Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

پھر  ایک بچے سے پوچھا:تم کس کے بیٹے ہو ؟بچے نے کہا: اس کا کوئی مَقْصد نہیں پھر آپ  کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ آپ نے یہ الفاظ بار بار دہرائےاور فرمایا:اے بچے! تم نے مجھے آداب سکھادیئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   تمہیں  جزائے خىر عطا فرمائے۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس واقعے سے معلوم ہواکہ ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن زبان کےمعاملے میں کس قدرحساس ہواکرتے تھے کہ اگرکوئی کم عمربھی اس بارے میں ان کی توجہ دلاتا تو اسے  ڈانٹنے دھمکانے کے بجائے  دعاؤں سے نوازتے ۔آئیے ہم بھی شیخِ طریقت ،امیرِاہلسُنَّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مستقل قُفلِ مدینہ تحریک میں شامل ہوکر زبان کی حفاظت کی ترکیب بنائیں ۔

مرے اخلاق اچھے ہوں مرے سب کام اچھے ہوں

بنادو مجھ کو تم پابند سنت یارسولاللہ!

(وسائل بخشش، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیمار وں کی عیادت

جب آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ گاؤ ں کے کسی شخص کی بیماری کا سنتے تو اس کے پاس جاکر اس کی عیادت کرتے اگرچہ راستہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہوتااور (کبھی کبھار)

 



[1]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۲۰۰



Total Pages: 34

Go To