Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

کی تائید دل نہ کرے بول کر نِفاق اور رِیا کاری کا ارتکاب تو نہیں کیا ؟ مثلاً اس طرح کہنا کہ میں حقیر ہوں ،کمینہ ہوں وغیرہ جب کہ دل میں خُود کو حقیر نہ سمجھتاہو۔([1])

عورت کی بد اَخْلاقی پر صبر

حضرت سَیِّداحمد کبیر رفاعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا ایک مریدجو کئی مرتبہ خواب میں آپ کو جنّت میں دیکھ چکا تھا لیکن   آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہسے اس کا  کوئی ذکر نہ  کیا تھا، ایک دن  آپ کی خدمت میں حاضر ہواتوآپ کی بیوی کو آپ سے بدسُلوکی کرتے پایا اورآپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس زیادتی  پر خاموش ہیں۔وہ مریدیہ دیکھ کر بے قرار ہوگیا اور دیگرعقیدت مندوں  کےپاس جا کر کہنے لگا: یہ حضرت پر اس قدر  زیادتی کرتی ہےاور تم خاموش رہتے ہو ؟کسی نے  کہا:اس کا مہر پانچ سو دینار ہے اور حضرت غَنی نہیں ہیں۔و ہ آدمی گیااورپانچ سو دینارلے کرآپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کردیئے، آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:یہ کیا ہے؟عرض کی: اس عورت کا حق مہر ہےجو آپ کے ساتھ بُراسُلوک  کرتی ہے،آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ

 

 



[1]امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِس پُرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے طریقہ کار پرمشتمل شریعت وطریقت کا جامِع مجموعہ بنام”مَدَنی انعامات“ بصورتِ سُوالات مُرتّب فرمایا ہے۔یہ دراصل خود احتسابی کا ایک جامع اور خود کار نظام ہے جس کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوجاتی ہیں اوراس کی برکت سے باجماعت نماز پڑھنے پراستقامت پانے، پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنتا ہے۔



Total Pages: 34

Go To