Book Name:Zakhmi Sanp

مَحارِم کے جِسْم کی طرف دیکھنے کے اَحکام

{7}مَرد اپنی مَحارِم  (یعنی وہ خواتین جن سے رِشتے کے لحاظ سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہو مَثَلاً والِدہ، بہن ، خالہ ، پھوپھی وغیرہ ) کے سر ، چہرہ ، کان، کندھا ، بازو ، کلائی ، پنڈلی اورقدم کی طرف نظر کرسکتاہے جب کہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَ ت کا اندیشہ نہ ہو ۔   

  (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۴،۴۴۵)

{8}مَرْد کے لیے مَحارِم کے پیٹ ، کروٹ ، پیٹھ ، ران اورگُھٹنے کی طرف نظر کرنا جائز نہیں۔    (ایضاًص۴۴۵)   (یہ حکم اس وقت ہے جب جسم کے ان حصوں پر کوئی کپڑا نہ ہو اور اگر یہ تمام اعضا موٹے کپڑے سے چھپے ہوئے ہوں تو وہاں نظر کرنے میں حرج نہیں)

{9}   مَحارِ م کے جن اَعضا کو دیکھنا جائز ہے ان کو چُھونا بھی جائز ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو۔   (بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵)

ماں کے پاؤں دبانا

{10}مرد اپنی ماں کے پاؤں دبا سکتاہے ۔   مگر ران اُس وَقْت دبا سکتاہے جب کہ کپڑے سے  چُھپی ہوئی ہو ۔   ماں کی ران کو بھی بِلا حائل چُھونا جائزنہیں۔    (مُلَخَّص بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵)

ماں کی قدم بوسی کی فضیلت

{11} والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتاہے ۔   حدیثِ پاک میں ہے: ’’جس نے اپنی ماں کا پاؤں چُوما تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔    ‘‘  (اَلْمَبْسُوط لِلسَّرَخْسِی ج۵ص۱۵۶)

اِن رِشتے داروں سے پردہ ہے

{12}          تایا زاد، چچا زاد ،  ماموں زاد ،  پھوپھی زاد ،  خالہ زاد ،  سالی اوربہنوئی ،  بھابی اور دیور، جیٹھ ،  چچی،  تائی، مُمانی،  خالو،  پھوپھا ،  لے پالک بچہ جس کو ایّامِ رَضاعت ([1]) میں دودھ نہ پلایا ہو اوراب مردوعورت کے معاملا ت سمجھنے لگا ہومنہ بولے بھائی بہن ، منہ بولے ماں بیٹے، منہ بولے باپ بیٹی،  پیر اورمُریدَنی الغرض جن کی آپس میں شادی جائز ہے ان کا آپس میں پردہ ہے ۔    ہاں ایسی بڑھیا جو نہایت ہی بدشکل ہوکہ جس کو دیکھنے سے بِالکل شَہوَت کا شائبہ نہ ہو اس سے مرد کا پردہ نہیں۔   اس کے علاوہ کسی عورت کو دیکھنے سے شَہوَت ہو یا نہ ہو مرد بلا اجازتِ شَرعی نہیں دیکھ سکتا ۔   جن سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہے ان سے پردہ نہیں۔    ’’بہارِشریعت ‘‘  میں ہے کہ عورت کو شَہْوَت کا شُبہ بھی ہو تو اجنبی مَرد کی طرف ہر گز نظر نہ کرے۔   (بہارِ شریعت ج۳ ص ۴۴۳)  

                ساس سُسَر سے پردہ؟

{13}          حُرمَتِ مُصاہَرت کے سبب مرد کو اپنی ساس سے اور عورت کو اپنے سُسرسے پردے کے مُعامَلے میں رِعایت حاصِل ہوجاتی ہے۔    ہاں دونوں میں سے کوئی ایک اگر جوان ہے تو پردہ کرنا چاہئے یہی مناسب ہے۔    (حُر مَتِ مُصاہَرت کی تفصیلی معلومات کیلئے بہارِشریعت حصّہ 7 سے   ’’محرمات کا بیان ‘‘  مُلاحَظہ فرمالیجئے بلکہ نِکاح ،طلاق ، عدّت ،بچّوں کی پرورش وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے شادی سے قبل ہی اور نہیں پڑھا تو شادی کے بعد ہی سہی بہارِ شریعت حصّہ 7اور8ضَرور ضَرور ضَرور پڑھ لیجئے۔   )  

عورَت کا چہرہ دیکھنا

{14}          عورت کا چِہر ہ اگر چِہ عورَت نہیں مگر فتنے کے خوف کے سبب غیرمَحرَم کے سامنے مُنہ کھولنا مَنْع ہے ۔   اسی طرح اس کی طرف نظر کرنا غیرمَحرم کے لیے جائز نہیں اورچھُونا تو اوربھی زِیادہ مَنْع ہے ۔     (دُرِّمُختارج۲ص۹۷،بہارِ شریعت ج۱ص۴۸۴)  

 



[1]   یاد  رہے !  بچّے کو  ( ہجری سَن کے حساب سے)  دو سال کی عُمر تک دودھ پلایا جائے ۔ اس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں مگر ڈھائی سال کی عُمر کے اندر اندر عورت اگر اپنا دودھ پلا دے تو حُرمت ِ نِکاح ثابت ہو جائےگی یعنی اب یہ رَضاعی بیٹا ہے اس سے پردہ نہیں ۔  



Total Pages: 8

Go To