Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

مبارک پور میں وسیع قطعِ اَرض پر الجامعۃُ الاشرفیہ(عربی یونیورسٹی )کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔([1])

اُستادکا ادب

حافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضورصدرُالشرىعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی  بارگاہ مىں ہمىشہ دوز انو بیٹھا کرتے ، اگرصدرُ الشرىعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ضرورتاً کمرے سے باہر  تشرىف لے جاتے تو طلبہ کھڑے ہوجاتے اوران کے جانے کے بعد بیٹھ جاتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ادباً دوبارہ کھڑے ہوتے لیکن حافظِ ملت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس پورے وقفے میں کھڑے ہی رہتے اور حضرت صدرُ الشرىعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مَسْندِ تدریس پر تشریف فرماہونے کے بعد ہی  بیٹھا کرتے ۔ ([2])

کتابوں کا ادب

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قىام گاہ پر ہوتے ىاد رس گاہ مىں کبھى کوئى کتاب لىٹ کر ىا  ٹىک لگا کر نہ پڑھتے  نہ پڑھاتے بلکہ تکىہ ىا تِپائی(ڈىسک)پر  رکھ لیتے،  قىام گاہ سے مدرسہ  ىا مدرسے سے قىام گاہ کبھى کو ئی  کتاب لے جانی  ہوتی  تو داہنے ہاتھ مىں لے کر سىنے سے لگالىتے،  کسى طالب علم کودیکھتے کہ کتاب ہاتھ میں لٹکا کرچل رہا ہے تو فرماتے: کتاب جب سىنے سے لگائى جائے گى تو سىنے مىں اترے گى اور جب کتاب کو سىنے سے دوررکھا جائے گا تو کتاب بھی  سىنے سے دور ہوگی ۔([3])

قرآنِ پاک کا ادب

ایک مرتبہ چھٹى کے بعد کئى طلبہ دارُالعلوم اہلسُنَّت اَشرفىہ کی سیڑھیوں کے پاس حضور حافظ ِملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت وملاقات  کے لئے منتظر کھڑے تھے آپ تشرىف لائے تو  سب طلبہ پاسِ ادب رکھتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چل  پڑے۔اچانک آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے ایک طالبِ علم سے فرمایا:  آپ آگے آگے چلیں ۔یہ سن کر وہ طالب علم جھجکےتو فرماىا: آپ کے پاس قرآن شرىف ہے اس لئے آگے چلنے کو  کہہ رہا ہوں۔([4])

محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے   اورمجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

                                                     (وسائل بخشش ، ص۱۹۳)

طلبہ پر شفقت

حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علمِ دین کے طلب گاروں سے بے پناہ مَحَبَّت فرمایاکرتے تھے ، طلبہ کو کسی غلطی پر مدرسہ سے نکال دینے کو سخت ناپسند کرتےاور فرماتے: مدرسے سے طلبہ کا اِخراج (یعنی نکال دینا )بالکل اىسا ہى ہے جىسے کوئى باپ اپنے کسى بىٹے کو عاق (علیحدہ )کردے ىا جسم کے کسى بىمار عضو کو کاٹ کر الگ کردے، مزید  فرماتے: انتظامى مَصالح (یعنی فوائد)کے پىش نظر اگرچہ ىہ شرعا مُباح ہے لىکن مىں اسے بھى اَبْغَض مُباحات (یعنی جائز مُعاملات میں   سخت ناپسند باتوں)سے سمجھتا ہوں۔([5])

وقت کی پابندی

حضور حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وقت کے اِنتہائی پابند اور قدردان تھے ہر کاماپنے وقت پرکیا کرتےمثلاً  مسجدِ محلّہ میں پابندى ِوقت کے ساتھ باجماعت نماز ادا فرماتے ،  تدریس کے اَوقات میں اپنى ذِمّہ دارى کو بحسن و خُوبى انجام دیتے،  چُھٹى کے بعد قىام گاہ پر لوٹتےاور  کھانا کھا کرکچھ دىر قَىْلُولہ(یعنی دوپہر کے وقت کچھ دیر کے لیے آرام ) ضرور فرماتے قىلولہ کا وقت ہمىشہ ىکساں رہتا چاہے اىک وقت کا مدرسہ ہو ىا دونوں وقت کا، ظُہر کے مُقررہ وقت پر بہرحال اُٹھ جاتے اورباجماعت نماز ادا کرنے کے بعد اگر دوسرے وقت کا مدرسہ ہوتا تو مدرسے تشریف لے  جاتے ورنہ کتابوں کا مُطالعہ فرماتےیا کسى کتاب سے  درس دىتے یا پھر حاجت مندوں کو تعوىذ عطا فرماتے ،  شروع شروع مىں عَصْر کى نماز کے بعد سیر وتفرىح کے لىے آبادى سے باہر تشرىف لے جاتے مگراس وقت بھی  طلبہ آپ کے ہمراہ ہوتے جو علمى سُوالات کرتے اورتَشَفّی بھر جوابات  پاتے ،  اگر کسى کى عىادت کے لىے جانا ہوتا تواکثر عَصْر کے بعد ہى جایا کرتے،  قبرستان سے گزرتے ہوئے اکثر سڑک پر کھڑے ہو کر قبروں پر فاتحہ اور اىصالِ ثواب کرتے۔مغرب کى نماز کے بعد کھانا کھاتے اور پھر اپنے آنگن(صحن ) مىں چہل قدمى فرماتے،  عشاء کى نماز کے بعد کتابوں کا مُطالَعہ کرتےاورساتھ ساتھ مُقىم طلبہ کى دىکھ بھال بھی  کرتے رہتے کہ وہ مُطالعہ مىں مصروف ہىں ىا نہىں۔ عُموماً  گىارہ بجے تک سوجاتے اورتَہجُّد کے لىے آخرِ شب مىں ا ُٹھتے،  تَہجُّد پڑھنے کے بعد بھى کچھ دىر کے لئے سوجاتے ،  رات مىں چاہے کتنی  ہى دیر جاگنا پڑتا فجر کبھى قَضا  نہ ہوتی ۔ ([6])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے  وقت کی قدر کریں اور  سستی اُڑا کردن بھر کے کاموں کا ایک جَدْول بنائیں تاکہ ہر کام وقت پر کرنے کے عادی بن سکیں۔ اسی ضمن میں شیخِ طریقت،  امیراہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ارشاد  فرماتے ہیں : کوشش کیجئے کہ صبح اُٹھنے کے بعد سے لے کر رات سونے تک سارے کاموں کے اوقات مقرَّر ہوں مَثَلاً اتنے بجے تَہجُّد، علمی مَشاغل ،  مسجد میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجماعت  نماز، اشراق ،  چاشت ، ناشتہ ،  کسبِ معاش ،  دوپہر کا کھانا ،  گھریلو مُعاملات ،  شام کے مَشاغِل ،  اچھی صُحبت (



[1]     حیات حافظ ملت، ص۶۵۰تا ۷۰۰ ،ملتقطاََ

[2]     حیات حافظ ملت،ص۷۰ ملخصاً

[3]     حیات حافظ ملت، ص۶۶بتغیر

[4]     حیات حافظ ملت، ص۶۶

[5]     حیات حافظ ملت، ص۱۸۱

[6]     حیات حافظ ملت، ص۷۹تا ۸۰ملخصاً



Total Pages: 9

Go To