا(کیوں کرتا ہے؟)میں تو انہیں کی رَعِیَّت (یعنی ماتحتوں )میں سے ہوں،یہ فرماکر میری نظر سے غائب ہوگئے پھر حُضور سرکارِغوثیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے وصالِ اقدس کے بعد بغداد شریف سے حضرت سید ی احمد رفاعی کی زیارت کو اُمِّ عَبیدہ گیا انہیں دیکھا تو وہی شیخ تھے جن کو میں نے اس دن حضرت  شیخ عبدالقادررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو میں دیکھا تھا۔اس وقت کے دیکھنے نے کوئی اورزیادہ ان کی شناخت مجھے نہ دی۔حضرت رفاعی نے فرمایا : اے خضر! کیا پہلی(زیارت)تمہیں کافی نہ تھی۔

امام رفاعی اور اولیائے اُمَّت

امام رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی عَظمت و رِفعت اور قدر ومنزلت کے بیان میں بہت سے جلیلُ القدر اولیا اور بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کے ملفوظات ملتے ہیں آئیے ان میں سے تین ہَسْتیوں کے ملفوظات مُلاحَظہ کیجئے۔

کسی نے حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں امام رفاعیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے متعلق پوچھا تو ارشاد فرمایا :ان کا اَخلاق سرتاپا شریعت اورقرآن و سُنَّت کے عین مطابق ہےاور ان کا دلاللہ ربُّ العزت کے ساتھ مشغول ہے ۔انہوں نے سب کچھ



Total Pages: 34

Go To