Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

 

آدمی درازعمر بھی پائے گا دنیا میں مال،عیش، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔([1])

مسکینوں اور بیواؤں کی دادرسی

آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سفر سے واپسی پر جب اپنی بستی کےقرىب پہنچتے تو سامان باندھنے والی رسی نکال لیتے اورلکڑیاں جمع کر کے اپنے سر پر رکھ لیتے آپ رَحْمَۃُ اللہ    ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی دیکھا دیکھی دیگر فُقرا بھی ایسا ہی کرتےاور شہر میں داخل ہوکر بىواؤں ،مسکینوں اَپاہجوں ، بىماروں ،نابیناؤں  اور بوڑھوں مىں وہ تمام لکڑیاں تقسىم کردىتے، آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کبھى بھى برائى کا بدلہ برائى سے نہ  دىتے۔([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نےہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا طرزِزندگی کس قدر خوب تھا کہ کہیں جانوروں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتے تو کہیں بیماروں کی تیمارداری کیا کرتے،کہیں محتاجوں اورپریشان حالوں کی دَسْت  گیری فرماتے تو کہیں نابیناؤں اور عمر رسیدہ لوگوں کی خَیر خواہی اور دِلجوئی فرمایاکرتے غرض یہ حضرات میٹھےآقا ،مدینے والے  مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس  فرمانِ ذیشان خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ یعنی بہترین شخص وہ ہے

 



[1] مرا ٰةالمناجیح،۶/۵۶۰،ضیاء القرآن

[2]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی ، ص۲۰۰



Total Pages: 34

Go To