Book Name:Faizan e Syed Ahmed Kabir Rafae

ایک سال تک نصیحت کی تکرار

آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اىک دفعہ مىں عارف باللہ شىخ عبد الملک الخرنوتىعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے  پاس سے گزراتو  آپ نے مجھ سے فرمایا:اے احمد! مىں تجھ سے جو کہتا ہوں اسے ىاد رکھنا، مىں نے عرض کى :جی ہاں ، فرماىا: غیر کی جانب متوجہ رہنے والاحق کو نہیں پا سکتا اورپِھسل جانے والاکبھی کامیاب نہیں ہوسکتا،  جس نے اپنے نَفْس کے نُقْصان کو نہ جانا اس کے تمام اوقات ناقص ہىں۔ پھر میں وہاں سے  رخصت ہوااور اىک سال تک اس کى تکرار کرتا رہا، پھردوبارہ آپ کى بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کى:مجھے وصىّت فرمائىں توآپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے  فرماىا: عقل مندوں مىں جہالت ، طبىبوں مىں بىمارى اور دوستوں مىں بے وفائى بہت بری بات ہے۔ میں اىک سال تک   اس کى بھی تکرار کرتا رہا اورآپ کى نصىحتوں سے مجھے بہت فائدہ ہوا ۔([1])

 مخلوقِ خدا پر شَفْقت 

جب آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے جسم پر مچھر بىٹھ جاتا تو اسے نہ ہی خود اڑاتے اورنہ کسى کو اڑانے دىتےبلکہ  فرماتے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جو خون اس کے حصے میں لکھ دیا ہے وہی پی رہا ہے اور جب آپ دھوپ میں چل رہے ہوتے اورکوئی ٹِڈی آپ کے کپڑوں میں سایہ دار جگہ پر بیٹھ جاتی توجب تک  اُڑنہ جاتی آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ

 

 



[1]طبقاتِ کبریٰ للشعرانی،  ص۱۹۷، دارالفکر بیروت



Total Pages: 34

Go To